kashan sikandar article urdu

ok
ٓآرٹیکل
کاشان سکندر
2k17/MC/51
BS-PIII
  جدیدصحافت:مو بائل جرنلزم:
صحافت کی تاریخ سینکڑوں سال پرانی ہے اس دنیا میں جب کبھی کسی شخص نے سوچا اور اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کا خیال آیا اسی دن صحافت کی بنیاد پڑی۔انسان نے کبھی رنگوں،روشنیوں، تصاویر اور آوازوں کو کبھی الفاظ اور معنی کو اپنے خیالات اور ذریعہ بنایا پھر جب ر سم الحظ اور زبانیں وجود میں آئی چھاپے خانے بنائے گئے کاغذ بنا اخباراور وسائل وجود میں آئے تو ذرائع ابلاغ نے اپنا سفر تیز کردیا۔
صحافت کا آغاز  1665میں آکسفورڈ گزٹ کی اشاعت کے ساتھ ہوگیا تھا۔پرنٹ کے بعد الیکٹرانک اور پھر آن لائن صحافت نے بہت تیزی سے اپنی جگہ بنائی اور اب موبائل جرنلزم کے حوالے سے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
موبائل جرنلزم اس دور کی ایک نئی اصطلاح ہے جس میں صحافی کو اس طرح تربیت دی جاتی ہے کہ وہ موبائل کے ذریعے اپنے کہانی یا رپورٹ خودمختاری کے ساتھ میڈیا تک پہنچا سکے۔
موبائل فون،اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل دور میں صرف نیوز چینلز میں کام کرنے والے لوگ ہی جرنلسٹ نہیں ہیں بلکہ ہر وہ شخص جس کے پاس اسمارٹ فون ہیں وہ جرنلسٹ بن سکتاہے۔ اگر آپ کواسمارٹ فون اچھے سے چلانا آتا ہو تو آپ اپنے موبائل کے ذریعے ہی ویڈیو بنا کر نیوز روم تک پہنچا سکتے ہیں۔
شعبہ صحافت کے اس نئے میڈیم(موبائل جرنلزم) کا فائدہ یہ ہے کہ ماضی میں انتہائی مہنگا کام سمجھے جانے والا ابلاغ انتہائی قلیل لاگت سے بہت دور تک با آسانی پہنچایا جاسکتا ہے۔ماضی میں اخبارات،ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی دسترس میں موجود اطلاعات موبائل جرنلزم کے ذریعے اب جلد اور زیادہ سہولت سے وزیٹر تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔
موبائل جرنلزم یا (موجو) ایک فری لانس یا اسٹاف رپورٹر جو عام طور پر پورٹیبل ڈیوائس جیسے اسمارٹ فونز،ٹیبلیٹ،ڈیجیٹل کیمرے یا لیپ ٹاپ کے ذریعے اپنی خبر کو جمع کرتا ہے اور پھر ترمیم یا اشتراک کرکے نیوز روم بھیجتا ہے یا پھر براہ راست سوشل میڈیا کے ذریعے شئیر کرتا ہے۔
موبائل جرنلزم (موجو) کا پس منظر
(1925)پرنٹڈ پریس اور لییکا(leica)
موبائل جرنلزم کی تاریخ کی وضاحت 1925میں لییکا کی 1اشاعت کے بغیر نہیں کی جاسکتی،جرمن کمپنی Leitzکے ورکشاپ میں اسکر برینک کی طرف سے 1913میں ڈیزائن کیا گیاچھوٹا35ملی میٹر کیمرا،نہ صرف ایک عظیم تکنیکی جدت تھا بلکہ ایک مستند تصوراتی انقلاب کی نمائندگی کرتا تھا جس نے 20ویں صدی کی تصویری صحافت کو تبدیل کردیا۔لییکا نے فوٹو گرافروں اور صحافیوں کو حرکت کرنے کی آزادی,انہیں اسٹوڈیو میں اپنے بھاری سامان چھوڑنے اور باہر جا نے کے قابل بنایا تاکہ وہ لمحات کو محفوظ کرسکیں اور رونما ہونے والے واقعات کی صحیح عکاسی کرسکیں۔
1953)) ٹی وی اور والکی لوکی
1930کے آخر میں جب پہلی مرتبہ نشریاتی ٹیسٹ کیا گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ جو ٹی وی ہم آج دیکھتے ہیں اسے مکمل طور پر تبدیل کر سکیں گے تا ہم رکارڈنگ کا سامان بہت بھاری تھا اور صرف اسٹوڈیو اور سیٹ پر استعمال کیا جا سکتا تھا اور جب کوئی واقعہ ہوتا جیسے کہ 1953میں کوئن الیزبیتھ دوئم کی تخت نشینی کی تقریب میں تو اسے بڑے ٹرکوں میں منتقل کر کے لے جایا گیا تھا اور یہ کام بی بی سی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ اس پورٹیبل کیمرے والکی کی اصل شکل نہیں تھاجو کہ صحافی آسانی سے باہر لے جاسکتے تھے۔اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پورٹیبل کیمرے نے تبدیلی پیدا کی اور وہ آگے بھی ہو رہی ہے۔
2007انٹرنیٹ اور آئی فون
1990کے دوران انٹرنیٹ نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی ایسی معلومات شئیر کی گئیں جس کی وجہ سے لوگوں نے اس میں دلچسپی لینا شروع کردی کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔گھر بیٹھے انہیں پوری دنیا کی معلومات مل جاتی تھیں جبکہ مواد کو اپ ڈیٹ کرنا آسان کام نہیں تھا جو سب کو میسر آسکے۔یہ دہائی اس ضمن میں بہت اہم رہی جب ویب 2.0کو متعارف کروایا گیا۔بلاکس اور سوشل میڈیا نیٹ ورک مارکیٹ میں آئے لیکن یہ سب کام آپ اپنے کمپیوٹر سے گھر یا آفس سے کر سکتے تھے۔2007میں آئی فون متعارف کروایا گیا جس نے ہماری زندگیوں کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ایک چھوٹا سا فون اور اس میں اتنے فیچرز کے آپ ایک وقت میں میوزک بھی سن سکیں اورفون پر بات چیت بھی کرسکیں تمام معلومات تک رسائی آپ کو صرف ایک چھوٹے سے فون سے مل سکتی تھیں اس نے انسانیت کی شکل ہی تبدیل کردی۔اس کے ذریعے آپ کہیں بھی بیٹھ کر مواد پوری دنیا تک بہت آسانی کے ساتھ پہنچاسکتے ہیں۔ کوئی بھی صحافی کبھی بھی کسی بھی وقت کوئی موقع دیکھ کر اپنے اسمارٹ فون کی مدد سے کہانی بنا سکتا ہے اور اسے سوشل میڈیا پر کم وقت میں شئیر بھی کرسکتا ہے۔
موبائل جرنلزم کے فوائد
سہولت: آپ شاید پہلے ہی اپنے اسمارٹ فون پر ویڈیو کیمرے کا استعمال اچھی طرح واقف ہونگے اور اگر آپ ایک صحافی ہیں تو آپ یہ بھی جانتے ہونگے کہ ایک زبردست کہانی کس طرح بناتے ہیں۔اسمارٹ فونز نے آپ کی کہانیاں اورآپ کے ناظرین کے درمیان وجود میں آنے والی زیادہ سے زیادہ تکنیکی رکاوٹوں کو کم کردیا ہے اور ویڈیو پروڈکشن کو اتنا آسان بنا دیا ہے جو کوئی صرف چند گھنٹوں کی تربیت اور کچھ مشق کے ساتھ کرسکتا ہے۔
تیز:بریکنگ نیوز یا ایونٹ کو نشر کرنے کے لئے یہ سب سے تیز ٹیکنا لوجی ہے۔جس کے ذریعے آپ کوئی بھی خبر نشر کرنے میں سب سے آگے رہیں گے۔دیگر ذرائع ابلاغ کو مکمل عملے کا بندوبست کرنا پڑے گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تمام سامان دستیاب ہے،وہاں جانے،رہنے اور ہر چیز کو سیٹ کرنے کے لئے وقت درکار ہوگا جبکہ مو جو کو صرف اس کا بیگ لینے اور وہاں پہنچے اور نشر کرنے کی ضرورت ہوگی۔
Mojoصحافی کہیں بھی کسی بھی جگہ جاسکتا ہے اپنے چھوٹے اسمارٹ فون کے ساتھ کیونکہ اسمارٹ فون کو پریس کیمرے کے طور پر سمجھا جاتا ہے لہذآپ اس جگہ پر بھی اپنی کہانی بنا سکتے ہیں جہاں عام طور پر ویڈیو صحافی جانے سے گریز کرتے ہیں۔
چھوٹے سامان کی وجہ سے Mojoکا صحافی کسی بھی ایونٹ کو کور کرنے کے لئے زیادہ جلدی جاسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرسکتا ہے۔بڑے بڑے کیمرے جن کے ساتھ لائٹ اور ساؤنڈکے آلات اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ جن کو لانا لے جانا کافی مشکل ہوتا ہے۔Mojoکو اس بات کا کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ ایک کانفرنس ہال ہے،ایک جہاز یا غار اپنے موبائل گئیر کو اٹھاؤ اور شروع ہوجاؤ۔
ایک بڑے کیمرے کی نسبت اسمارٹ فون کے ساتھ انٹریو دینے میں لوگ کم جھجک محسوس کرتے ہیں۔اس لئے لوگ زیادہ مخلص انداز سے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہیں۔ان چیزوں کی وجہ سے Mojoاپنے سامعین کے ساتھ زیادہ گھل مل سکتا ہے اور بلا جھجک ان سے معلومات لے سکتا ہے۔
اس کے علاوہ آپ موبائل جرنلزم سے آپ یا آپ کی تنظیم کو اخراجات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ موبائل جرنلزم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
موبائل جرنلزم کیسے شروع کرسکتے ہیں؟
موبائل جرنلزم کے لئے آپ کو کچھ چیزوں کو جاننے کی ضرورت ہے مثلا اسمارٹ فون:آئی او ایس یا اینڈروائیڈ دونوں صحیح کام کرتے ہیں جہاں تک ماڈل کا تعلق ہے تو ایک اچھے کیمرے والا موبائل ہونا چاہئے۔
ٹرائی پوڈ:انٹرویوز، بی رول کلپس کے لئے مکمل سائز کی ٹرائی پوڈ حاصل کریں اور یقینی بنائیں کہ وہ ہلکی ہو۔
مائیکرو فونز:انٹریو کے لئے مائیک  ہو نا ضروری ہے موجو کی پاس ایک اچھا موبائل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مائیکرو فون بھی ہوناچاہیے تا کہ وہ صحیح سے رپورٹ کر سکے۔
پاور بینک:شوٹنگ کے دوران آپ کے فون کی بیٹری زیادہ استعمال ہوگی اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ایک اچھا پاور بینک بھی موجود ہو۔
موبائل جرنلز م نے دنیا کے دوسرے ممالک میں کافی مقبولیت حاصل کی ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اب موبائل جرنلزم پروان چڑھتا نظر آرہا ہے۔
پاکستان میں موبائل جرنلزم کو فروغ دینے اور طلبہ میں اس موبائل جرنلزم کا شعور بیدار کرنے کے لئے کئی یونیورسٹیوں میں شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکشن اسٹڈیز کے نصاب میں اس کورس کو شامل کیا جارہا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ایسے ورکشاپس کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں صحافیوں کو موبائل جرنلزم کی ٹریننگ دی جارہی ہے۔
اسی سلسلے کو لوگوں تک پہنچانے اور اس پر کام کرنے کی تربیت دینے کے لئے موبائل جرنلزم کے حوالے سے اپریل میں اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج میں ڈیجیٹل میڈیا کارپوریشن کے تعاون سے چار دن کی ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا۔
اس ٹریننگ کا اہم مقصد طلبہ کو موبائل جرنلزم کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور موبائل کے ذریعے نیوز اسٹوریزبنانے کے عمل کے حوالے سے ترغیب دینا تھا۔
اس ٹریننگ میں 100سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔ٹریننگ کے اختتام پر طلبہ میں سرٹیفیکٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article