Sadia Younus Article حیدرآباد میں واٹر فلٹریشن
Before editing see comments on the first version of this piece
Revised
No report is quoted, its all hearsay.
Revised
سعدیہ یونس
رول نمبر 2K17-MC-137
حیدرآباد میں واٹر فلٹریشن کے نام پر لوگوں کے ساتھ دھوکا
واٹر فلٹریشن ایک ایسا عمل جس سے مضر صحت پانی کو مختلف مراحل سے گزار کر صاف کیاجاتا ہے اور پانی کو پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔پانی کو مختلف کیمیکل سے گزار کر فلٹر کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں ۱۲۰ سے ذائدپانی کے فلٹر پلانٹ لگے ہوئے ہیں جس میں سے چند لوگ معیاری طریقے سے پانی کو فلٹر کر کے بیچ رہے ہیں۔اور زیادہ تر لوگ غیر قانونی طور پر غیر معیاری پانی بیچ رہے ہیں۔جس میں بورنگ کے کھارے پانی کوکیمیکل وغیرہ شامل کر کے صاف بنایا جاتا ہے۔اور بہت سے لوگ تو واٹر سپلائی کے میٹھے پانی کو ہی گیلن اور بوتلوں میں بھر کر عوام کو گھر گھر پانی پہچاتے ہیں اور عوام کو اچھا چونا لگا رہے ہیں۔
واٹر فلٹریشن کے نام پر عوام کو وہی مضر صحت پانی ایک بھاری رقم میں بیچا جا رہا ہے۔جو نہ ہی صاف کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے منرلز وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں،بلکہ اپنے کاروبار کو منافع بخش بنانے کے لیے جیسا پانی آتا ہے اسے ہوبہو ویسا ہی گیلن اور بوٹل میں بند کر کے بیچ دیتے ہیں۔جس سے لوگ مختلف مضر صحت بیماریوں میں مبتلاہوجاتے ہیں۔حکومت کی جانب سے مختلف واٹر پلانٹس کے پانی کا لیبارٹری میں ٹیسٹ کروایا گیا جن میں سے اکثر واٹر پلانٹس کا پانی مضر صحت نکلا اس پر انہیں بھاری جرمانے بھی کیے گئے۔
پانی اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کے کچھ معنی نہیں پانی کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں۔پانی دو گیسوں ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب۔ان دونوں کے ملاپ سے پانی بنتا ہے پانی کا کیمیائی فارمولا H2Oہے۔کھانا کھائے بنا انسان چند دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہمارے جسم میں خوراک کی ترسیل کے لیے پانی کی مناسب مقدار بہت ضروری ہے طبی ماہرین کے مطابق پانی پینا ایک کامل علاج ہے۔ان بیماریوں سے بچنے کیلئے پانی بہت مفید ہے۔آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ جائے گی اور گرمیوں میں پانی کا زیادہ استعمال بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
عالمی صحت کے اداروں نے کم از کم ۸ سے ۱۰ گلاس پانی روزانہ استعمال کرنا صحت مند زندگی کے لئے لازمی قراردیا گیا ہے۔ پانی غذا ہضم کرنے کیلئے ضروری ہے پانی کی جسم کے ٹمریچر کو ترتیب دینے اور خون کی گردش کرنے میں ضرورت ہوتی ہے پانی گردوں کو صاف رکھنے کے لئے ضروری ہے۔اسی لیے پانی صحت کے لئے ضروری ہے بڑھاپے کے اثرات کم کرنے میں پانی اہم ہوتا ہے۔صبح کا آغاز ایک دو گلاس پانی پی کر کریں اپنے اسکول کالج اور آفس کی جگہ اور گھر میں اپنے لیے پانی کی بوتل علیحدہ رکھیں۔ہر ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے درمیان پانی کی مقدار جسم کے لیے ضروری ہے۔ صاف شفاف پانی کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں۔مشروبات کی کثیر استعمال کی بجائے سادہ پانی پینے کی عادت اپنائیں۔مگر انسان سادہ پانی پیئے بھی تو کس طرح پیئے حیدرآباد کے علاقوں میں واٹر سپلائی کا پانی بھی مہیا نہیں ہے۔ جسکی وجہ سے جن علاقوں میں واٹر سپلائی کے پانی کی سہولت موجود ہے تو لوگوں نے اس پانی کو اپنے کاروبار کا مرکز بنا رکھا ہے۔وہ لوگ گورنمنٹ کے د یے ہوئے واٹر سپلائی کے پانی کو گیلن اور بوتلوں میں بھر کر عوام میں پیسوں میں بیچ رہے ہیں۔ویسے تو صاف اور محفوظ پانی حیدرآباد کے علاوقوں کا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ پانی کی صفائی اور پاکی کی کمی کے نظام کی وجہ سے ہماری آبادیاں مہلک بیماریوں اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔پینے کے صاف پانی کے مسائل بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے بوتل کے پانی کا انتخاب تو کچھ نے گھروں پر صاف پانی کے لئے فلٹر لگوالئے ہیں۔حیدرآباد ۱۰ سال قبل ضلعی حکومت کے دور میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کی لئے مختلف علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے جو ضلعی انتظامیہ میں لا پروائی کی وجہ سے ناکارہ ہوگئے ہیں اور شہری پینے کے صاف پانی محروم ہیں۔
۹۰۰۲ میں وفاقی حکومت نے غیر ملکی فنڈنگ سے ضلعی حکومت کی عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے تھے۔ضلعی حکومت کے ختم ہونے کے ہونے کے بعد کسی بھی متعلقہ ادارے نے ان فلٹرپلانٹس کی دیکھ بھال نہیں کی اور اب یہ پلانٹس بند ہوچکے ہیں۔حیدرآباد میں حکومت کی جانب سے۰ ۵ فلٹر پلانٹ لگائے گئے تھے۔ایک پلانٹ پر ۵۱ لاکھ روپے اخراجات آئے۔پلانٹس چلانے کے لئے علیحدہ بجلی کا انتظام کیا گیااور ملازمین بھی رکھے گئے۔لیکن فنڈزکی کمی کا جواز پیش کرکے اس عوامی منصوبے کو بھی تباہ کر دیا گیا۔فلٹریشن پلانٹس لگا قیمتی سامان اور نلکے چوری ہوچکے ہیں۔جبکہ اکثر فلٹر پلانٹ کچرا کنڈیاں بن چکے ہیں۔حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے خرچ کرکے واٹر فلٹریشن پلانٹس سمیت مختلف منصوبوں کا افتتاح تو کیا جاتا ہے مگر ان منصوبوں کو جاری رکھنے کے لئے کوئی انتظامات نہیں کئے جاتے۔
منصوبے مستقل طور پر جاری نہ رہنیے کے باعث عمارتوں اور مشینری پر خرچے جانے والے عوام کے کروڑوں روپے ضائع جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہے کے تمام غیر قانونی واٹر پلانٹ کو فوری بند کیا جائے اور واٹر فلٹریشن کے پانی کو اس قابل بنائے کہ عوام کو پیسوں کے عوض ہی صاف پانی میسر ہو سکے،اور لوگ واٹر فلٹریشن کے نام سے دیے جانے والے دوکھے سے بچ سکیں۔
No report is quoted, its all hearsay.
There was report of water commission and some others.
No of filter plants, their capacity,or private business
Referred back
تحریر: سعدیہ یونس
رول نمبر 2K17-MC-137
حیدرآباد میں واٹر فلٹریشن کے نام پر لوگوں کے ساتھ دھوکا
واٹر فلٹریشن ایک ایسا عمل جس سے مضر صحت پانی کو مختلف مراحل سے گزار کر صاف کیاجاتا ہے اور پانی کو پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔پانی کو مختلف کیمیکل سے گزار کر فلٹر کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں ۱۲۰ سے ذائدپانی کے فلٹر پلانٹ لگے ہوئے ہیں جس میں سے چند لوگ معیاری طریقے سے پانی کو فلٹر کر کے بیچ رہے ہیں۔اور زیادہ تر لوگ غیر قانونی طور پر غیر معیاری پانی بیچ رہے ہیں۔جس میں بورنگ کے کھارے پانی کوکیمیکل وغیرہ شامل کر کے صاف بنایا جاتا ہے۔اور بہت سے لوگ تو واٹر سپلائی کے میٹھے پانی کو ہی گیلن اور بوتلوں میں بھر کر عوام کو گھر گھر پانی پہچاتے ہیں اور عوام کو اچھا چونا لگا رہے ہیں۔
واٹر فلٹریشن کے نام پر عوام کو وہی مضر صحت پانی ایک بھاری رقم میں بیچا جا رہا ہے۔جو نہ ہی صاف کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے منرلز وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں،بلکہ اپنے کاروبار کو منافع بخش بنانے کے لیے جیسا پانی آتا ہے اسے ہوبہو ویسا ہی گیلن اور بوٹل میں بند کر کے بیچ دیتے ہیں۔جس سے لوگ مختلف مضر صحت بیماریوں میں مبتلاہوجاتے ہیں۔حکومت کی جانب سے مختلف واٹر پلانٹس کے پانی کا لیبارٹری میں ٹیسٹ کروایا گیا جن میں سے اکثر واٹر پلانٹس کا پانی مضر صحت نکلا اس پر انہیں بھاری جرمانے بھی کیے گئے۔
پانی اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کے کچھ معنی نہیں پانی کے بغیر زندگی کا وجود ممکن نہیں۔پانی دو گیسوں ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب۔ان دونوں کے ملاپ سے پانی بنتا ہے پانی کا کیمیائی فارمولا H2Oہے۔کھانا کھائے بنا انسان چند دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہمارے جسم میں خوراک کی ترسیل کے لیے پانی کی مناسب مقدار بہت ضروری ہے طبی ماہرین کے مطابق پانی پینا ایک کامل علاج ہے۔ان بیماریوں سے بچنے کیلئے پانی بہت مفید ہے۔آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ جائے گی اور گرمیوں میں پانی کا زیادہ استعمال بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
عالمی صحت کے اداروں نے کم از کم ۸ سے ۱۰ گلاس پانی روزانہ استعمال کرنا صحت مند زندگی کے لئے لازمی قراردیا گیا ہے۔ پانی غذا ہضم کرنے کیلئے ضروری ہے پانی کی جسم کے ٹمریچر کو ترتیب دینے اور خون کی گردش کرنے میں ضرورت ہوتی ہے پانی گردوں کو صاف رکھنے کے لئے ضروری ہے۔اسی لیے پانی صحت کے لئے ضروری ہے بڑھاپے کے اثرات کم کرنے میں پانی اہم ہوتا ہے۔صبح کا آغاز ایک دو گلاس پانی پی کر کریں اپنے اسکول کالج اور آفس کی جگہ اور گھر میں اپنے لیے پانی کی بوتل علیحدہ رکھیں۔ہر ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے درمیان پانی کی مقدار جسم کے لیے ضروری ہے۔ صاف شفاف پانی کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں۔مشروبات کی کثیر استعمال کی بجائے سادہ پانی پینے کی عادت اپنائیں۔مگر انسان سادہ پانی پیئے بھی تو کس طرح پیئے حیدرآباد کے علاقوں میں واٹر سپلائی کا پانی بھی مہیا نہیں ہے۔ جسکی وجہ سے جن علاقوں میں واٹر سپلائی کے پانی کی سہولت موجود ہے تو لوگوں نے اس پانی کو اپنے کاروبار کا مرکز بنا رکھا ہے۔وہ لوگ گورنمنٹ کے د یے ہوئے واٹر سپلائی کے پانی کو گیلن اور بوتلوں میں بھر کر عوام میں پیسوں میں بیچ رہے ہیں۔ویسے تو صاف اور محفوظ پانی حیدرآباد کے علاوقوں کا ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔ پانی کی صفائی اور پاکی کی کمی کے نظام کی وجہ سے ہماری آبادیاں مہلک بیماریوں اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔پینے کے صاف پانی کے مسائل بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے بوتل کے پانی کا انتخاب تو کچھ نے گھروں پر صاف پانی کے لئے فلٹر لگوالئے ہیں۔
حکومت کو چاہے کے تمام غیر قانونی واٹر پلانٹ کو فوری بند کیا جائے اور واٹر فلٹریشن کے پانی کو اس قابل بنائے کہ عوام کو پیسوں کے عوض ہی صاف پانی میسر ہو سکے،اور لوگ واٹر فلٹریشن کے نام سے دیے جانے والے دوکھے سے بچ سکیں۔
Comments
Post a Comment