faisal rehman article urdu published
U can not give anonymous or general remarks/ reference. be specific, Quote source, reports, some research or such other things.
There are around 50 TV channels, u say pakistan produces 100 dramas in a year.
نام فیصل رحمان
رول نمبر 2K17-MC-29
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری اور نوجوانو ں کی رغبت
انسان کو ہمیشہ سے ہی تفریح اور تفریحی مقامات کی ضرورت رہی ہے۔جب انسان اپنے معمولات زندگی سے اکتا جاتا ہے تو تفریح کے حصول کی کو شش کرتا ہے۔جس سے اس کا ذہن تروتازہ ہو جاتا ہے، موجودہ دور میں ٹیلی ویژن کو تفریح کا سب سے بہترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ڈرامے معاشرے کی کہانیوں اور واقعات کو مختلف رنگوں میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں،اور لوگ انہیں دیکھ کر تفریح حاصل کرتے ہیں۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ہر سال تقریبا سو سے زائد ڈرامے بنتے ہیں۔ہر ڈرامے میں ایسی کہانیاں اور واقعات شامل کیے جاتے ہیں جن کی طرف لوگ ذیادہ سے ذیادہ متوجہ ہواور ہر ڈرامہ دوسرے ڈرامے پرسبقت لے جانے کوتیاررہتاہے۔اسی کشمکش کی دوڑ میں بہت سے ایسے ڈ رامے بھی بنائے جاتے ہیں جن کا ہماری ثقافت اور ہمارے معاشرے سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی پائی جاتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ڈرامہ نگار اس بات کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسے موضوعات کو ڈرامے کی شکل دینا پسند کرتے ہیں جو عشق ومحبت پر مبنی ہو۔نوجوانوں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ عشق ومحبت ہوتا ہے۔اب پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری اس موضوع کو غنیمت جانتے ہوئے اس کا بھرپور استعمال کر رہی ہے،نہ صرف استعمال کر رہی ہے بلکہ نوجوان نسل کو بہت حد تک اپنی جانب راغب میں کامیاب بھی ہے۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں بننے والے ڈراموں میں اس وقت نوے فیصد ڈرامے عشق ومذاح پر بن رہے ہیں،جس کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ڈراموں کو دیکھتی ہے۔
ابھی حال ہی میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے کچھ ایسے ڈرامے جن کے نام زبان زدعام تھے،محبت تم سے نفرت ہے،خانی ، کوئی چاند رکھ، رانجھا رانجھاکر دی، چیخ، دل کیا کرے، سب اسی موضوع کی عکاسی کرتے نظر آئے اور نوجوانوں میں نہایت ہی مقبول ہوئے جب کہ ان ڈراموں میں کوئی ایسا موضوع نہیں تھا جو ہمارے معاشرے ہماری ثقافت کو پروان چڑھا رہا ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا پیغام دیا گیا جو کہ معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کر سکے۔
حال ہی میں پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو ایک خط بھیجا گیا جس میں انہیں متنازعہ اور غیر اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی نشریات فوری روکنے کی ہدایت کی ہے۔پیمرا کی جانب سے خط میں کہا گیا کہ پاکستانی ڈرامہ حقیقی پاکستانی معاشرے کی عکاسی نہیں کر رہا۔اسی طرح چند پاکستانی ہدایت کار اور اداکار بھی اس بات پر زور دے چکے ہیں۔ہدایت کار اور اداکار سرمدکھوسٹ کا ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ ہم نے ڈراموں سے نفاست نکال دی ہے۔ ریٹینگ کی دوڑ سے ایکٹینگ کا معیار گر گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بہت سی ایسی چیزیں نکالنہ شروع کر دی جو ہمارے ڈراموں کا خاصہ تھا۔
معروف قلم کار فصیح باری خان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ انڈسٹری نے جب غیر معیاری ناولوں کی ڈرامائی تشکیل کی اور اس سے ریٹینگ آئی تو پھر انہوں نے اسی طرح کے ڈرامے تیار کرنے شروع کر دیے۔
معروف قلم کار آمنہ نقی کا کہنا تھا کہ کیسا ڈرامہ لکھا جائے اس کا فیصلہ ہمارے ہاں کوئی دانش ور نہیں کرتا یہ اختیار کانٹینٹ ہیڈ اور چینل مالکان کے پاس ہوتا ہے اور وہی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا مواد دکھایا جائے گا۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو ایسے ڈرامے تخلیق کرنا ہوں گے جو تفریح کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہوں۔ قلم کاروں اور ہدایت کاروں کو بھی ریٹینگ سے ہٹ کر سوچنا ہوگا اور ایسا مواد عوام کے سامنے پیش کرنا ہو گا جو ہمارے معاشرے اور ثکافت کی عکاسی کرے،اور لوگوں میں مثبت سوچ کا رجحان پروان چڑھیں اور ہمارے نوجواں بچے،بچیوں کی اخلاقی تربیت ہو سکے۔
Comments
Post a Comment