Hifza Rajput, Article Urdu

Once again file name is wrong
Writer's name should also be written in medium in which writing piece is
Its too long
Intro is too traditional, make it current, updated, relevant
Draft
HIFZA RAJPUT
Roll No: 42
Urdu Article
آرٹیکل:
طلباء میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان:۔
نوجوان جو کہ کسی بھی ملک کی قومی طاقت کا ایک اہم عنصر ہوتے ہیں قوموں کی ترقی کا دارومدار اس کو نوجوانوں  پر ہوتا ہے اس لیے نوجوانوں کو قوم کا معمار کیا گیا ہے نوجوانون ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں کسی بھی قوم میں نوجان قوم کا قیمتی سرمایہ تصور کئے جاتے ہیں اگر ریڑھ کی ہڈی ہی ناتواں ہو تو پورا جسم کمزور پڑ جاتا ہے۔ جسم میں سکت نہیں ریتی راہ راست ہی نوجوانوں کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں جن کے نوجوان درست سمت پر چل رہے ہیں کیونکہ ان میں دنیا کو تبدیل کرنے کی طاقت و صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں نوجان نسل میں خود کشی کا رجحان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ آئے روز خبروں میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کی خود کشی کی خبر دیکھنے میں آتی ہے خودکشی کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد 15سے 20سال کے عمر کے لڑکے اور لڑکیوں کی ہے۔ 
پاکستان میں خود کشی کا رجحان ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجوہات میں سماجی دباؤ، ڈپریشن، خود اعتمادی میں کمی، تعلیمی اداروں کی غفلت، تعلیمی اداروں کا خراب اور بدعنوان نظام، غربت اور نوعمری کی محبت، آپس میں مقابلے کی دور ہمارے ملک کے کافی تعلیمی اداروں میں اس قدر جانبدار ہے جس کی بنیاد پر ہزاروں طلباء کو فیل کر دیا جاتا ہے یا ان کو نمبر کم دے کر انکی صلاحیتوں کو پست کر دیا جاتا ہے طلباء بار بار کوشش کرنے کے بعد بھی جب امتحان میں کامیاب نہیں ہو پاتے دوستوں اور گھر والوں کی باتوں سے تنگ آکر آخر میں تھک ہار کے خودکشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب کہ دوسری وجہ تعلیمی دباؤ انہیں ڈپریشن میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جس کہ وجہ سے کئی بچے خود کشی کر چکے ہیں جب کہ اس کی سب سے بڑی وجہ مذہب سے دورے ہے۔ ہم آج کل اپنے بچوں کو سمجھا ہی نہیں پا رہے کہ ہمارے دین اسلام میں خود کشی اور نا امیدی کتنا بڑا گناہ ہے۔ ایک اور وجہ والدین اور بچوں کے درمیان آنے والے ٹیکنالوجی کا فاصلہ بھی ہے۔ بچے والدین سے اپنی بہت سارے اہم باتیں بھی شیئر نہیں کر پاتے۔ پرائیویسی کے نام پر بچے اپنے ماں باپ سے اہم مسائل تک نہیں بتاتے جن کا بتانا بہت ضروری ہے۔ بیشتر گھروں میں شوہر اور بیوی کے درمیان تو تکار روز کا معمول بن چکی ہے۔ بعض اوقات بات لڑائی جھگڑوں سے آگے بڑھ جاتی ہے اور نوبت علیحدگی تک آ جاتی ہے۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں اور ان کے ذہن اور نفسیات پر سب سے پہلے ہی منفی اثرات پڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے ماں باپ کے درمیان علیحدگی کی یا طلاق اس کی شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیتی ہے۔ 
جس کی کئی مثالیں موجود ہیں کچھ ٹائم پہلے (LUMHS)میڈیکل کالج حیدرآباد کے ایم بی بی ایس نے 3rd yearکے طالب علم عاطف آرائیں اپنے آپ کو گولی مار لی جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ میڈیکل کی پڑھائی نہیں کرنا چاہتا تھا گھر والوں کے دباؤں میں آکر پڑھ رہا تھا اور یہ بات گھر والوں کی بھی معلوم تھی آخر کار وہ ڈپریشن کا مریض بن گیا اور اپنی جان لے لی۔
گجرانوالہ میں چھٹی جماعت کے طالب علم نے اسکول میں خود کشی کرنے کے کوشش کی اور خود کو گولی مار لی۔ 
13سالہ اسامہ نے امتحانات میں نمبر کم آنے پر خود کو گولی مار لی اور اپنی زندگی کو الوداع کہہ دیا۔ 
ایسی کئی مثالیں اور بھی ہیں۔ 
اعداد و شمار کے مطابق دیکھا جائے تو دنیا بھر میں ہر سال ایک ملین افراد خود کشی کرتے ہیں۔ تاہم ایک اندازے کے مطابق ملک میں روزانہ 15سے 35افراد خود کشی کرتے ہیں یعنی تقریبا ہر گھنٹے میں ایک شخص اپنی جان لیتا ہے۔ پاکستان میں خود کشی بڑھتی شرح کے باوجود اب تک کوئی سرکاری اعداد و شمار شائع نہیں کئے گئے 2001میں ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان میں ایک سال میں 3ہزار افراد نے خود کشی کی تھی۔ اس کے بعد اب تک اعداد و شمار کی کوئی مکمل رپورٹ جاری نہیں ہوئی۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص خود کشی کرتا ہے تو اس کے خاندان والے اس کیس کو چھپا دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 50فیصد نوجوان غربت، بے روزگاری اور اقتصادی مشکلات کے سبب خود کشی کرتے ہیں جب کہ ماہر نفسیات کے مطابق 80فیصد نوجوان ڈپریشن کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کشی ”ایک دن نہیں ہوتی جب کہ تعلیمی تحیقی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خود کشی کرنے والے 90فیصدف نوجوان کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔“
ماہر نفسیات ”عطیہ تقوی“ بتاتی ہیں کہ خود کشی کے بے شمار عوامل ہو سکتے ہین یہ ایک ایسا فعل ہے کہ جس کے بارے میں ہم اکثر لوگ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر سوچتے ضرور ہیں لیکن پھر کچھ اسی مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں کہ جو
 ہمیں زندگی کی طرف واپس کھینچ لاتی ہیں۔ 
ہمیں اپنے بچوں کو ذہنی طور پر مضبوطکرنے کی ضرورت ہے انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ذندگی میں بیشتر اتار چڑھاؤآتے رہتے ہیں اور موت کی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ہمیں اپنے بچوں کو مسائل سے ڈٹ کر مقابلہ کروانا  چاہیے    اور ان مسئلوں کو حل کرنا سکھانا ہو گا والدین اور اساتذہ کو بچوں کے مسائل اور ذہنی حالت کو سمجھنا ہو گا بچوں پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے کے بہ جائے انہیں امید پسند بنانا ہو گا انہیں یہ سمجھانا پڑے گا کہ محنت اور مسلسل کوشش سے انسان کسی بھی کامیابی کو پا سکتا ہے۔ انسان کو کبھی نا امید نہیں ہونا چاہئیے۔ 
والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی اس معاملے میں اہم کرداد ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو بچوں کی حوصلہ شکنی کے بہ جائے حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے۔ نوجوان نسل پر اعتماد دکھانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ بچے اپنے مسائل اور اپنی باتیں بلا جھجک والدین اور اساتذہ سے شیئر کر سکیں۔ 
میڈیا کا کردار بھی اس میں نہایت اہم ہے میڈیا پر چلنے والی فلمیں اور ڈرامے نوجواں نسل کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ لہذا میڈیا کو چاہیئے کہ مثبت چیزیں دکھائے تاکہ اس کے اثرات بھی مثبت ہوں۔ اور حکومت وقت کی یہ ذمہ داری ہے کہ خودکشی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے انسراد کے لیے مناسب و موزوں معاشی تدابیر کو اختیار کرے اور ساتھ ہی جانب داری کے مسئلے پر موثر قانون سازی کی جائے تاکہ نوجوان نسل کو خود کشی سے برباد ہونے بچایا جا سکے۔ 
سب سے ضروری نوجوانوں کو خود بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ اس کے خود کشی سے ان کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہو گی۔ اس کے اس اقدام سے ان کا خاندان معاشرے میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا اور نوجوان تو ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں زندگی ایک خوبصورت نعمت ہے اسے اللہ کے حکم کے مطابق گزارنا چاہئیے۔ مشکلات کی مدت ہی کم ہوتی ہے۔ ہر مشکل وقت میں اللہ تعالی پر بھروسہ رکھیں، یقینا وہ مشکلات کو ختم کرنے والا ہے یہی وقت ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور اس کے لیئے ہم سب کو مل کر عملے اقدام کرنے ہونگے تاکہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگی کو محفوظ کر سکیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article