fazal hussain نوجوانوں میں بڑھتا ہوا شیشہ کلچر
پاکستان میں نوجوانوں میں بڑھتا ہوا شیشہ کلچر
دن بدن پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں شیشہ پینے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔تقریباََ ہر ریستوران اور ہوٹلوں پر جو اب عام نظر آرہا ہے وہ دوستوں کا مل بیٹھ کر شیشہ پینا ہے جبکہ کئی شہروں میں تو شیشہ پینے کے کیفے بھی قائم ہیں۔اکثر نوجوانوں کے پاس تو نجی شیشہ موجود ہے تاکہ ان مراکز پر جانے سے بچا جا سکے۔زیادہ تر لوگ اسے تفریح کے طورپر استعمال کرتے ہیں لیکن تفریح کے طور پر استعمال کئے جانے والا یہ شیشہ کلچر بہت تیزی سے ہما رے سماج میں سرایت کر رہا ہے مگر یہ کتنا نقصاندہ اور خطرناک ہے یہ نوجوان بہر حا ل اس سے نا واقف ہیں۔
ماہرین کی رائے کے مطا بق شیشہ ہمارے ملک کے دیہی علاقوں میں پیے جانے والے حقے کی جدید شکل اور مختلف قسم کے ذائقے کے حامل تمباکو کا نام ہے۔ ہمارے معاشرے میں شیشہ کلچر اس قدر مقبولیت حاصل کر چکا ہے جو کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اب اس کے اثرات آہستہ آہستہ آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارہئ صحت (ڈبلیو۔ایچ۔او) کے مطابق ایک گھنٹہ شیشہ کا پینا ایک سو سگریٹ پینے کے مترادف ہے۔شیشہ میں نکوٹین اور دیگر خطرناک کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوکہ مضرِصحت ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ طبی ماہرین کے پیشِ نظر شیشہ کا استعمال امراضِ قلب،دمہ،ٹی بی اور دیگر سانس کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔اس کے علاوہ یہ خواتین اور مردوں میں بانچھ پن کا بھی سبب بنتا ہے حاملہ خواتین ان سے جتنا دور رہیں اتنا بہتر ہے کیونکہ اس میں کاربن مونو آکسائیڈ،کوبالٹ،لیڈ اور ٹار کا عنصر شامل ہے۔
ہر چھوٹے بڑے شہر میں نجی اور غیر قانونی شیشہ کیفے کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے عمو ماََ ایک شیشہ کی قیمت ۰۰۲ سے ۰۰۰۵ تک مقرر ہوتی ہے۔شیشہ کیفے کے مالک تیمور خان کا کہنا ہے کہ اس نے تین سال پہلے ریستوران ختم کر کے شیشہ با ر کھولا۔اس کے پاس ۰۰۱ سے زائد شیشہ فلیور ہیں روزانہ کی بنیاد پر ۰۶ سے ۰۷ شیشے فروخت کرتا ہے اس کی روزانہ کی کما ئی ۹سے ۰۱ ہزار روپے ہے۔
پاکستان میں شیشہ کا رحجان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق ۰۵ فیصد مرد نوجوان اسکا استعمال کر رہے ہیں جبکہ ۳۱ سے ۵۱ فیصد خواتین بھی اس کی لت کا شکا ر ہیں۔اکثر والدین اس کے نقصان سے بے خبر ہیں وہ اپنے بچوں کو خود اس کی اجازت دیتے ہیں بلکہ خود ان کے ساتھ یہ زہر پیتے ہیں۔بظاہر تو یہ ایک فروٹ فلیورڈنظرآتا ہے لیکن اس میں نکو ٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے تا کہ نو جوان اس کا عا دی ہو جا ئے۔ بہت سے نوجوان طالب علم اتنے عا دی ہو چکے ہیں کہ اس کے بغیر ان کی سو چنے سمجھنے کی صلا حیت متا ثر ہو جاتی ہے جو ان کی پڑھا ئی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
محکمہ صحت کی سالانہ رپورٹ کے پیش ِنظر پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کے استعمال کی وجہ سے لقمہئ اجل بن جاتے ہیں تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ اموات ٹریفک حادثات،خودکش حملوں اور ہر سال غیرت کے نام پر ہو نے والی اموات سے کئیں زیادہ ہیں۔
پاکستان میں تمباکو نوشی روکنے کی روک تھام کیلئے قانون موجود ہیں اور گزشتہ سا ل سندھ اسمبلی میں شیشہ پینے پر پابندی کے متعلق ایک قرارداد بھی پیش کی گئی تھی۔لیکن اکثر افراد یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر قانون پر صحیح عمل درآمد ہو تو اس شیشہ کلچر کی شدت میں اتنی تیزی سے اضافہ نہ ہوتا۔
....................................................................................................
Too short. referred back. Some attribution, and reference of reports are needed
پاکستان میں نوجوانوں میں بڑھتا ہوا شیشہ کلچر
دن بدن پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں شیشہ پینے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔تقریباََ ہر ریستوران اور ہوٹلوں پر جو اب عام نظر آرہا ہے وہ دوستوں کا مل بیٹھ کر شیشہ پینا ہے جبکہ کئی شہروں میں تو شیشہ پینے کے کیفے بھی قائم ہیں۔اکثر نوجوانوں کے پاس تو نجی شیشہ موجود ہے تاکہ ان مراکز پر جانے سے بچا جا سکے۔زیادہ تر لوگ اسے تفریح کے طورپر استعمال کرتے ہیں لیکن تفریح کے طور پر استعمال کئے جانے والا یہ شیشہ کلچر بہت تیزی سے ہما رے سماج میں سرایت کر رہا ہے مگر یہ کتنا نقصاندہ اور خطرناک ہے یہ نوجوان بہر حا ل اس سے نا واقف ہیں۔
ماہرین کی رائے کے مطا بق شیشہ ہمارے ملک کے دیہی علاقوں میں پیے جانے والے حقے کی جدید شکل اور مختلف قسم کے ذائقے کے حامل تمباکو کا نام ہے۔ ہمارے معاشرے میں شیشہ کلچر اس قدر مقبولیت حاصل کر چکا ہے جو کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اب اس کے اثرات آہستہ آہستہ آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارہئ صحت (ڈبلیو۔ایچ۔او) کے مطابق ایک گھنٹہ شیشہ کا پینا ایک سو سگریٹ پینے کے مترادف ہے۔شیشہ میں نکوٹین اور دیگر خطرناک کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوکہ مضرِصحت ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ طبی ماہرین کے پیشِ نظر شیشہ کا استعمال امراضِ قلب،دمہ،ٹی بی اور دیگر سانس کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جبکہ حاملہ خواتین ان سے جتنا دور رہیں اتنا بہتر ہے کیونکہ اس میں کاربن مونو آکسائیڈ اور ٹار کا عنصر شامل ہے۔
پاکستان میں شیشہ کا رحجان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق ۵۵ فیصد مرد نوجوان اسکا استعمال کر رہے ہیں جبکہ ۳۱ سے ۵۱ فیصد خواتین بھی اس کی لت کا شکا ر ہیں۔اکثر والدین اس کے نقصان سے بے خبر ہیں وہ اپنے بچوں کو خود اس کی اجازت دیتے ہیں بلکہ خود ان کے ساتھ یہ زہر پیتے ہیں۔بظاہر تو یہ ایک فروٹ فلیورڈنظرآتا ہے لیکن اس میں نکو ٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے تا کہ نو جوان اس کا عا دی ہو جا ئے۔ بہت سے نوجوان طالب علم اتنے عا دی ہو چکے ہیں کہ اس کے بغیر ان کی سو چنے سمجھنے کی صلا حیت متا ثر ہو جاتی ہے جو ان کی پڑھا ئی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستان میں تمباکو نوشی روکنے کی روک تھام کیلئے قانون موجود ہیں اور گزشتہ سا ل سندھ اسمبلی میں شیشہ پینے پر پابندی کے متعلق ایک قرارداد بھی پیش کی گئی تھی۔لیکن اکثر افراد یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر قانون پر صحیح عمل درآمد ہو تو اس شیشہ کلچر کی شدت میں اتنی تیزی سے اضافہ نہ ہوتا۔
دن بدن پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں شیشہ پینے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔تقریباََ ہر ریستوران اور ہوٹلوں پر جو اب عام نظر آرہا ہے وہ دوستوں کا مل بیٹھ کر شیشہ پینا ہے جبکہ کئی شہروں میں تو شیشہ پینے کے کیفے بھی قائم ہیں۔اکثر نوجوانوں کے پاس تو نجی شیشہ موجود ہے تاکہ ان مراکز پر جانے سے بچا جا سکے۔زیادہ تر لوگ اسے تفریح کے طورپر استعمال کرتے ہیں لیکن تفریح کے طور پر استعمال کئے جانے والا یہ شیشہ کلچر بہت تیزی سے ہما رے سماج میں سرایت کر رہا ہے مگر یہ کتنا نقصاندہ اور خطرناک ہے یہ نوجوان بہر حا ل اس سے نا واقف ہیں۔
ماہرین کی رائے کے مطا بق شیشہ ہمارے ملک کے دیہی علاقوں میں پیے جانے والے حقے کی جدید شکل اور مختلف قسم کے ذائقے کے حامل تمباکو کا نام ہے۔ ہمارے معاشرے میں شیشہ کلچر اس قدر مقبولیت حاصل کر چکا ہے جو کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اب اس کے اثرات آہستہ آہستہ آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارہئ صحت (ڈبلیو۔ایچ۔او) کے مطابق ایک گھنٹہ شیشہ کا پینا ایک سو سگریٹ پینے کے مترادف ہے۔شیشہ میں نکوٹین اور دیگر خطرناک کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوکہ مضرِصحت ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ طبی ماہرین کے پیشِ نظر شیشہ کا استعمال امراضِ قلب،دمہ،ٹی بی اور دیگر سانس کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔اس کے علاوہ یہ خواتین اور مردوں میں بانچھ پن کا بھی سبب بنتا ہے حاملہ خواتین ان سے جتنا دور رہیں اتنا بہتر ہے کیونکہ اس میں کاربن مونو آکسائیڈ،کوبالٹ،لیڈ اور ٹار کا عنصر شامل ہے۔
ہر چھوٹے بڑے شہر میں نجی اور غیر قانونی شیشہ کیفے کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے عمو ماََ ایک شیشہ کی قیمت ۰۰۲ سے ۰۰۰۵ تک مقرر ہوتی ہے۔شیشہ کیفے کے مالک تیمور خان کا کہنا ہے کہ اس نے تین سال پہلے ریستوران ختم کر کے شیشہ با ر کھولا۔اس کے پاس ۰۰۱ سے زائد شیشہ فلیور ہیں روزانہ کی بنیاد پر ۰۶ سے ۰۷ شیشے فروخت کرتا ہے اس کی روزانہ کی کما ئی ۹سے ۰۱ ہزار روپے ہے۔
پاکستان میں شیشہ کا رحجان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق ۰۵ فیصد مرد نوجوان اسکا استعمال کر رہے ہیں جبکہ ۳۱ سے ۵۱ فیصد خواتین بھی اس کی لت کا شکا ر ہیں۔اکثر والدین اس کے نقصان سے بے خبر ہیں وہ اپنے بچوں کو خود اس کی اجازت دیتے ہیں بلکہ خود ان کے ساتھ یہ زہر پیتے ہیں۔بظاہر تو یہ ایک فروٹ فلیورڈنظرآتا ہے لیکن اس میں نکو ٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے تا کہ نو جوان اس کا عا دی ہو جا ئے۔ بہت سے نوجوان طالب علم اتنے عا دی ہو چکے ہیں کہ اس کے بغیر ان کی سو چنے سمجھنے کی صلا حیت متا ثر ہو جاتی ہے جو ان کی پڑھا ئی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
محکمہ صحت کی سالانہ رپورٹ کے پیش ِنظر پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کے استعمال کی وجہ سے لقمہئ اجل بن جاتے ہیں تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ اموات ٹریفک حادثات،خودکش حملوں اور ہر سال غیرت کے نام پر ہو نے والی اموات سے کئیں زیادہ ہیں۔
پاکستان میں تمباکو نوشی روکنے کی روک تھام کیلئے قانون موجود ہیں اور گزشتہ سا ل سندھ اسمبلی میں شیشہ پینے پر پابندی کے متعلق ایک قرارداد بھی پیش کی گئی تھی۔لیکن اکثر افراد یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر قانون پر صحیح عمل درآمد ہو تو اس شیشہ کلچر کی شدت میں اتنی تیزی سے اضافہ نہ ہوتا۔
Too short. referred back. Some attribution, and reference of reports are needed
پاکستان میں نوجوانوں میں بڑھتا ہوا شیشہ کلچر
دن بدن پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں شیشہ پینے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔تقریباََ ہر ریستوران اور ہوٹلوں پر جو اب عام نظر آرہا ہے وہ دوستوں کا مل بیٹھ کر شیشہ پینا ہے جبکہ کئی شہروں میں تو شیشہ پینے کے کیفے بھی قائم ہیں۔اکثر نوجوانوں کے پاس تو نجی شیشہ موجود ہے تاکہ ان مراکز پر جانے سے بچا جا سکے۔زیادہ تر لوگ اسے تفریح کے طورپر استعمال کرتے ہیں لیکن تفریح کے طور پر استعمال کئے جانے والا یہ شیشہ کلچر بہت تیزی سے ہما رے سماج میں سرایت کر رہا ہے مگر یہ کتنا نقصاندہ اور خطرناک ہے یہ نوجوان بہر حا ل اس سے نا واقف ہیں۔
ماہرین کی رائے کے مطا بق شیشہ ہمارے ملک کے دیہی علاقوں میں پیے جانے والے حقے کی جدید شکل اور مختلف قسم کے ذائقے کے حامل تمباکو کا نام ہے۔ ہمارے معاشرے میں شیشہ کلچر اس قدر مقبولیت حاصل کر چکا ہے جو کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اب اس کے اثرات آہستہ آہستہ آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارہئ صحت (ڈبلیو۔ایچ۔او) کے مطابق ایک گھنٹہ شیشہ کا پینا ایک سو سگریٹ پینے کے مترادف ہے۔شیشہ میں نکوٹین اور دیگر خطرناک کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جوکہ مضرِصحت ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ طبی ماہرین کے پیشِ نظر شیشہ کا استعمال امراضِ قلب،دمہ،ٹی بی اور دیگر سانس کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جبکہ حاملہ خواتین ان سے جتنا دور رہیں اتنا بہتر ہے کیونکہ اس میں کاربن مونو آکسائیڈ اور ٹار کا عنصر شامل ہے۔
پاکستان میں شیشہ کا رحجان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق ۵۵ فیصد مرد نوجوان اسکا استعمال کر رہے ہیں جبکہ ۳۱ سے ۵۱ فیصد خواتین بھی اس کی لت کا شکا ر ہیں۔اکثر والدین اس کے نقصان سے بے خبر ہیں وہ اپنے بچوں کو خود اس کی اجازت دیتے ہیں بلکہ خود ان کے ساتھ یہ زہر پیتے ہیں۔بظاہر تو یہ ایک فروٹ فلیورڈنظرآتا ہے لیکن اس میں نکو ٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے تا کہ نو جوان اس کا عا دی ہو جا ئے۔ بہت سے نوجوان طالب علم اتنے عا دی ہو چکے ہیں کہ اس کے بغیر ان کی سو چنے سمجھنے کی صلا حیت متا ثر ہو جاتی ہے جو ان کی پڑھا ئی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستان میں تمباکو نوشی روکنے کی روک تھام کیلئے قانون موجود ہیں اور گزشتہ سا ل سندھ اسمبلی میں شیشہ پینے پر پابندی کے متعلق ایک قرارداد بھی پیش کی گئی تھی۔لیکن اکثر افراد یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر قانون پر صحیح عمل درآمد ہو تو اس شیشہ کلچر کی شدت میں اتنی تیزی سے اضافہ نہ ہوتا۔
Comments
Post a Comment