Mehak Ali Feature Urdu - for Magazine
Revised for Magazine
خواتین کے ملبوسات میں دن بدن تبدیلیاں
مہک علی(رول نمبر56)بی ایس پارٹ III
مورخہ24-08-2019
"وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ "اور اسی کائنات کو مزید دلکش بنانے کے لیے خواتین کے ملبوسات بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے، کلوپطرا سے لے کر آج کل کے دور کی عورتیں اپنا بے حد خیال رکھتی ہیں۔ زمانہ چاہے کوئی بھی ہو نیا یا پرانا ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید طریقہ کار فیشن میں آتے رہتے ہیں۔ کبھی گھیر والی شلوار، چوڑی دار پاجامے، غرارہ، شرارہ، اسکرٹس، ساڑھیاں، پٹیالہ شلوار، کم اور زیادہ گھیر والے ٹراؤزرز، لمبی قمیض اور کھلی فراکس۔ ہر کوئی زمانے کے حساب سے ویسے ہی کپڑے بنواتا ہے تاکہ وہ زمانے کے ساتھ چلتا ہوا لگے۔ لوگ اسے اولڈ فیشن کپڑے وغیرہ وغیرہ کے ناموں سے نہ بلوائیں۔
خواتین کے ملبوسات میں دن بدن ہونے والی تبدیلیوں کی سب سے بڑی وجہ میڈیا ہے جہاں میڈیا نے مختلف چیزوں میں تبدیلی رونما کی ہے وہیں فیشن انڈسٹری میں بھی انقلاب برپا کردیا ہے۔ اگر بات کی جائے آج سے کچھ عرصے قبل کی تو خواتین کے پہناوے میں ساڑھیاں بہت مقبول تھیں۔ کیونکہ فلموں، ڈراموں اور گلوکاراؤ ں کی اوّلین ترجیح ساڑھی ہوا کرتی تھی اس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے خواتین ساڑھیوں کا بہت زیادہ استعمال کیا کرتی تھیں۔ کیونکہ یہ وہ دور تھا جب شمیم آراء، زیبا اور نور جہاں جیسی اداکاراؤں کے انداز سے فیشن جنم لیتا تھا۔ ساڑھیوں کے بعد چوڑی دار پاجامے، میکسی، بیل باٹم، اسکرٹ اور فلیپر خواتین کے لیے جاذبِ نظر رہے۔
مگر اب وقت تھوڑا بدل گیا ہے، موجودہ دور میں جہاں ہر چیز میں جدت پیدا ہوگئی ہے وہاں پر خواتین کے ملبوسات میں بھی کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ جس کی وجہ میڈیا پر دکھائے جانے والے فیشن شوز، ڈرامے، فلمے اور فیشن پر کیے جانے والے تبصرے ہیں۔ پہلے صرف دو موسم کے حوالے سے ملبوسات کو تبدیل کیا جاتا تھا مگر اب خواتین اس معاملے میں بہت محتاط ہوگئی ہیں نہ صرف عام دنوں کے ملبوسات بلکہ عروسی لباس میں بھی جابجا تبدیلی رونما ہوئی ہے۔
فی زمانہ عروسی ملبوسات خاصے مغرب زدہ دکھائی دیتے ہیں اب بھاری بھرکم غراروں، لہنگوں کا رواج نسبتاً کم ہوگیا ہے۔ آج سے چند سال پہلے عروسی ملبوسات کے لیے محض چند رنگ مختص ہوا کرتے تھے جیسا کہ سرخ، مہرون یا گولڈن، مگر آج سفید سے لے کر ہر رنگ دورِ جدید کے ملبوسات کا خاصہ سمجھا جارہا ہے۔ گو فیشن کے موجودہ رنگ کم و بیش وہی ہیں جو آج سے تین عشرے قبل تھے جیسے کہ بیل باٹم، چولی، یا بیل سلیوو مگر ان میں مختلف طرح کے ڈیزائن تیار کرکے جدت پیدا کردی گئی ہے جسکی وجہ فلمیں، ٹی وی پروگرام، فیشن کے غیر ملکی رسالوں کی مقبولیت اور پسندیدہ اداکاراؤں کے نقشِ قدم پرچلنا ہے۔
میڈیا پر جس طرح سے خواتین کے ملبوسات کی عکاسی کی جاتی ہے عام خواتین اُسی چیز کو اپناتی ہیں اور اپنے آپ کو کسی ہیروئن سے کم نہیں سمجھتی ہیں۔ جیسے اگر کسی ڈرامے میں غریب طبقے کی لڑکی کو دکھایا جائے گا تو لازماً اُسے شلوار قمیض اور بہت ہی سلیقے سے دوپٹے کو پہنے ہوئے دکھایا جائیگا۔ بالکل اسی طرح اگر امیر لڑکی کی عکاسی کی جائے گی تو جینز، شرٹ، ٹی شرٹ، ٹراؤزرز، سلیو و لیس یا ہاف سلیویز پہنے دکھایا جائے گا۔ اسی بات کو دیکھتے ہوئے عموماً ملبوسات میں جینز اور شرٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بات صرف یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ حجاب جو کچھ عرصے قبل چہرے کو ڈھانپنے اور بطورِ پردہ استعمال کیا جاتا تھا مگر میڈیا کی مہربانی کی وجہ سے یہ بھی ٹرینڈ بن گیا ہے۔ خواتین اور لڑکیاں عموماً برقعہ اور حجاب کوبطورِ فیشن استعمال کرتی نظر آرہی ہیں۔
میڈیا پر دکھائے جانے والے فیشن شوز میں جب جھلملاتے ملبوسات میں دبلی پتلی حسین شخصیات ریمپ پر گربہ خرامی کرتی نظر آتی ہیں تو انھیں دیکھتے ہوئے لڑکیاں بھی ان کی تقلید کی خواہش مند ہوجاتی ہے اور بالکل انھی کی طرح کپڑے پہننے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ اسی حوالے سے کچھ نوجوان لڑکیوں سے بات کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے بتایا کہ اب ملبوسات میں بہت ہی خوبصورت رنگ اور نئے رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک لڑکی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نے ملبوسات میں بہت تبدیلیاں رونما کی ہیں۔ مغربی یا غیر ملکی لباس کو بھی آن لائن آرام سے منگوالیا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے ایک اور لڑکی کا کہنا تھا کہ ہمارے لباس میں بہت حد تک تبدیلیاں آگئی ہیں۔ زیادہ تر خواتین جینز، ٹائٹس اور شارٹ شرٹ کو ترجیح دیتی ہیں۔
خواتین کے ملبوسات میں تبدیلی اور جدت پیدا ہونا ایک خوش آئند بات ہے مگر اپنی ثقافت کو فراموش کردینا غلط ہے دونوں باتوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا بہت اہم ہے تاکہ ثقافت قائم رہے۔
Comments
Post a Comment