Arham khan آن لائن بینکنگ میں کیا چُھپا ہوا ہے
Before editing read comments on first version
This all info is available on net with single click
ارٹیکل: ارحم خان
رول نمبر -2k17: 18-mc
آن لائن بینکنگ میں کیا چُھپا ہوا ہے
انٹر نیٹ نے دیہی اور شہری زرائع موصلات کے ساتھ ساتھ آ ن لائن کاروبار ی نظام،سمیت متعدد معاملات کو آسان کردیا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں رقم کی منتقلی ایک بہت بڑا مسئلہ تھی، دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو بینک نہ ہونے کے باعث رقم کی ادائیگی اور وصولی کے لیے شہری علاقوں میں بامشکل رسائی کرنا پڑھتی تھی،اور بینکوں کے چکر کاٹنا پڑھتے تھے،لیکن اب بغیر کسی انتظار کے ایزی پیسہ کی مدد سے رقم کی وصولی کی جاسکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں آن لائن مارکیٹنگ کا رجحان وقت گزرنے کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہاہے۔ انٹر نیٹ نے آن لائن بینکنگ کی مدد سے نن فیزیکل رقم کی نقل و حمل کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ آن لائن بیکنگ میں چُھپے ہوئے سیکیو ر ٹی خدشات کو بڑھادیا ہے۔
آن لائن بینکنگ کے زریعے فری لانسنگ جیسے کام بھی با آسانی ممکن ہوگئے ہیں آپ ملک کے کسی بھی حصے میں رہے کر فنڈز ٹرانسفر کرنے کے ساتھ یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کرسکتے ہیں اوراسکے علاوہ طلب علموں کے لیے آن لائن کورس حاصل کرنے کے لئے فیس کی ادائیگی کو آسان کردیا ہے۔انٹرنیٹ بینکنگ میں کریڈٹ کارڈ، پے پاپل، ایزی پیسہ،اے ٹی ایم مشین،ایلکٹرونک بینکنگ وغیرہ شامل ہیں۔
آن لائن بینکنگ کے زریعے لوگ اپنے بینک اکاؤنٹ کو خود اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں۔جیسے جب چاہیں انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے رقم منتقلی،اکاؤنٹ بیلنس چیکنگ،بینک کی تفصیلات، پہلے کی گئی ٹرانسڈکشن، لون اسیٹمنٹ،رقم کی ادائیگی،رقم کی منتقلی اور بل پیمنٹ پر وسیسنگ وغیرہ کی جاسکتی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی روایتی بینکاری کی نسبت آن لائن بینکاری نے سائبرقرائم سے چوری کے عمل کو بڑھا دیا ہے۔
”آن لائن مارکیٹنگ میں شاپنگ کرتے ہوئے ا کانٹس معلومات ہیک ہوجانی کی وجہ سے لاکھوں کی رقم ہیکرز نے ہتیالی، رقم کی وصولی کے دوران اے ٹی ایم مشین میں ٹیکنکل فالٹ کے باعث۰۰۰۴۶ مالیت کی رقم چوری ہوگئی “ اے ٹی ایم میں ا سکیمرز کا استعمال ہونے کی وجہ کریڈیٹ کارڈ کی معلوما ت سکین کر کے لاکھوں روپوں کی رقم لوٹ لی گئی“آئے دن ہم اس طرح کی خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق صرف ۷۱۰۲ میں ۹۹۵ اکاونٹس ہیک کر کے ۰۱ ملین سے زائد رقم لوٹ لی گئی، لوٹی ہوئی رقم اینڈونیشیا، چائنہ اور دوسرے ممالک میں منتقل کی گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر کے مطابق ہمیں سیکیورٹی خدشات سے آگاہ ہونا لازمی ہے اور صارفین کو پتہ ہونا چاہئے کہ آن لائن ٹرانسڈکشن میں کس طرح سیکیورٹی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور ہیکنگ کا کتنا خدشہ ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بینکنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ۸۲ بینکوں کے ۱۳ لاکھ صارفین ہیں۔اور گزشتہ سال انٹرنیٹ بینکنگ کی بڑی تیزی میں ۰۳ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ بینکنگ میں بینکوں کے زریعے آن لائن خدمات جیسے انٹرا بینک فنڈ ٹرانسفر،شیڈولڈ فنڈ ٹرانسفر،یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی،کریڈٹ کارڈ پے منٹس اور اسکولوں کی فیس ادائیگی شامل ہے۔ مجموعی انٹرنیٹ بینکنگ میں ایک ہی بینک کے مختلف برانچوں کے مابین فنڈزاور ر قم کی فراہمی کا فیصد بالترتیب ۸سے۴۲ فیصد ہے۔اسی طرح مختلف بینکوں کے مابین فندز اور رقم کی فراہمی کا حصہ بالترتیب ۶سے ۶۳فیصد ہے۔اینٹرنیٹ بینکنگ میں یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کا تناسب ۱ سے ۵۳ فیصد ریکارڈ کیاگیا ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ اور دیگر سہولیات کی ادائیگیوں کی شرح ۴سے ۲ فیصد ہے۔
بہت سے انٹرنیٹ صارفین کے لئے آن لائن بینکنگ اکاونٹس کی سہولت ایک ضرورت بن گئی ہے۔ آن لائن بینک اکاؤنٹس کے زریعے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ سے بلوں کی ادئیگی،لین دین کی تلاش اور رقم کی منتقلی سے اپنے صارفین کے لیے بہت سی سہولیات پیش کرنا ہے۔
آن لائن بینکنگ کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پرسنل معلومات کو محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔صارفین کو چاہیے کہ آن لائن بینک استعمال کرتے وقت ایک ہی خفیہ نمبر یا پاس ورڈ مختلف بینک اکاؤنٹس میں استعمال کرنے سے ا جتناب کیا جائے۔ایسے لینک یا امیل کا جواب نہ دیا جائے جوخفیہ نمبر یا پاس ورڈ دھوکے سے معلوم کریں۔
ؓؓؓؓؓؓ
This all info is available on net with single click
Find some new aspect angle, like problems, issues etc
Write some thing from ur own mind.
Rural areas issues,
Referred back
رول نمبر -2k17: 18-mc
آن لائن بینکنگ میں کیا چُھپا ہوا ہے
انترنیٹ نے آن لائن بینکنگ کی مدد سے نن فیزیکل رقم کی نقل و حمل کو یقینی بنادیا ہے۔جس کے زریعے آپ ملک کے کسی بھی حصے میں رہے کر فنڈز ٹرانسفر کرنے کے ساتھ ساتھ یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کرسکتے ہیں اور اس کے علاوہ آن لائن کورس حاصل کرنے کے لئے فیس کی ادائیگی کو آسان کردیا ہے۔ انٹر نیٹ نے انسان کے لئے روبطہ سمیت متعدد معاملات کو آسان کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انٹر نیٹ کا استعمال وقت گزرنے کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہاہے۔
کاروباری و عام افراد کے لئے رقوم کی منتقلی وادائیگی ایک بہت بڑا مسلۂ تھی، لوگوں کو بینکس کے چکر کانٹنے پڑتے تھے مگر اب انٹرنیٹ کی بدولت یہ مسائل حل ہوگئے ہیں۔آن لائن بینکنگ کے زریعے لوگ اپنے بینک اکاؤنٹ کو خود اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں۔جیسے جب چاہیں انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے رقم منتقلی،اکاؤنٹ بیلنس چیکنگ،بینک کی،تفصیلات، پہلے کی گئی ٹرانزیکشن، لون اسٹیمنٹ،رقم کی ادائیگی،رقم کی منتقلی اور بل پیمنٹ پر وسیسنگ وغیرہ کی جاسکتی ہیں۔
آن لائن بینکنگ کو عام طور پر روایتی بینکاری سے محفوظ سمجھا جاتا ہے اپنی تنخواہ براہ راست اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروانے سے میل سے آپ کا چیک چوری ہونے کا خطراہ ختم ہوجاتا ہے۔ انٹرنیٹ بینکنگ کی بدولت بینکنگ کے نظام کو معیاری اور محفوظ آن لائن بینکنگ کی خدمات کی فراہمی کے لئے مختص کیا گیا ہے۔جوکہ آپ کی رقم کے تحفظ ااور آن لائن لین دین پر بھروسے کو بہتر بنانے کے لئے مثبت زریعہ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنرسعید احمدکے مطابق موبائل بینکنگ،الیکٹرونک بینکنگ اور ایزی پیسہ کامرس کے شعبہ میں ڈرائیونگ فورس ہے۔اس شعبہ میں کاروباری رجحان بڑھ رہاہے۔جو بینکنگ کے فروغ میں بھی بہت مددگار ثابت ہورہاہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بینکنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ۸۲ بنکوں کے ۱۳ لاکھ صارفین ہیں۔اور گزشتہ سال انٹرنیٹ بینکنگ کی بڑھ تیزی میں ۰۳ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ بینکنگ میں بینکوں کے زریعے آن لائن خدمات جیسے انٹرا بینک فنڈ ٹرانسفر،شیڈولڈ فنڈ ٹرانسفر،یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی،کریڈیٹ کارڈ پے منٹس اور اسکولوں کی فیس ادائیگی شامل ہے۔ مجموعی انٹرنیٹ بینکنگ میں ایک ہی بینک کے مختلف برانچوں کے مابین فنڈزاور ر قم کی فراہمی کا فیصد بالترتیب ۸سے۴۲ فیصد ہے۔اسی طرح مختلف بنکوں کے مابین فندز اور رقم کی فرہمی کا حصہ بالترتیب ۶سے ۶۳فیصد ہے۔اینٹرنیٹ بینکنگ میں یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کا تناسب ۱ سے ۵۳ فیصد ریکارڈ کیاگیا ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ اور دیگر سہولیات کی ادائیگیوں کی شرح ۴سے ۲ فیصد ہے۔
بہت سے انٹرنیٹ صارفین کے لئے آن لائن بینکنگ اکاونٹس کی سہولت ایک ضرورت بن گئی ہے۔ آن لائن بینک اکاؤنٹس کے زریعے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ سے بلوں کی ادئیگی،لین دین کی تلاش اور رقم کی منتقلی سے اپنے صارفین کے لیے بہت سی سہولیات پیش کرنا ہے۔
آن لائن بینکنگ کی مدد سے آپ اپنا اکاونٹ کی نگرانی کرسکتے ہیں۔موجودہ بیلنس، ادائیگی کے واجبات، زاخائر، واپسی اور شیڈول لین دین اکاونٹ کی نگرانی کرسکتی ہیں آن لائن بینکنگ نے ریگولیٹری ادائیگی کی خدمت پیش کی جو اپنے صارفین کو کاروباری مقامات پر اپنا ایزی پیسہ موبائل اکاونٹ استعمال کرنے اور اپنی خریداری کرنے کے لئے بل کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔آپ کو طویل عرصے تک کیش یا کارڈ لینے کی ضرورت نہیں۔صرف موبائل فون سے ہی رکھ سکتے ہیں اپنے بینک اکاونٹس کو مینج اور کر سکتے ہیں آن لائن شاپنگ۔
ارٹیکل:ارحم خان
رول نمبر:18-mc-2k17
کاروباری و عام افراد کے لئے رقوم کی منتقلی وادائیگی ایک بہت بڑا مسلۂ تھی، لوگوں کو بینکس کے چکر کانٹنے پڑتے تھے مگر اب انٹرنیٹ کی بدولت یہ مسائل حل ہوگئے ہیں۔آن لائن بینکنگ کے زریعے لوگ اپنے بینک اکاؤنٹ کو خود اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں۔جیسے جب چاہیں انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے رقم منتقلی،اکاؤنٹ بیلنس چیکنگ،بینک کی،تفصیلات، پہلے کی گئی ٹرانزیکشن، لون اسٹیمنٹ،رقم کی ادائیگی،رقم کی منتقلی اور بل پیمنٹ پر وسیسنگ وغیرہ کی جاسکتی ہیں۔
آن لائن بینکنگ کو عام طور پر روایتی بینکاری سے محفوظ سمجھا جاتا ہے اپنی تنخواہ براہ راست اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروانے سے میل سے آپ کا چیک چوری ہونے کا خطراہ ختم ہوجاتا ہے۔ انٹرنیٹ بینکنگ کی بدولت بینکنگ کے نظام کو معیاری اور محفوظ آن لائن بینکنگ کی خدمات کی فراہمی کے لئے مختص کیا گیا ہے۔جوکہ آپ کی رقم کے تحفظ ااور آن لائن لین دین پر بھروسے کو بہتر بنانے کے لئے مثبت زریعہ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنرسعید احمدکے مطابق موبائل بینکنگ،الیکٹرونک بینکنگ اور ایزی پیسہ کامرس کے شعبہ میں ڈرائیونگ فورس ہے۔اس شعبہ میں کاروباری رجحان بڑھ رہاہے۔جو بینکنگ کے فروغ میں بھی بہت مددگار ثابت ہورہاہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بینکنگ کی سہولت فراہم کرنے والے ۸۲ بنکوں کے ۱۳ لاکھ صارفین ہیں۔اور گزشتہ سال انٹرنیٹ بینکنگ کی بڑھ تیزی میں ۰۳ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ بینکنگ میں بینکوں کے زریعے آن لائن خدمات جیسے انٹرا بینک فنڈ ٹرانسفر،شیڈولڈ فنڈ ٹرانسفر،یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی،کریڈیٹ کارڈ پے منٹس اور اسکولوں کی فیس ادائیگی شامل ہے۔ مجموعی انٹرنیٹ بینکنگ میں ایک ہی بینک کے مختلف برانچوں کے مابین فنڈزاور ر قم کی فراہمی کا فیصد بالترتیب ۸سے۴۲ فیصد ہے۔اسی طرح مختلف بنکوں کے مابین فندز اور رقم کی فرہمی کا حصہ بالترتیب ۶سے ۶۳فیصد ہے۔اینٹرنیٹ بینکنگ میں یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کا تناسب ۱ سے ۵۳ فیصد ریکارڈ کیاگیا ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ اور دیگر سہولیات کی ادائیگیوں کی شرح ۴سے ۲ فیصد ہے۔
بہت سے انٹرنیٹ صارفین کے لئے آن لائن بینکنگ اکاونٹس کی سہولت ایک ضرورت بن گئی ہے۔ آن لائن بینک اکاؤنٹس کے زریعے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ سے بلوں کی ادئیگی،لین دین کی تلاش اور رقم کی منتقلی سے اپنے صارفین کے لیے بہت سی سہولیات پیش کرنا ہے۔
آن لائن بینکنگ کی مدد سے آپ اپنا اکاونٹ کی نگرانی کرسکتے ہیں۔موجودہ بیلنس، ادائیگی کے واجبات، زاخائر، واپسی اور شیڈول لین دین اکاونٹ کی نگرانی کرسکتی ہیں آن لائن بینکنگ نے ریگولیٹری ادائیگی کی خدمت پیش کی جو اپنے صارفین کو کاروباری مقامات پر اپنا ایزی پیسہ موبائل اکاونٹ استعمال کرنے اور اپنی خریداری کرنے کے لئے بل کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔آپ کو طویل عرصے تک کیش یا کارڈ لینے کی ضرورت نہیں۔صرف موبائل فون سے ہی رکھ سکتے ہیں اپنے بینک اکاونٹس کو مینج اور کر سکتے ہیں آن لائن شاپنگ۔
ارٹیکل:ارحم خان
رول نمبر:18-mc-2k17
Comments
Post a Comment