پکا قلعہ حیدرآباد - Kashan Sikandar feature published
فیچر
کاشان سکندر
2K17/MC/51-BS-PIII
پکا قلعہ حیدرآباد
ایک تباہ حال تاریخی ورثہ
بچپن میں اپنے بڑوں سے جب ہم کہانیاں سنا کرتے تھے تو ان میں محل کا ذکر ضرور ہوتا تھا، جہاں کوئی رانی رہتی تھی،کوئی بادشاہ حکم صادر کرتا تھا یا پھر شہزادی کو کوئی جن قید کرلیتا تھا اور پھر ایک بہادر نوجوان اسے آزاد کرانے کے لئے جتن کرتا تھا۔
بچپن میں ہمارے لئے یہ ایک تصوراتی دنیا تھی مگر محل اور قلعے کیسے ہوتے ہیں،انہیں جب اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تو وہ ہمارے بچپن کے تصور کی حقیقی تصویر ہی معلوم ہوئے۔
انسانی تہذیب کی کہانی کو پڑھا جائے تو اس میں قلعے،محل اور دیگر عالیشان عمارتیں دنیا کے ہر خطے میں نظر آجاتے ہیں۔اپنے اپنے ادوار میں عوام پر حکمرانی کرنے والے بادشاہوں نے جہاں ان قلعوں میں رہ کر راج کیا ہے وہاں انہوں نے خود کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بھی مختلف مقامات پر قلعے بنوائے۔مگر آج ان قلعوں کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی ہے۔
ایک ایسی ہی قلعے کا ذکر میں کررہا ہوں جس کی شان و شوکت کے قصے کئی کتابوں میں درج ہیں۔
اس قلعے سے جڑے کئی تاریخی واقعات بھی تاریخ کے ان اوراق میں درج ہیں،جن کے بغیر سندھ کی تاریخ ناممکن ہے۔یہ قلعہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں قائم ہے جسے پکا قلعہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس قلعے کے نام کے حوالے سے بھی کافی روایات ہیں،مگر تاریخ میں روایات نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اہم ہو تے ہیں۔
آج جس جگہ حیدرآباد شہر آباد ہے اسی مقام پر ماضی میں نیرون کوٹ تھا،موجودہ حیدرآباد کی بنیاد غلام شاہ کلہوڑوں نے حضرت علی کے صفاتی نام حیدر سے رکھی۔انھوں نے 1768میں اس قلعے کی بنیاد رکھی اور دارلخلافہ خدآباد سے حیدرآباد کو بنایا۔
یہ قلعہ حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کے برابر میں موجود ہے،جس کا قطر ایک میل اور انچائی80فٹ ہے۔اس کی چوڑائی26ایکڑ بتائی جاتی ہے جبکہ لطف اللہ مالوی سندھ کے سفر میں لکھتے ہیں کہ شاہی قلعہ بیضوی شکل کا ہے جو پکی اینٹوں اور کیچڑ سے بنا ہوا ہے۔
ناتھن کرو1799ء میں سندھ آئے اور یہاں 17ماہ رہے۔انہوں نے لکھاکہ حیدرآباد کے کوٹ کی ایک بڑی دیوار ہے جس میں چند بھاری توپیں رکھی ہوئی ہیں،دیوار پتلی ہے مگر اندر مٹی بھری ہوئی ہے کچھ مٹی اصلی اور کچھ مصنوعی ہے لہذا دیوار کو توڑنا مشکل ہے۔
والٹر ہیملٹن نے 1820ء میں لکھاتھا کہ یہ قلعہ ایک چٹان پر قائم ہے اور ہزار قدم لمبا ہے،جس کی ایک جانب پھلیلی اور دوسری جانب 3میل کے فاصلے پر دریائے سندھ ہے۔
تاریخ اور پرانی کتابوں کے مطابق پکا قلعہ میں 2اہم ترین دیوان ہو ا کرتے تھے۔قلعے کے اندر میر نصیر صاحب دربار سجایا کرتے تھے۔جس کے آنگن کے ستونوں اور اندرکی چھت پر نقش ونگار بنے ہوئے تھے۔اس عمارت کو دیوان خاص کہا جاتا تھا۔
جبکہ ایک دیوان عام تھا،جو دیوان خاص کے شاہی دروازے کے سامنے تھا۔
جیمس برنس لکھتے ہیں کہ.. دیوان عام کی عمارت کی دیواریں ہر طرف سے بہت خوبصورت تصاویر سے سجائی گئی ہیں اور فرش پر رنگ برنگے غالیچے بچھے ہوئے تھے۔
کچھ عرصے پہلے تک اس قلعے میں ایک شاندار کمرا صحیح حالت موجود تھا جسے میر حرم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
میر حرم کی دیواروں اور چھتوں پر جس خوبصورتی سے نقش ونگار بنائے گئے تھے وہ آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں مگر اب ٹوٹ پھوٹ اس کی خوبصورتی کو مان کرتی ہے۔
میر حرم اور قلعے کی تعمیر کے حوالے سے ڈائریکٹر سندھ آرکیالوجی قاسم علی قاسم کا کہنا ہے کہ میر حرم جو قلعے کی قدیم عمارت ہے اس کی مرمت کا ایک منصوبہ حکومت کو پیش کردیا ہے جیسے ہی یہ منصوبہ حکومت منظور کرے گی قلعے کی تعمیر کاآغاز ہو جائے گا۔
یہ قلعہ ا ب اپنے اندر ایک پورا شہر بن چکا ہے،جہاں لوگوں کے گھر ہیں،کھیل کا میدان ہے،پارک ہیں،گلیاں اور راہداریاں ہیں۔لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔مگر اب قلعے کی دیواریں ان گھروں کے بوجھ تلے ہی دب رہی ہیں،وہاں کی دیواریں اب چور چور ہورہی ہیں اور گٹر نالے بہہ رہے ہیں۔
گھروں کے بن جانے کی وجہ سے 3اطراف سے اب قلعے کی دیوار دکھائی ہی نہیں دیتی جبکہ مشرق کی جانب برج والی دیوار اب بھی دکھائی دیتی ہے مگر اس کی اینٹیں بھی اکھڑ چکی ہیں جبکہ کئی بار تو قلعے کی دیواریں گرنے کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔
ان واقعات کے پیشِ نظر سندھ حکومت نے یہاں کے مکینوں کو لطیف آباد میں پلاٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا مگر تمام تر مسائل کے باوجود لوگوں کو اس قلعے میں رہنے کی ایسی عادت پڑچکی ہے کہ ان کے لئے کہیں
اور آباد ہونا ناممکن سا لگتا ہے۔
پکا قلعہ دن بدن زوال کا شکار ہورہا ہے،بارشوں،موسم کی خرابیوں اور وقت کی مار قلعے کو بتدریج تباہ حالی کی جانب دکھیل رہی ہے۔
قلعے کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی اس کی تباہ حالی نظر آنی شروع ہو جاتی ہے۔
پکا قلعہ نہ صرف حیدرآباد بلکہ سندھ کی بھی ایک پہچان بنا ہوا ہے مگر اس تاریخی ورثے کو سنبھالنے اور بہتر کرنے کے بجائے ہم اسے برباد کررہے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ ریزہ یزہ ہوتے حیدرآباد کے پکے قلعے کو بھی کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی طرح بحال کرنے کے بارے میں سوچا جائے گا یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا سوچنا اور اس پر عمل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ سندھ کی تاریخ کے اہم سیاسی واقعات اس قلعے سے ہی وابستہ ہیں۔
ِِِِِ
Comments
Post a Comment