Nabiha ڈیجیٹل میڈیا کا بڑھتا رجحان Published

ڈیجیٹل میڈیا کا بڑھتا رجحان اور روائتی میڈیا پر اس کے اثرات

                             تحریر:  نبیہا احمد                ایڈیٹنگ صوبیہ اعوان 
بیسویں صدی کے نصف میں جب الیکٹرونک میڈیا کا ارتقاء ہوا تو پرنٹ میڈیا پر جو  اپنے وقت کا موثر ترین میڈیا تھا بری طرح اثر انداز ہوا۔ یوں پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے لے لی۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کے صارفین کافی حد تک گھٹا دئیے۔یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیامیں اخبار بینی میں دسویں نمبر پر تھا۔

پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کا دو ر  ۴۶۹۱؁ء میں پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن) کی نشریات سے شروع ہوا۔لیکن پاکستانی میڈیا کا سنہرا دور تب شروع ہوا جب پرویز مشرف نے اکتوبر ۹۹۹۱ء؁ میں یہ کہہ کر کے میڈیا کہ اب سے آزاد ہے نجی ؎ میڈیا چینلز کو لائسنس دینے کا اعلان کیا۔یوں تو پی ٹی وی بھی خبریں فراہم کرتا تھا لیکن چونکہ یہ ایک سرکاری چینل تھا اس لئے انہیں حکومت کا مثبت چہرہ لوگوں کو دکھانا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اکثر خبریں عوام تک سینسر ہو کر پہنچتی تھیں۔لیکن نجی چینلز کے آنے کے بعد ایک وقت وہ بھی آیا جب لوگوں نے پی ٹی وی دیکھنا  تقریبا چھوڑ دیا وجہ لوگوں کے پاس زیادہ چوائسز کا ہونا،  زیادہ موثر خبریں دینا، حکومت پر کھلی تنقید کرنا یہ سب شامل تھا۔

 بیسویں صدی کے اختتام تک پہلے ڈیجیٹل کمپیوٹر اور ڈیوائسز کی ایجادات نے اور پھر ڈبلیوڈبلیوڈبلیو (ورلڈ وائڈ ویب)کے تعارف نے دنیا میں ایک نئی تاریخ برپا کردی۔ڈیجیٹل میڈیا سے مرادوہ میڈیا ہے جسے ڈیجیٹل ڈیوائسز جیسے کہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اسمارٹ فونز پر انٹرنیٹ کے ذریعے استعمال کیا جاسکے۔یہاں سے ڈیجیٹل میڈیا کے دور کی ابتدا ہوئی،پہلے پہل لوگ اسے صرف معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے پھر  ۴۰۰۲؁ء میں فیسبک کی ایجاد نے ایک نئے کمیونیکشن نیٹورک کی ابتدا کی اورپوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا۔ یہاں سے نیٹ کیفے کے دور کا بھی آغاز ہوا۔پی ٹی اے(پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی)کے مطابق سال  ۶۰۰۲؁ء تک پاکستان میں ۰۰۰۵ سے زائد نیٹ کیفیز رجسٹرڈ تھے۔

اسمارٹ فون کی ایجاد نے ڈیجیٹل میڈیا کو ایک نئی روح بخش دی ساری دنیا سمٹ کراس ننھے سے چند انچ کے موبائل میں سما گئی۔خبروں سے لے کر معلومات اور معلومات سے لے کر انٹرٹینمنٹ تک سب اس میں سما گیا۔اسمارٹ فون کی ایجاد کے بعد ڈیجیٹل میڈیا نے یوں اپنے پر پھیلائے کے آہستہ آہستہ کتابوں سے لے کر آرٹ تک، کھیل سے لے کر صحت تک اور صحت سے لے کر کاروبار تک سب اس سے منسلک ہو گیا۔شاید ہی اس وقت کوئی شعبہ ہو جہاں ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال نہ ہو۔

سوشل میڈیا بھی ڈیجیٹل میڈیا کی ہی قسم ہے جو کہ سب سے زیادہ مقبول ہے۔جہاں اس سے لوگ ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں وہیں اپنی خوشیاں، غم، کامیابی، غرض ہر جذبہ اور رائے ایک دوسرے سے شئیر کرتے ہیں۔اسی طرح چاہے کوئی عام بندہ ہو یا کوئی مشہور فنکار یا پھر ملک کے وزیراعظم ہی کیوں نہ ہوں اس میڈیم کے ذریعے اپنی رائے، خیالات اور احکامات دوسروں تک پہنچاتے نظر آتے ہیں اس طرح وہ اپنی عوام سے جڑے رہتے ہیں۔ہر ایک اپنی رائے اور اپنی بات کہھ سکتا ہے

جہاں ڈیجیٹل میڈیا نے ہر عام و خاص کی زندگیوں پر اثرات مرتب کئے اور زندگیوں کو پر آسائش بنایا وہیں اس نے روائتی میڈیا پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ آپ گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی کونے کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں، کھاناآرڈر کر کے گھر منگوانے سے لے کر گھر بیٹھے من پسند شاپنگ کرنا، اپنی پسندیدہ کتاب پڑھنا،  اور بور ہونے پر گھر بیٹھے مختلف تفریح کے مواقع فراہم کرتاہے۔وہیں آن لائن خبروں سے لے کر آن لائن اخبار تک فراہم کرتا ہے۔جس سے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر اثر پڑا ہے۔پرنٹ میڈیا سے ریڈرز کا ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل ہونے کی ایک وجہ جہاں یہ ہے کہ اخبارمیں کسی بھی واقعے کی تفصیل کے لئے اگلے دن کا انتظار کرنا پڑتا ہے وہیں انک اور پیپر کے مہنگے ہونے کی وجہ سے اخبار کی قیمت میں ہونے والا اضافہ بھی ہے۔ دوسری طرف الیکٹرونک میڈیا پر پڑنے والا اثر اتنا گہرا نہیں جتنا پرنٹ میڈیا پر پڑا  لیکن لوگوں کی الیکٹرونک میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل ہونے کی وجہ جہاں الیکٹرونک میڈیا میں وقت کی قید اور طویل اشتہارات ہیں وہیں دوسری وجہ ملک کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ لوڈشیڈنگ بھی ہے۔جب کہ اس مقابلے میں ڈیجیٹل ڈیوائسز پورٹیبل ہونے کے ساتھ ساتھ استعمال میں آسان بھی ہے۔جسے ہر جگہ کسی بھی وقت آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ میڈیا بچے سے لے کر بوڑھوں تک میں ایک جتنا ہی مقبول ہے لیکن نوجوانوں میں اس کی مقبولیت سب سے بڑھ کر ہے۔جس کا یہ حال ہے کے نوجوان اپنے دن کا ایک بڑا حصہ اسی فعل میں ضائع کرتے ہیں۔جس کے اثرات ان کی تعلیمی کارکردگی سے لے کر نجی زندگی میں بھی پڑ رہے ہیں۔

پوری دنیا میں اس وقت تقریبا ۳۹۵،۷ بلین آبادی ہے۔جس میں سے صرف ایشیاء  میں ۷۲۰۴ بلین لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔اسکے علاوہ باقی ماندہ دنیا کی بات کریں تو تقریبا۷۴۲،۳ بلین لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ان میں سے سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ۱۲۰،۴ بلین ہے۔جو کہ ایک غیر معمولی اعدادوشمار ہے۔ ایک اور حیران کن اعدادو شمار کے مطابق تقریبا ایک ملین لوگ روزانہ کی بنیاد پر انٹرنیٹ کا استعمال کرنا شروع کر رہے ہیں۔مزید حیران کن امر یہ ہے کہ دنیا میں ہر سیکنڈ میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں تقریبا ۱۱  فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ ۰۱۰۲؁ء میں صرف ۷۹،۰ بلین سوشل صارفین کی تھی جو کہ  ۳۱۰۲؁ میں بڑھ کر ۹۵،۱بلین ہوئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ۰۲۰۲؁ء میں یہ تعداد ۵ بلین تک پہنچنے کی امید ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے جتنی تیزی سے روائتی میڈیا کو پیچھے دھکیلا ہے اسکی وجہ دنیا بھر کے طبقے نے اسے بہت جلدی قبول کیا ہے۔چونکہ یہ منفرد و پر کشش ہو نے کے ساتھ ساتھ مختلف چیزیں ایک جگہ سمٹ آئی ہیں مثلا آپکو معلومات، تفریح، لطیفہ گوئی، شاعری، خبر، دلچسپ وعجیب، گیم، اسپورٹس، مارکیٹنگ، شاپنگ، آن لائن بکنگ یہ سب ایک جگہ مل رہا ہے۔اس پلیٹ فارم کا دائرہ بہت وسیع ہوتا جارہا ہے۔جہاں ہر عام بندہ ڈیجیٹل میڈیا پر اپنا کانٹینٹ بنانے اور مشہور ہونے لگا وہیں کچھ مشہور شخصیات نے بھی اپنے اپنے چینل بنائے جو کہ عوام میں بے حد مقبول ہیں جس میں قابلِ ذکر ثمینہ پیرزادہ کا چینل ریوائنڈ ودثمینہ پیرزادہ ہے جس کے تقریبا ۵ لاکھ سبسکرائبر موجود ہیں ان ہی کی دیکھا دیکھی بہت سی شخصیات اس میدان میں آگئیں ہیں جن میں شائستہ واحدی، نادیہ خان، عائشہ عمر، حنا الطاف و دیگر شامل ہیں۔اگر صحافت کی بات کی جائے تو مشہور ومعروف صحافی بھی اپنے اپنے بلاگز بنانے لگے ہیں جہاں وہ اپنی تحاریر باقائدگی سے ڈالتے ہیں۔غرض ڈیجیٹل میڈیا نے ہر شعبہ ء فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا جہاں مختلف شعبوں کے فروغ کا ذریعہ بنا ہے وہیں صحافت میں بھی اس نے اپنے قدم جمانے شروع کر دئے ہیں۔اس کے ذریعہ سیکنڈوں میں کہیں بھی خبر پہنچتی ہے۔
جس طرح ڈیجیٹل میڈیا روز بہ روز ترقی کر رہا ہے یہ کہنا یقینا غلط نہ ہوگا کہ آنے والا دور یقینا ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہوگا۔

-------------------------------------------------------
Its bit long. U did not mentioned impact on traditional media, just wrote increasing trend of digital media
ڈیجیٹل میڈیا کا بڑھتا رجحان اور روائتی میڈیا پر اس کے اثرات

تحریر:  نبیہا احمد
رول نمبر۱۷  بی ایس پارٹ تھری


مشہور کہاوت ہے  ’ہر عروج کو زوال ہے‘
بیسویں صدی کے نصف میں جب الیکٹرونک میڈیا کا ارتقاء ہوا تو پرنٹ میڈیا پر جو کہ اپنے وقت کا موثر ترین میڈیا تھا بری طرح اثر انداز ہوا۔ یوں پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے لے لی۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا نے پرنٹ میڈیا کے صارفین کافی حد تک گھٹا دئیے۔یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیامیں اخبار بینی میں دسویں نمبر پر تھا۔

پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کا دو ر  ۴۶۹۱؁ء میں پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن) کی نشریات سے شروع ہوا۔لیکن پاکستانی میڈیا کا سنہرا دور تب شروع ہوا جب پرویز مشرف نے اکتوبر ۹۹۹۱ء؁ میں یہ کہہ کر کے میڈیا کہ اب سے آزاد ہے نجی ؎ میڈیا چینلز کو لائسنس دینے کا اعلان کیا۔یوں تو پی ٹی وی بھی خبریں فراہم کرتا تھا لیکن چونکہ یہ ایک سرکاری چینل تھا اس لئے انہیں حکومت کا مثبت چہرہ لوگوں کو دکھانا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اکثر خبریں عوام تک سینسر ہو کر پہنچتی تھیں۔لیکن نجی چینلز کے آنے کے بعد ایک وقت وہ بھی آیا جب لوگوں نے پی ٹی وی دیکھنا  تقریبا چھوڑ دیا وجہ لوگوں کے پاس زیادہ چوائسز کا ہونا،  زیادہ موثر خبریں دینا، حکومت پر کھلی تنقید کرنا یہ سب شامل تھا۔

یوں وقت گزرتا گیا اور بیسویں صدی کے اختتام تک پہلے ڈیجیٹل کمپیوٹر اور ڈیوائسز کی ایجادات نے اور پھر ڈبلیوڈبلیوڈبلیو (ورلڈ وائڈ ویب)کے تعارف نے دنیا میں ایک نئی تاریخ برپا کردی۔ڈیجیٹل میڈیا سے مرادوہ میڈیا ہے جسے ڈیجیٹل ڈیوائسز جیسے کہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، اسمارٹ فونز پر انٹرنیٹ کے ذریعے استعمال کیا جاسکے۔یہاں سے ڈیجیٹل میڈیا کے دور کی ابتدا ہوئی،پہلے پہل لوگ اسے صرف معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے پھر  ۴۰۰۲؁ء میں فیسبک کی ایجاد نے ایک نئے کمیونیکشن نیٹورک کی ابتدا کی اورپوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا۔ یہاں سے نیٹ کیفے کے دور کا بھی آغاز ہوا۔پی ٹی اے(پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی)کے مطابق سال  ۶۰۰۲؁ء تک پاکستان میں ۰۰۰۵ سے زائد نیٹ کیفیز رجسٹرڈ تھے۔

اسمارٹ فون کی ایجاد نے ڈیجیٹل میڈیا کو ایک نئی روح بخش دی ساری دنیا سمٹ کراس ننھے سے چند انچ کے موبائل میں سما گئی۔خبروں سے لے کر معلومات اور معلومات سے لے کر انٹرٹینمنٹ تک سب اس میں سما گیا۔اسمارٹ فون کی ایجاد کے بعد ڈیجیٹل میڈیا نے یوں اپنے پر پھیلائے کے آہستہ آہستہ کتابوں سے لے کر آرٹ تک، کھیل سے لے کر صحت تک اور صحت سے لے کر کاروبار تک سب اس سے منسلک ہو گیا۔شاید ہی اس وقت کوئی شعبہ ہو جہاں ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال نہ ہو۔

سوشل میڈیا بھی ڈیجیٹل میڈیا کی ہی قسم ہے جو کہ سب سے زیادہ مقبول ہے۔جہاں اس سے لوگ ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں وہیں اپنی خوشیاں، غم، کامیابی، غرض ہر جذبہ اور رائے ایک دوسرے سے شئیر کرتے ہیں۔اسی طرح چاہے کوئی عام بندہ ہو یا کوئی مشہور فنکار یا پھر ملک کے وزیراعظم ہی کیوں نہ ہوں اس میڈیم کے ذریعے اپنی رائے، خیالات اور احکامات تک پہنچاتے نظر آتے ہیں اس طرح وہ اپنی عوام سے جڑے رہتے ہیں۔

جہاں ڈیجیٹل میڈیا نے ہر عام و خاص کی زندگیوں پر اثرات مرتب کئے اور زندگیوں کو پر آسائش بنایا وہیں اس نے روائتی میڈیا پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ آپ گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی کونے کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں، کھاناآرڈر کر کے گھر منگوانے سے لے کر گھر بیٹھے من پسند شاپنگ کرنا، اپنی پسندیدہ کتاب پڑھنا،  اور بور ہونے پر گھر بیٹھے مختلف تفریح کے مواقع فراہم کرتاہے۔وہیں ان لائن خبروں سے لے کر آن لائن اخبار تک فراہم کرتا ہے۔جس سے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر اثر پڑا ہے۔پرنٹ میڈیا سے ریڈرز کا ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل ہونے کی ایک وجہ جہاں یہ ہے کہ اخبارمیں کسی بھی واقعے کی تفصیل کے لئے اگلے دن کا انتظار کرنا پڑتا ہے وہیں انک اور پیپر کے مہنگے ہونے کی وجہ سے اخبار کی قیمت میں ہونے والا اضافہ بھی ہے۔ دوسری طرف الیکٹرونک میڈیا پر پڑنے والا اثر اتنا گہرا نہیں جتنا پرنٹ میڈیا پر پڑا ہر لیکن لوگوں کی الیکٹرونک میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل ہونے کی وجہ جہاں الیکٹرونک میڈیا میں وقت کی قید اور طویل اشتہارات ہیں وہیں دوسری وجہ ملک کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ لوڈشیڈنگ بھی ہے۔جب کہ اس مقابلے میں ڈیجیٹل ڈیوائسز پورٹیبل ہونے کے ساتھ ساتھ استعمال میں آسان بھی ہے۔جسے ہر جگہ کسی بھی وقت آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ میڈیا بچے سے لے کر بوڑھوں تک میں ایک جتنا ہی مقبول ہے لیکن نوجوانوں میں اس کی مقبولیت سب سے بڑھ کر ہے۔جس کا یہ حال ہے کے نوجوان اپنے دن کا ایک بڑا حصہ اسی فعل میں ضائع کرتے ہیں۔جس کے اثرات ان کی تعلیمی کارکردگی سے لے کر نجی زندگی میں بھی پڑ رہے ہیں۔

پوری دنیا میں اس وقت تقریبا ۳۹۵،۷ بلین آبادی ہے۔جس میں سے اگر صرف ایشیاء کی بات کی جائے تو یہاں ۷۲۰۴ بلین لوگ ہی انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔اسکے علاوہ باقی ماندہ دنیا کی بات کریں تو تقریبا۷۴۲،۳ بلین لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔یعنی کم و بیش دنیا کی کل آبادی جتنے لوگ ہی انٹرنیٹ سے جڑ  ے ہوئے ہیں۔ان میں سے سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ۱۲۰،۴ بلین ہے۔جو کہ ایک غیر معمولی اعدادوشمار ہے۔ ایک اور حیران کن اعدادو شمار کے مطابق تقریبا ایک ملین لوگ روزانہ کی بنیاد پر انٹرنیٹ کا استعمال کرنا شروع کر رہے ہیں۔مزید حیران کن امر یہ ہے کہ دنیا میں ہر سیکنڈ میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں تقریبا ۱۱  فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ ۰۱۰۲؁ء میں صرف ۷۹،۰ بلین سوشل صارفین کی تھی جو کہ  ۳۱۰۲؁ میں بڑھ کر ۹۵،۱بلین ہوئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ۰۲۰۲؁ء میں یہ تعداد ۵ بلین تک پہنچنے کی امید ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے جتنی تیزی سے روائتی میڈیا کو پیچھے دھکیلا ہے اسکی وجہ دنیا بھر کے طبقے نے اسے بہت جلدی قبول کیا ہے۔چونکہ یہ منفرد و پر کشش ہو نے کے ساتھ ساتھ مختلف چیزیں ایک جگہ سمٹ آئی ہیں مثلا آپکو معلومات، تفریح، لطیفہ گوئی، شاعری، خبر، دلچسپ وعجیب، گیم، اسپورٹس، مارکیٹنگ، شاپنگ، آن لائن بکنگ یہ سب ایک جگہ مل رہا ہے۔اس پلیٹ فارم کا دائرہ بہت وسیع ہوتا جارہا ہے۔جہاں ہر عام بندہ ڈیجیٹل میڈیا پر اپنا کانٹینٹ بنانے اور مشہور ہونے لگا وہیں کچھ مشہور شخصیات نے بھی اپنے اپنے چینل بنائے جو کہ عوام میں بے حد مقبول ہیں جس میں قابلِ ذکر ثمینہ پیرزادہ کا چینل ریوائنڈ ودثمینہ پیرزادہ ہے جس کے تقریبا ۵ لاکھ سبسکرائبر موجود ہیں ان ہی کی دیکھا دیکھی بہت سی شخصیات اس میدان میں آگئیں ہیں جن میں شائستہ واحدی، نادیہ خان، عائشہ عمر، حنا الطاف و دیگر شامل ہیں۔اگر صحافت کی بات کی جائے تو مشہور ومعروف صحافی بھی اپنے اپنے بلاگز بنانے لگے ہیں جہاں وہ اپنی تحاریر باقائدگی سے ڈالتے ہیں۔غرض ڈیجیٹل میڈیا نے ہر شعبہ ء فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔

جس طرح ڈیجیٹل میڈیا روز بہ روز ترقی کر رہا ہے یہ کہنا یقینا غلط نہ ہوگا کہ آنے والا دور یقینا ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article