Mehak Ali Article Urdu

revised
مہک علی۔
رول نمبر: 56۔
 بی ایس پارٹ:3
آرٹیکل
ہمارا نظام تعلیم فقط نمبروں کی دوڑ!
 دنیا بھر میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ نت نئی و حیرت انگیز ہونے والی ایجادات کو دیکھ کرلگا یا جاتا ہے۔ انسان کا چاند اور سیاروں پر جانا نہ صرف تعلیم کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے بلکہ قوم کی ترقی کا راق بھی تعلیم کی فراہمی کے باعث ہی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جو تعلیم ہم اپنے ملک پاکستان میں فراہم کر رہے ہیں وہ تعلیم سرے سے ہے ہی نہیں۔نظام تعلیم کی ابتر ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم علم کی حیثیت اور ضرورت کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ سب نمبروں کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں جس طرح بے لگام گھوڑے میدان میں اول آنے کیلئے دوڑتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح صرف نمبر حاصل کرنے کیلئے طالب علم تعلیم حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں جن کا مقصد اس دوڑ کو جیتنا ہوتا ہے نہ کہ قابلیت حاصل کرنا ہوتاہے۔
 اکثر طلباء کیلئے تو تعلیم کا مقصد محض امتحان پاس کرنا اور زیادہ سے زیادہ نمبروں کا حصول ہوتا ہے اور اس عمل میں علم کی پیاس کس قدر بجھی، کچھ سیکھا یا شخصیت میں نکھار آیا اس کے پیش نظر بس نظر نمبرکے حصول پر ہی ہوتی ہے۔
 یونیسکو کی حال ہی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 63%والدین طالب علموں کو بچپن سے ہی امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں چاہے انہیں اس کیلئے کسی بھی سطح تک جانا پڑے۔ جبکہ "بل گیٹس کا کہنا ہے کہ بچوں کے گریڈ زیادہ اہم نہیں بلکہ اس سے اہم ان بچوں کی بہتر کردار سازی، تجسس اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے"۔
 اگر ہم جرمنی کی تعلیم کی مثال لیں تو وہاں 6سال کی عمر میں بچوں کو اسکول بھیجا جاتا ہے جہاں کئی برس تک کوئی امتحان ہی نہیں لیا جاتا ہے تاکہ ان میں نمبروں میں سبقت لے جانے کی روش پیدا نہ ہو اوروہ اپنی صلاحیتوں کو فراموش نہ کریں۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے 221ممالک کی فہرست میں سے 180ویں نمبر پر ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ اساتذہ اور والدین کا بچوں پر اس بات پر دباؤ ڈالنا ہے کہ ان کے نمبر سب سے زیادہ ہوں اور اس طرح ہمارا تعلیم نظام ایک صحت مند دماغ نہیں بلکہ روبوٹ پیدا کر رہے ہیں جن کا مقصد تعلیمی قابلیت کو بڑھانا نہیں ہوتا بلکہ رپورٹ کارڈ میں 80اور 90فیصد نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے۔
 نمبروں کی اس دوڑنے طلباء میں عجیب سی کیفیت پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے اب وہ کتابیں پڑھنے لائبریری کا رُخ کرنے اور تعلیمی استعداد بڑھانے کے دیگر ذرائع اپنانے کے بجائے ماڈل پیپرز اور معروضی سوالات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ وہ زندگی کی دیگر رعنائیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
 نمبروں کی اس دوڑ میں کردار سازی اور تعلیمی قابلیت بہت پیچھے رہ گئے ہیں، جس کی وجہ سے آدھی زندگی تعلیم میں کھپانے کے بعد آپ صرف اس وجہ سے صفرقرار دیئے جاتے ہیں کیوں کہ آپ کے مد مقابل کسی اور کے نمبر زیادہ ہیں۔ اس میں قصور والدین کا بھی ہے وہ بچپن سے بچوں کے ذہن میں ایک ہی بات ڈالتے ہیں کہ کسی بھی طرح جماعت میں اول آنا ہے اور رپورٹ کارڈ میں ہر مضمون میں سب سے زیادہ نمبر لینے ہیں۔ اس دباؤ کی وجہ سے نقل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے طا لب علم اس بات کا دباؤ اس حد تک لیتے ہیں کہ کمرۂ امتحان میں انہیں ہر قیمت پر مکمل پرچہ بھرنا ہے چاہے پھر اس کے لئے وہ کوئی بھی لائحہ عمل اختیار کریں اور وہ ایڑی چوڑی کا زور لگا کر اپنے ماں باپ کے سامنے سرخرو ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس ساری دوڑ میں تعلیم بالکل غائب ہو گئی ہے اور ایک کند ذہن معاشرہ تشکیل پا رہا ہے جہاں نت نئی ایجادات ہوتی ہیں نہ سائنسی ترقی کی بات بس موضوع گفتگو آپ کے حاصل کردہ نمبر ہوتے ہیں۔
 گزشتہ کچھ سالوں میں ایسے واقعات کی بھر مار ہو چکی ہے کہ امتحانات میں کم نمبر آنے پر والدین کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو کر طالب علم نے خود کشی کر لی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اپنے تعلیم نظام کے پیمانے بدلنے ہونگے یہی صورت حال رہی تو نمبر بڑھتے جائیں گے لیکن تعلیم بدستور کم ہو تی جائیگی۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ آیا اساتذہ، والدین اور تعلیمی ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یا پھر صرف فقط نمبروں کی جنگ میں اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔ ایک بہترین معاشرہ تب ہی تشکیل پا سکے گا جب نمبروں کی دوڑ کو ختم کر کے فقط علم حاصل کرنے پر توجہ دی جائے۔


آپ کا موضوع نصاب کے بارے میں تھا، یا نظام تعلیم یاوالدین جو بچوں کے لئے زیادہ نمبر دلوانے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں اس کے بارے میں۔ موضوع کو مزید فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ ۔ دیکھ لیں موضوع منظورکرتے وقت کیا ڈسکس ہوا شرح خواندگی الگ موضوع ہے، آپ کے مضمون کی سرخی بتاتی ہے کہ معاملہ معیار تعلیم کا ہے۔
املا دیکھیں۔ 
 لفظ دوڑ ہے یا ڈور؟؟ 
Deadline was August 3, this article is sent on Aug 4.
 تعلیم  یا  فقط  نمبروں کی ڈور     
مہک علی
بی ایس پارٹ 3    رول نمبر۔56

ٖدنیابھر میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ نت نئی و حیرت انگیز ہونے والی ایجادات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے۔ انسان کا چاند اور سیاروں پرجانا نا صرف کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ۷۱ برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اسی دوران آج بیسوں پالیسیاں بنیں اور مرتب کی گئیں مگر ہمارا تعلیم کامسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ہم سے بعدمیں آزاد ہونے والے بہت سے ممالک اس میدا ن میں ہم سے بہت آگے ہیں . اس کی سب سے ہڑی وجہ پاکستان میں بچوں کی بڑی تعدادکی تعلیم سے محرومی ہے اور جو طالب علم تعلیم کے زیور سے آراستہ ہورہے ہیں وہ معلوماتی زخائر ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی ایجادات کرنے اور سائنسی ترقی میں جدت پیدا کرنے کے بجائے صرف نمبروں کی ڈور میں لگے رہتے ہیں. اور یہ ہمارے تعلیمی نظام کے ناقص ہونے کی سب سے ابتر وجہ ہے۔
ہیومن ڈوپلمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے دنیا میں 136نمبر پر ہے جبکہ59%بچے ایسے ہیں جو کہ اسکول جانے کے کچھ عرصے بعد مختلف وجوہات کے بنا پر اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ ان وجوہات میں سر فہرست      ذہنی انتشار,فکر اور امتحانات میں اول آنے کا خوف انھیں کو خیر آباد کہنے پر بلاآخر مجبور کردیتا ہے۔
یونیسکو کی ایجوکیشن فار آل گلوبل مانیٹرنگ کی رپورٹ کے مطامق پاکستان کے تعلیمی نظام کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں پرائمری سطح کی تعلیم دنیا میں پچاس سے زائد سال اور سیکنڈری سطح کی تعلیم میں ساٹھ سے زائد سال دنیا سے پیچھے ہے۔
جبکہ اس رپورٹ کا خلاصہ میں یہ بات بھی سکھانے لگ جاتے ہیں کہ لکھا گیاوہے کہ پرائمری سے ہی طالب علموں کے اساتذہ اور والدین 
جماعت میں کس طرح وہ ہی پرانی چیزیں ذہن نشین کرکے زیاد ہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے ہیں۔
اس صورت حال کو مزید خراب کرنے میں بنیادی کرداراساتذہ اور والدین باخوبی انجام دے رہے ہیں۔
یونیسکو کی حال ہی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 63% والدین طالب علموں کو بچپن سے ہی امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں. چاہے اس کے لیے انھیں کسی بھی سطح تک جانا پڑے۔
اس حوالے سے اساتذہ کا کردار بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے پورے سال صرف ایک ہی طرح کا نصاب کو بڑھانے اسے رٹا لگا کر یاد کروانے اور پھر کس طرح امتحانات میں وہ چیز پیپر میں لکھ کر زیادہ نمبر لینے کے گن شروع سال سے لے کر آخر تک طالب علموں کے ذہن میں ڈال دیئے جاتے ہیں. چاہے بچوں میں کسی بھی قسم کی ذہنی ہومگر بہتر بچہ وہ ہی ہوگا جو ایک ہی طرح کے نصاب کو رٹا لگا کر جماعت میں نمبروں کی ڈور میں سب سے سبقت لے گیا ہو ۔
اس بات کے پیش نظر پاکستان میں طالب علموں کے کیسز منفی اظافہ ہورہا ہے۔سال ۲۰۱۸ کی رپورٹ کے مطابق اس شرح میں اظافہ ہوا ہے جس کی وجہ امتحانات ارور انٹری ٹیسٹ میں کم نمبر لینا ہے۔
نمبروں کی اس ڈور نے طلبا کے اندر ایک سراسیمگی پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے اب وہ کتابیں پڑہنے لائبریری پیدا کردی ہے اور تعلیمی استعداد بڑھانے کے دیگر ذرائع اپنانے کے بجائے ماڈل پیپرز اور معروفی سوالات پر بھروسہ کرتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پارہا ہے جہاں تعلیم برائے فروخت ہے۔
اب وقت آگیا ہے کے اپنی تعلیمی نظام کے پیمانے بدلنے ہوں گے یہ ہی صورت حال رہی تو نمبر بڑہتے جائیں گے لیکن تعلیم بدستور کم ہوتی جائے گی ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ آیا اساتذہ اور والدین اور تعلیمی ادارے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے بچوں کو تعلیم نمایاں نمبروں اورسنہرے مستقبل کے خوابوں کی بھٹی میں جھونکتے رہینگے یا انھیں ایک متوازن اور بہتر انسان بنا نے کی کوشش کریں گے تاکہ ایک تعلیمی نظام اور ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل پا سکے۔


Mehak Ali BS-III, 2nd semester, Artilce



Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article