ahsan ali nizamani feature urdu
revised
احسن نظامانی:
رول نمبر: 7
بی ایس پارٹ:3
ڈائٹنگ،مجبوری یا شوق
رول نمبر: 7
بی ایس پارٹ:3
ڈائٹنگ،مجبوری یا شوق
ہائے ہائے کتنی موٹی ہورہی ہو، اس کودیکھا ہے پھیلتی ہی جارہی ہے، معلوم نہیں اس کا پیٹ ہے یا کیا، جب دیکھو کھاتی ہی رہتی ہے ہروقت، ارے ارے کچھ دن پہلے تک تو بڑی پتلی تھیں تمہیں ایک دم کیا ہوگیا، کون سی چکی کا آٹا کھا رہی ہو؟ ہمیں بھی تو بتاؤ، ہمیں توکچھ لگتا ہی نہیں، کم کرو خود کو زیادہ موٹاپا اچھا نہیں ہوتا، تھوڑی عجیب لگ رہی ہو، رشتے میں مسئلہ ہوگا، معلوم ہے لڑکوں کی کیسی کیسی ڈیمانڈ ہیں آج کل، اس لیے ذرا خیال کرو! ڈائٹنگ وائٹنگ کرو، رات کا کھانا چھوڑ دو، میٹھا چھوڑ دو، آئس کریم چاکلیٹس سب سے کنارہ کشی اختیارکرلو اور ہلکا پھلکا کھاؤ بلکہ ہوسکے تو ڈائٹنگ کے شروع شروع میں دلیا اور سلاد وغیرہ لو، پھر دیکھنا اچھی لگو گی۔
ا ف یہ ز مانہ ا و ر ا س کی حکایتیں، سمجھ سے با ہرہے کہ سب کے موٹاپے کی فکر اس بے چین زمانے کو کیوں ہوتی ہے، انہیں آخر بے چینی کیا ہے، موٹے ہوں یا دبلے، کالے ہوں یا پیلے، ناک لمبی ہو یا چھوٹی، یہ لوگ ہر موقع پر بڑے بڑے تجزیہ نگار کیسے بن جاتے ہیں۔ ہائے ہائے یہ ایسا ہائے ہائے وہ ویسا، ارے ان لوگوں سے لے کرکھاتے ہیں کیا جویہ لوگ ہر وقت پریشان رہتے ہیں اور دے دھنا دھن مشوروں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں جن میں کوئی دم خم نہیں اور وہ مشورے صدا سے چلتے آرہے ہوتے ہیں۔
لیکن ڈائٹنگ اب فیشن یا شوق نہیں رہا بلکہ موجودہ وقت کی ضرورت یا پھر مجبوری بن گیا ہے۔ جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا جا رہا ہے لوگ اپنے آپ کو دلکش اور پر کشش بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ موٹے لوگ دبلا ہونے کیلئے اور دبلے افراد موٹا ہوجانے کے خوف سے ڈائٹنگ کرتے ہیں کہیں کیٹو جینک تو کہیں ویجیٹیرین، کہیں انٹرمیٹینٹ تو کہیں ویگان ڈائٹ موضوع محفل مختلف اقسام کی ڈائٹ بننے لگی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر محفلوں میں خواتین کا موضوع گفتگو ڈائٹنگ ہی ہوتا ہے۔جبکہ انٹر نیٹ پر بھی اس حوالے سے کافی سرچ کیا جاتا ہے عہد حاضر میں چونکہ ڈائٹنگ فیشن نہیں بلکہ ایک ضرورت بن گئی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اپنی صحت کے حساب سے ڈائٹ پلان کا انتخاب کیا جائے تاکہ آپ کو مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں۔
جس طرح فیشن ٹرینڈز ہر سال تبدیل ہو جاتے ہیں اسی طرح ڈائٹیشن بھی ہر بدلتے ماہ و سال میں ڈائٹ پلان میں تبدیلی کرتے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر برس چند مخصوص ڈائٹ پلان پر عمل کیا جاتا ہے مثال کے طور پر 2017ء میں کیٹو جینک ڈائٹ پلان جبکہ 2018ء میں ڈائٹ پلان دیگر کے مقابلے میں خاصے مقبول ہوئے۔ خواتین کی بڑی تعداد نے ان ڈائٹ پلان پر عمل کیا تھا۔
اگر ڈائیٹیشن کی رائے جانیں تو ڈائیٹیشن جیکلن لندن کی رائے کے مطابق اچھی صحت اور سمارٹ نیس حاصل کرنے کیلئے کسی بھی ڈائٹ پلان کو منتخب کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنی عادتوں اور غذا میں اس پلان کے مطابق تبدیلی لائیں گے۔
خواتین کی رائے معلوم کی جائے تو کچھ تو بڑے اعتماد سے اپنے موٹاپے کو خوبصورتی سے ترجیح دیتی ہیں اور پر تپاک انداز میں موٹاپے کو سراہتی ہیں لیکن بہت سی خواتین مائرہ خان، صبا قمر اور مایا علی جیسی ناز ک اور فٹ نظر آنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ اور سب سے پہلا مرحلہ ڈائٹنگ ہی ہوتا ہے کچھ توبطور شوق اپنے اوپر جبر کرتی ہیں مگر بہت سی لڑکیاں اور خواتین مجبوری کے تحت کھانے سے ہاتھ کھینچتی ہیں۔
خواتین کی اس حوالے سے رائے کہ متوازن غذا کھانا اور ڈائٹنگ کرنا انتہائی اہم ہے اس سے نہ صرف جسم کنٹرول میں رہتا ہے بلکہ انسان پر اعتماد دکھائی دیتا ہے اور صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ ڈائٹنگ اگر ٹھیک طرح سے کی جائے اور فقط بھوکا رہ کر یا فاقے کر کے یہ سوچا جائے کہ وزن میں کمی آجائیگی تو یہ صرف بھول ہے۔ ڈائٹنگ شوق سے کی جائے یا مجبوری کے تحت لیکن کسی کے مشورے کے بغیر کرنا انتہائی غلط ہے۔
ا ف یہ ز مانہ ا و ر ا س کی حکایتیں، سمجھ سے با ہرہے کہ سب کے موٹاپے کی فکر اس بے چین زمانے کو کیوں ہوتی ہے، انہیں آخر بے چینی کیا ہے، موٹے ہوں یا دبلے، کالے ہوں یا پیلے، ناک لمبی ہو یا چھوٹی، یہ لوگ ہر موقع پر بڑے بڑے تجزیہ نگار کیسے بن جاتے ہیں۔ ہائے ہائے یہ ایسا ہائے ہائے وہ ویسا، ارے ان لوگوں سے لے کرکھاتے ہیں کیا جویہ لوگ ہر وقت پریشان رہتے ہیں اور دے دھنا دھن مشوروں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں جن میں کوئی دم خم نہیں اور وہ مشورے صدا سے چلتے آرہے ہوتے ہیں۔
لیکن ڈائٹنگ اب فیشن یا شوق نہیں رہا بلکہ موجودہ وقت کی ضرورت یا پھر مجبوری بن گیا ہے۔ جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا جا رہا ہے لوگ اپنے آپ کو دلکش اور پر کشش بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ موٹے لوگ دبلا ہونے کیلئے اور دبلے افراد موٹا ہوجانے کے خوف سے ڈائٹنگ کرتے ہیں کہیں کیٹو جینک تو کہیں ویجیٹیرین، کہیں انٹرمیٹینٹ تو کہیں ویگان ڈائٹ موضوع محفل مختلف اقسام کی ڈائٹ بننے لگی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر محفلوں میں خواتین کا موضوع گفتگو ڈائٹنگ ہی ہوتا ہے۔جبکہ انٹر نیٹ پر بھی اس حوالے سے کافی سرچ کیا جاتا ہے عہد حاضر میں چونکہ ڈائٹنگ فیشن نہیں بلکہ ایک ضرورت بن گئی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اپنی صحت کے حساب سے ڈائٹ پلان کا انتخاب کیا جائے تاکہ آپ کو مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں۔
جس طرح فیشن ٹرینڈز ہر سال تبدیل ہو جاتے ہیں اسی طرح ڈائٹیشن بھی ہر بدلتے ماہ و سال میں ڈائٹ پلان میں تبدیلی کرتے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر برس چند مخصوص ڈائٹ پلان پر عمل کیا جاتا ہے مثال کے طور پر 2017ء میں کیٹو جینک ڈائٹ پلان جبکہ 2018ء میں ڈائٹ پلان دیگر کے مقابلے میں خاصے مقبول ہوئے۔ خواتین کی بڑی تعداد نے ان ڈائٹ پلان پر عمل کیا تھا۔
اگر ڈائیٹیشن کی رائے جانیں تو ڈائیٹیشن جیکلن لندن کی رائے کے مطابق اچھی صحت اور سمارٹ نیس حاصل کرنے کیلئے کسی بھی ڈائٹ پلان کو منتخب کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنی عادتوں اور غذا میں اس پلان کے مطابق تبدیلی لائیں گے۔
خواتین کی رائے معلوم کی جائے تو کچھ تو بڑے اعتماد سے اپنے موٹاپے کو خوبصورتی سے ترجیح دیتی ہیں اور پر تپاک انداز میں موٹاپے کو سراہتی ہیں لیکن بہت سی خواتین مائرہ خان، صبا قمر اور مایا علی جیسی ناز ک اور فٹ نظر آنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ اور سب سے پہلا مرحلہ ڈائٹنگ ہی ہوتا ہے کچھ توبطور شوق اپنے اوپر جبر کرتی ہیں مگر بہت سی لڑکیاں اور خواتین مجبوری کے تحت کھانے سے ہاتھ کھینچتی ہیں۔
خواتین کی اس حوالے سے رائے کہ متوازن غذا کھانا اور ڈائٹنگ کرنا انتہائی اہم ہے اس سے نہ صرف جسم کنٹرول میں رہتا ہے بلکہ انسان پر اعتماد دکھائی دیتا ہے اور صحت بھی اچھی رہتی ہے۔ ڈائٹنگ اگر ٹھیک طرح سے کی جائے اور فقط بھوکا رہ کر یا فاقے کر کے یہ سوچا جائے کہ وزن میں کمی آجائیگی تو یہ صرف بھول ہے۔ ڈائٹنگ شوق سے کی جائے یا مجبوری کے تحت لیکن کسی کے مشورے کے بغیر کرنا انتہائی غلط ہے۔
This can be column, not feature,
Feature is always reporting based and has 5WS+1H.
pls write ur complete name in the text file, otherwise it will appear as u have written
ڈائٹنگ،مجبوری یا شوق
ہائے ہائے کتنی موٹی ہورہی ہو، اس کودیکھا ہے پھیلتی ہی جارہی ہے، معلوم نہیں اس کا پیٹ ہے یا کیا، جب دیکھو کھاتی ہی رہتی ہے ہروقت، ارے ارے کچھ دن پہلے تک تو بڑی پتلی تھیں تمہیں ایک دم کیا ہوگیا، کون سی چکی کا آٹا کھا رہی ہو؟ ہمیں بھی تو بتاؤ، ہمیں توکچھ لگتا ہی نہیں، کم کرو خود کو زیادہ موٹاپا اچھا نہیں ہوتا، تھوڑی عجیب لگ رہی ہو، رشتے میں مسئلہ ہوگا، معلوم ہے لڑکوں کی کیسی کیسی ڈیمانڈ ہیں آج کل، اس لیے ذرا خیال کرو! ڈائٹنگ وائٹنگ کرو، رات کا کھانا چھوڑ دو، میٹھا چھوڑ دو، آئس کریم چاکلیٹس سب سے کنارہ کشی اختیارکرلو اور ہلکا پھلکا کھاؤ بلکہ ہوسکے تو ڈائٹنگ کے شروع شروع میں دلیا اور سلاد وغیرہ لو، پھر دیکھنا اچھی لگو گی۔
ا ف یہ ز مانہ ا و ر ا س کی حکایتیں، سمجھ سے با ہرہے کہ سب کے موٹاپے کی فکر اس بے چین زمانے کو کیوں ہوتی ہے، انہیں آخر بے چینی کیا ہے، موٹے ہوں یا دبلے، کالے ہوں یا پیلے، ناک لمبی ہو یا چھوٹی، یہ لوگ ہر موقع پر بڑے بڑے تجزیہ نگار کیسے بن جاتے ہیں۔ ہائے ہائے یہ ایسا ہائے ہائے وہ ویسا، ارے ان لوگوں سے لے کرکھاتے ہیں کیا جویہ لوگ ہر وقت پریشان رہتے ہیں اور دے دھنا دھن مشوروں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں جن میں کوئی دم خم نہیں اور وہ مشورے صدا سے چلتے آرہے ہوتے ہیں۔
دوست احباب ہوں یا پڑوسی یا کوئی کولیگ، یا پھرکوئی بھی، ہم کسی کو کسی بھی وجہ سے کیوں تنقید کا نشانہ بنائیں، ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی موٹا یا بہت زیادہ موٹا ہوتواسے وہ موٹاپا پسند ہویااس پر موٹاپا ججتا ہویا وہ دس ہزار جتن کرچکا ہو اور وہ اپنے موٹاپے سے جان نہ چھڑا پایا ہو، یا وہ کسی بھی بیماری کا شکار ہو جس کے باعث اس کا موٹاپا بڑھتا ہی جارہا ہو۔اس میں دوسرے لوگ کیوں بے چین ہوجاتے ہیں، اس کی زندگی ہے وہ موٹا رہے یا پتلا، کالا رہے یا بھکا بھک سفید! اس سے سب کو کیا سروکار ہے یا پھر کچھ نہ کچھ تنقید کرنے کے لیے ایک موضوع چاہیئے کیونکہ ہمارے آس پاس ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو ہر وقت بے چینی اوراضطرابی کیفیت میں رہتے ہیں۔
رشتہ آئے یا نہ آئے، کوئی پسند کرے یہ نہ کرے، موٹے لو گ ا و ربھی موٹے ہو جا ئیں پر سو ا ل یہ ہے ا ن لوگوں کو تجزیہ کر نے کی دعوت کو ن دیتا ہے؟ایک تنقیدی اند ا ز ا و ر ایک سمجھانے کا ہنر، دونوں ہی عمل میں بہت فرق ہے، لیکن اس زمانے میں بہت کم لوگ ایسے ملیں گے جو اس پہلو سے مشورہ دیں گے کہ سامنے والے کی بہتری ہواوراسے واقعی اچھے اورمناسب مشورے دیے جائیں نہ کہ انہیں طعنہ، رشتے نہ آنے کی باتیں اورنہ جانے کیا کیا کہا جائے۔
کالے موٹے دبلے پتلے، خدا نے سب کو بنایا ہیاور سب کے اپنے اپنے نصیب ہیں تو کس بات کی تنقید، ہمیں اپنے مشوروں کو محدود رکھنا چاہیئے اگر وہ کسی کے لیے کارگر نہ ہوں اور وہ مشورے اگر محض تنقید کی غرض سے دیئے جارہے ہوں تو اچھا ہے کہ سب اپنے اپنے مشورے اپنے اپنے پاس ہی رکھیں۔
لوگ تو لمبے لمبے فلسفے جھاڑ کرپیچھے ہٹ جاتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ سامنے والا یہ ہی چیز سوچ سوچ کر پریشان ہوجائے، اس کی دل آزاری ہو، وہ خود کی ذات کو برا سمجھنے لگے، وہ دوسروں سے خود کا ہر پل موازنہ کرنے لگ جائے اور بہت کچھ۔
احسن۔۔
بی ایس پارٹ : 3
ر و ل نمبر: 7 0
Comments
Post a Comment