Arham khan Profile- Urdu

Referred back 
   سال غلط ہو گئے ہیں۔ زندگی کے دلچسپ واقعات لکھیں، کوئی ایسا  واقعہ جس نے اس کی زندگی یا سوچ بدل دی ہو۔ پروفائیل رپورٹنگ بیسڈ ہونا چاہئے۔ آپ نے صرف ا بندے خود سے بات کی ہے۔ 
 اس میں کیا خاص بات ہوئی وہ پہلے بھی سیم بیچتا تھا، اب بھی بیچ رہا ہے۔
 کوئی بڑاوقاعہ جس کا وہ چشم دید ہو،۔ لکھنے کی کوئی تو وجہ بنے۔
آپ لوگ ٹھیک سے آؤٹ الئن بناتے نہیں ہو، اور دبڑدھونس میں سب کے سب آخری روز آکر  ٹاپک منظور کراتے ہو۔ 
اس پر پروفائیل نہیں شایع ہو سکتی               
  روفائیل:ارحم خان                                                                                                                              
  رول نمبر:   18-mc-2k17 
                                                      شجاعت  علی (سیم فروش)

دنیا  میں ہر انسان جنگ لڑنے آیا ہے۔ کیونکہ جنگ سب سے پہلے خود سے لڑنی پڑتی ہے، اپنے زضمیر سے اپنے اعمال سے، غریبی سے معاشرے کی دھتکاریون سے، لوگوں کی چال بازیوں سے، لڑتے لڑتے انسان یا تو جیت جاتاہے، یا کچھ سیکھ جاتاہے۔ شخصیت تب ہی بنتی ہے جب وہ مجبوریوں کے رونے سے آزاد ہوجاتاہے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے راستے میں مشکلوں کی پر واں نہ کرنا ہی کمال ہے شجاعت علی ایک ایسے ہی شخص ہیں جس نے ایک غریب گھرانے میں ۹۱ جنوری  ۱۷۹۱  میں آنکھ کھولی، اور ساتھ ہی اُن آنکھوں میں بہت سے خواب سجے ہوئے تھے۔ 
        شجاعت علی بتاتیں ہیں کہ بچپن سے ہی انھیں علم پڑھنے اور پڑھانے کا شوق تھا،اسی شوق کے حصول کی جستجو میں ابتدائی تعلیم حاصل کی لیکن آٹھویں جماعت کے بعد خاندانی مسائل کی بنا پر دو سال تک تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔اخبارات فروخت کر کے تعلیم کی فیس ادا کرنے کے وسائل پیدا کئے اور میٹرک  ۹۸۹۱میں مکمل کیا۔ اچھا انسان بنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں پنپنے کے لیے حالات کا مقابلہ کرنا بھی ضروری ہے۔
         شجاعت علی نے میٹرک کے بعد شوق کے حصول کے لیے سرکاری کالج میں انٹرمیڈیٹ کے لیے دخلہ لیا اور ساتھ ہی ٹیوشن دینا شروع کی۔ ا نٹر میڈیٹ مکمل کرنے کے بعد بی،اے میں ایڈمیشن لیا اور اسکے ساتھ ہی نجی اسکول میں تعلیم دینا شروع کی۔ بی اے مکمل ہوتے ہی ایچ،ڈی، اے  میں بیل دینے کی نوکری کی۔ اور اس کے ساتھ ہی بی،ایڈ کے لیے ٹر ینگ کا لج میں داخلہ لیا لیکن جاب زیادہ دن نہ رہی جس کی بنا پر بی،ایڈ نہ مکمل چھوڑنا پڑا۔ 
       وہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا تھا کہ تقدیر بدل نے کے لیے شادی بھی ضروری ہے  اسی سوچ سے میں نے سن ۵۰۰۲  میں شادی کی اور اس کے بعد ہی جنگ نیوز پیپر میں سرکاری پرائمری اسکول کی جاب کا اشتہار دیکھا اور میں نے آپلائے کیا جس میں ٹیسٹ اور  انٹرویو   کلیئر ہونے کے بعد لیٹر میرے گھر آگیا جاب شروع ہونے سے پہلے مجھے کہا گیا کہ سرکاری جاب ختم کردی گئی ہے۔ میری سورسیز سے پتا چلہ کہ میری سیٹ سیاسی مداخلت کی بنا پر بیچ دی گئی۔ اس کے بعد اپنے دوست کے زریعے زونگ کی فرین چائس پر جانا ہوا اور زونگ کی سیم فروخت کرنے کی نوکری ملی۔ سن ۳۱۰۲  میں زونگ کی نوکری شروع کی۔

              شجاعت علی کا کہنا ہے کہ سیم فروخت کرتے ہوئے ابھی دو مہینے ہی گزرے تھے کہ مجھے پولیس پکڑکر لے گئی اور میں پھر دو ماہ جیل میں رہا۔وجہ پوچھنے پر جیجکھتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے جس کو سیم فروخت کی اس کے پاس اسی دن کہیں سے بہتے کی کال آگئی اور اس نے میرے خلاف ہی ایف آئی آر کٹوادی اور میں دو ماہ تک جیل میں رہے کر بھی جیلیوں کو تعلیم دیتا رہا۔
         جب میں نے شجاعت علی سے سوال کیا کہ جاب نہ میلنے پر کوئی، نیاسکل کیوں نہیں سیکھا؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ وسائل ہی موجود نہ تھے جس کی بنا پر میں کوئی نیا اسکل سیکھ پاتا۔ اتنی مشکلات کے بعد بھی حوصلے پست نہ ہوسکے۔سیم فروخت کرکے اپنے گھر کا گزر ا تو کررہے ہیں لیکن اپنے شوق کو بھی جاری رکھیں ہوئے ہیں۔
        شجاعت علی کاکہنا تھا کہ آج بھی میں سیم فروخت کرنے پر متمعین ہوں اور بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ز ندگی میں شدید مشکلات کے باوجود بھی ثابت قدم او ر استقامت سے رہنے کا درس دیتا ہوں۔    

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article