Faisal Rehman profile of Daniyal Rajput Revised
Revised
Before editing pls go thru comments on first version.
Intro is too traditional
Before editing pls go thru comments on first version.
Name Faisal Rehman
Roll no: 2K17-MC-29
پروفائل:
دانیال راجپوت (کرکٹر)
ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خاصیت ضرور ہوتی ہے۔کوئی نہ کوئی ایسا ہنر ضرور ہوتا ہے جسے اگر انسان وقت پر پہچان لے اس کے لیے محنت اور لگن سے کوشش کرنے لگ جائے تو وہ نکھر کر ایک دن ستارہ بن جاتاہے۔اسی طرح کسی انسان کے پاس بولنے کا تو کسی کی آواز میں میں سر ہوتا ہے گانے کا،لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ انسان اپنی محنت اور کاوش سے حاصل کرتا ہے۔انسان کامیاب بھی وہی ہوتا ہے جو اپنی مجبوریوں کا بیٹھ کر رونا نہیں روتابلکہ ان مجبوریوں سے زندگی بھر کا کے لیے سبق سیکھتا ہے۔ایسا ہی ہے حیدآباد کا ایک نوجوان کرکٹر دانیال راجپوت،جس نے ۱۲ نومبر ۶۹۹۱ کو حیدآباد کے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی۔باپ کو بچپن سے محنت،مشقت کرتے دیکھا۔لیکن کہتے ہیں نہ کہ خواب بڑے ہونے چاہیے تو تعبیر مل ہی جاتی ہے،بلکل اسی طرح دانیال نے بھی بچپن سے ہی ایک کرکٹر بننے کا خواب سجایا ہوا تھا۔
دانیال نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سے حاصل کی۔دانیال کو بچپن سے کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا۔اس نے گلی محلو ں سے آٹھ سال کی عمر میں کرکٹ کھیلنا شروع کی۔اس شوق کو پالنے کے لیے دانیال کو گھر والوں کی طرف سے ہمیشہ یہ دباؤ رہتا کہ اس کھیل سے کچھ نھیں ملے گااور اپنی پڑھائی کی طرف متوجہ ہونے کا کہا جاتا۔پر کہتے ہیں نہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔دانیال نے اسی طرح اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے شوق کو بھی بھرپور وقت دیا،اور حیدآباد میں منعقد ہونے والے چھوٹے چھوٹے ٹونامنٹ کھیلنے شروع کیے،اور اپنے آپ کو دائیں ہاتھ کے سپین بولر کے طور پر میدان میں متارف کروایا،اور حیدآباد میں ہی کلب کرکٹ کھیلنا شروع کی۔
میٹرک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دانیال نے حیدآباد سے آگے بڑھ کر اپنی آنکھوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کا خواب سجائے کراچی کا رخ کیا۔کراچی میں ایک نجی اکیڈمی میں کرکٹ کی ٹریننگ لینا شروع کی،اور ساتھ میں کراچی میں کلب لیول پر کھیلنا شروع کیا، اسی دوران کراچی میں ہونے والے ایک ٹورنامنٹ میں دانیال نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نمائندگی کی۔دانیال نے اس ٹورنامنٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی، اور اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے انڈر نائنٹین ٹیم کے سلیکٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا، اور ۶۱۰۲ میں پاکستان انڈر نائینٹین ٹیم میں سلیکٹ ہو کر پاکستان کی نمائندگی کی۔
دانیال کے بچپن کے دوست عمیر راجپوت کا کہنا تھا کہ دانیال بچپن ہی سے کرکٹ کا بڑا شوقین تھا۔اکثر دانیال کرکٹ کی وجہ سے اسکول سے چھٹی بھی کرتا تھا۔اور پرھنے میں کافی اچھا ہونے کے باوجود بھی پڑھائی سے ہمیشہ دور بھاگتا تھا۔ایک اور قریبی دوست کا کہنا تھا کہ دانیال آج بھی بلکل ویسا ہی ہے جیسا بچپن میں تھا۔آج بھی دوستوں کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کرتا ہے۔اس نے مزید بتایا کہ جہاں دانیال کی اتنی اچھی عادتیں تو وہی دانیال کی ایک بہت بری عادت یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت جلد غصہ کرنے لگ جاتا ہے۔دانیال کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹے کو اس مقام تک پہنچتا اور پاکستان کے لیے کھیلتا دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔جبکہ دانیال کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ یہ دعا کرتی رہتی ہو کہ اللہ میرے بیٹے کو مذید کامیابی عطا کرے۔
دانیال راجپوت کا کہنا تھا کہ اس نے گلی محلوں سے کرکٹ کا آغاز کیا تھا اور بچپن سے ہی یہ خواب تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنی ہے۔پاکستان انڈر نائنٹین ٹیم کی نمائندگی کے بعد اب پاکستان نیشنل ٹیم کی نمائندگی کا خواب آنکھوں میں ہے جس کے لیے دن رات محنت کر رہا ہوں اور بہت جلد اپنے خواب کو پورا ہوتا دیکھ رہا ہو۔
Not reporting based, its life Cv style
not in profile format
its 480 words, 600 words are needed
Foto???
Faisal Rehman
Roll no: 2K17-MC-29
پروفائل:
دانیال راجپوت (کرکٹر)
فیصل الرحمان
ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خاصیت ضرور ہوتی ہے۔کوئی نہ کوئی ایسا ہنر ضرور ہوتا ہے جسے اگر انسان وقت پر پہچان لے اس کے لیے محنت اور لگن سے کوشش کرنے لگ جائے تو وہ نکھر کر ایک دن ستارہ بن جاتاہے۔اسی طرح کسی انسان کے پاس بولنے کا تو کسی کی آواز میں میں سر ہوتا ہے گانے کا،لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ انسان اپنی محنت اور کاوش سے حاصل کرتا ہے۔انسان کامیاب بھی وہی ہوتا ہے جو اپنی مجبوریوں کا بیٹھ کر رونا نہیں روتابلکہ ان مجبوریوں سے زندگی بھر کا کے لیے سبق سیکھتا ہے۔ایسا ہی ہے حیدآباد کا ایک نوجوان کرکٹر دانیال راجپوت،جس نے ۱۲ نومبر ۶۹۹۱ کو حیدآباد کے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی۔باپ کو بچپن سے محنت،مشقت کرتے دیکھا۔لیکن کہتے ہیں نہ کہ خواب بڑے ہونے چاہیے تو تعبیر مل ہی جاتی ہے،بلکل اسی طرح دانیال نے بھی بچپن سے ہی ایک کرکٹر بننے کا خواب سجایا ہوا تھا۔
دانیال نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول سے حاصل کی۔دانیال کو بچپن سے کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا۔اس نے گلی محلو ں سے آٹھ سال کی عمر میں کرکٹ کھیلنا شروع کی۔اس شوق کو پالنے کے لیے دانیال کو گھر والوں کی طرف سے ہمیشہ یہ دباؤ رہتا کہ اس کھیل سے کچھ نھیں ملے گااور اپنی پڑھائی کی طرف متوجہ ہونے کا کہا جاتا۔پر کہتے ہیں نہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔دانیال نے اسی طرح اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے شوق کو بھی بھرپور وقت دیا،اور حیدآباد میں منعقد ہونے والے چھوٹے چھوٹے ٹونامنٹ کھیلنے شروع کیے،اور اپنے آپ کو دائیں ہاتھ کے سپین بولر کے طور پر میدان میں متارف کروایا،اور حیدآباد میں ہی کلب کرکٹ کھیلنا شروع کی۔
میٹرک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دانیال نے حیدآباد سے آگے بڑھ کر اپنی آنکھوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کا خواب سجائے کراچی کا رخ کیا۔کراچی میں ایک نجی اکیڈمی میں کرکٹ کی ٹریننگ لینا شروع کی،اور ساتھ میں کراچی میں کلب لیول پر کھیلنا شروع کیا، اسی دوران کراچی میں ہونے والے ایک ٹورنامنٹ میں دانیال نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نمائندگی کی۔دانیال نے اس ٹورنامنٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی، اور اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے انڈر نائنٹین ٹیم کے سلیکٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا، اور ۶۱۰۲ میں پاکستان انڈر نائینٹین ٹیم میں سلیکٹ ہو کر پاکستان کی نمائندگی کی۔
دانیال راجپوت کا کہنا تھا کہ اس نے گلی محلوں سے کرکٹ کا آغاز کیا تھا اور بچپن سے ہی یہ خواب تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنی ہے۔پاکستان انڈر نائنٹین ٹیم کی نمائندگی کے بعد اب پاکستان نیشنل ٹیم کی نمائندگی کا خواب آنکھوں میں ہے جس کے لیے دن رات محنت کر رہا ہوں اور بہت جلد اپنے خواب کو پورا ہوتا دیکھ رہا ہو۔
Comments
Post a Comment