Musabbiha Imtiyaz زراعت میں اعلیٰ تعلیم موجود لیکن کسان بے حال۔۔!
While editing take note of comments given on first version
Revised
مصبیحہٰ امتیاز۔ رول نمبر2K17/MC/68
آرٹیکل
شعبہ زراعت میں اعلیٰ تعلیم موجود لیکن کسان بے حال۔۔!
زراعت اور اس سے متعلق پیشے، محض روزگار کا ذریعہ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ ایک بھرپور طرزِ زندگی ہیں۔ کھیت کھلیانوں سے واسطہ ہو، جانوروں کی دیکھ بھال کے فرائض پورے کرنے ہوں یا پھولوں اور پودوں سے تعلق ہو ہر شعبہ اپنی جگہ ایک دنیا ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک ذرعی ملک ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ79.6ملین ہیکٹر ہے۔ اس میں 23.8ملین ہیکٹر زرعی رقبہ ہے۔ جو کل رقبہ کا 28فیصد بنتا ہے۔ تقریباً16ملین ہیکٹر رقبہ زیر کاشت ہے۔ جبکہ اس کا نصف سے زائد حصہ قابل کاشت ہے۔ یعنی 8.8ملین ہیکٹر فصلوں کو ترس رہا ہے۔ شعبہ زراعت ملک کے 45فیصد لوگوں کے کاروبار کا ذریعہ ہے۔ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں زرعی شعبے کا حصہ 65فیصد ہے۔
زراعت کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور کیریئر بنانے کے بہت سے بہترین مواقع ہیں۔ ملک کے منتخب تعلیمی اداروں میں ثانوی سطح پر ایگر و ٹیکنیکل نصاب پڑھایا جاتا ہے، تاکہ ثانوی درجوں میں طالب علم زراعت کی بنیادی باتوں سے واقف ہوجائیں۔ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر زراعت کے شعبے میں بی ایس (آنرز)، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی تک تعلیم کی سہولیات موجود ہیں۔
زراعت یا اس سے متعلقہ پیشوں کو تین شعبوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ زراعت، جانوروں کی دیکھ بھال اور جنگلات۔
زراعت کے شعبہ میں زرعی زمینوں کے مسائل، فصلوں کی فی ایکٹر پیداروار بڑھانے، کاشت کے جدید طریقے اختیار کرنے، ذرعی آلات، مشینوں کے معاملات، اچھے بیج کی تیاری، فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے خلاف اقدامات، پودوں کی بیماریوں کا علاج، پیداوار کو بازار تک پہنچانے اور اس کی اچھی قیمت حاسل کرنے اور اس طرح کے دیگر معاملات سے متعلق امور زراعت کے شعبہ میں آتے ہیں۔ اسی طرح جانوروں کی دیکھ بھال کے شعبہ میں جانوروں کی افزائش نسل، ان کی بیماریاں، مویشیوں کی دیکھ بھال، جانوروں کی خوراک کا خیال اور زخمی ہوجانے والے جانوروں کے جراحی کے امور شامل ہیں۔
شعبہ جنگلات کی بات کی جائے تو اس میں چراگاہوں اور جنگلات کے امور مثلاً پودوں اور درختوں کی خصوصیات سے متعلق اور جنگلات کی دیکھ بھال وغیرہ شامل ہیں۔
زراعت کے شعبہ میں ہارٹی کلچر کا شعبہ آج کل بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں آرائشی پھولوں، پودوں، درختوں، تمام سبزیوں، پھلوں اور لینڈ اسکیپ انجینئرنگ کے لیے علیحدہ علیحدہ اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے۔
اسی طرح (crop physiology)کراپ فزیالوجی، یہ بھی ایک جدید تعلیم ہے۔ اس میں پودوں کو مختلف حصوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کون سا کریکٹر کس کروموسوم پر عمل کرتا ہے۔
ایگریکلچر انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجیکے شعبہ میں انجینئرنگ کی بنیادی تعلیم، جدید ترین زرعی آلات کی دیکھ بھال اور ان کے استعمال کے متعلق تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ آب پاشی کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کے متعلق بھی بنیادی تعلیم دی جاتی ہے۔
بالکل اسی طرح فوڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سبزیوں اور پھلوں کو محفوظ کرنے، پھلوں کی مصنوعات، ڈیری پروڈکٹس کو محفوظ اور خوراک کے متعلق دیگر امور پر تعلیم دی جاتی ہے۔
زراعت کے ان تمام پیشہ وارانہ تعلیم کے لیے داخلے بنیادی اہلیت پری میڈیکل میں بارہویں جماعت کی کامیابی کے ساتھ تکمیل ہیں۔ پاکستان میں زراعت کے متعلق شعبوں میں تعلیم و تربیت کے لیے یونیورسٹیاں قائم ہیں جن میں سندھ زرعی یونیورسٹی (ٹنڈو جام)،زرعی یونیورسٹی (فیصل آباد)،سرحد یونیورسٹی (پشاور)،بارانی زرعی کالج (راولپنڈی)،گومل یونیورسٹی (ڈیرہ اسماعیل خان)،یونیورسٹی کالج برائے زراعت (راولا کوٹ، آزاد کشمیر)،زرعی کالج (کوئٹہ)،کالج آف ویٹرنری سائنس (لاہور)،فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ (پشاور)،زرعی کالج (ملتان) سرِ فہرست ہیں۔
جہاں شعبہ زراعت میں تعلیمی لحاظ سے ترقی ہو رہی ہے وہیں کاروباری لحاظ سے شعبہ زراعت زوال پذیر ہو رہا ہے۔جہاں ۵ ایکڑ زمین پر ۵ افراد بھر پور طریقے سے کاشت کاری کر سکتے ہیں لیکن خاندان کے دیگر افراد چونکہ بے روزگار ہوتے ہیں تو مجبور ہوکر اسی اراضی پر 10 افراد کام کر رہے ہوتے ہیں۔حکومتی سطح پر نہ ختم ہونے والی لاپرواہی اور زرعی شعبہ میں جدید ٹیکالوجی کا نہ ہونا بھی شعبہ میں بے روزگاری بڑھنے کی ایک اہم وجہ ہے۔زرعی شعبہ میں انقلاب برپا کرنے کے لیے سب سے پہلے حکومت کو یہ بات ذہن نشین کر لینے چاہئے کی جب تک کسان خوشحال نہیں ہوگاملک میں غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔
...............................................................................................................
Referred back, file till August 16 so that it can be taken in first issue
U have written educational opportunities in agriculture.
Job and profession scope not taken in account.
In article list can not be made as has been done.
What is new in agriculture? that is missing. this should be made point.
Pls send with proper file name.
U are in editorial board, contact other team members, Check FB group notifications and follow them
مصبیحہٰ امتیاز۔ رول نمبر
2K17/MC/68
آرٹیکل
شعبہ زراعت اور کیرئیر کے مواقع
زراعت اور اس سے متعلق پیشے، محض روزگار کا ذریعہ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ ایک بھرپور طرزِ زندگی ہیں۔ کھیت کھلیانوں سے واسطہ ہو، جانوروں کی دیکھ بھال کے فرائض پورے کرنے ہوں یا پھولوں اور پودوں سے تعلق ہو ہر شعبہ اپنی جگہ ایک دنیا ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک ذرعی ملک ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ79.6ملین ہیکٹر ہے۔ اس میں 23.8ملین ہیکٹر زرعی رقبہ ہے۔ جو کل رقبہ کا 28فیصد بنتا ہے۔ تقریباً16ملین ہیکٹر رقبہ زیر کاشت ہے۔ جبکہ اس کا نصف سے زائد حصہ قابل کاشت ہے۔ یعنی 8.8ملین ہیکٹر فصلوں کو ترس رہا ہے۔ شعبہ زرعات ملک کے 45فیصد لوگوں کے کاروبار کا ذریعہ ہے۔ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں زرعی شعبے کا حصہ 65فیصد ہے۔
زراعت کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور کیریئر بنانے کے بہت سے بہترین مواقع ہیں۔ ملک کے منتخب تعلیمی اداروں میں ثانوی سطح پر ایگر و ٹیکنیکل نصاب پڑھایا جاتا ہے، تاکہ ثانوی درجوں میں طالب علم زراعت کی بنیادی باتوں سے واقف ہوجائیں۔ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر زراعت کے شعبے میں بی ایس (آنرز)، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی تک تعلیم کی سہولیات موجود ہیں۔
زراعت یا اس سے متعلقہ پیشوں کو تین شعبوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ زراعت، جانوروں کی دیکھ بھال اور جنگلات۔
زراعت کے شعبہ میں زرعی زمینوں کے مسائل، فصلوں کی فی ایکٹر پیداروار بڑھانے، کاشت کے جدید طریقے اختیار کرنے، ذرعی آلات، مشینوں کے معاملات، اچھے بیج کی تیاری، فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے خلاف اقدامات، پودوں کی بیماریوں کا علاج، پیداوار کو بازار تک پہنچانے اور اس کی اچھی قیمت حاسل کرنے اور اس طرح کے دیگر معاملات سے متعلق امور زراعت کے شعبہ میں آتے ہیں۔ اسی طرح جانوروں کی دیکھ بھال کے شعبہ میں جانوروں کی افزائش نسل، ان کی بیماریاں، مویشیوں کی دیکھ بھال، جانوروں کی خوراک کا خیال اور زخمی ہوجانے والے جانوروں کے جراحی کے امور شامل ہیں۔
شعبہ جنگلات کی بات کی جائے تو اس میں چراگاہوں اور جنگلات کے امور مثلاً پودوں اور درختوں کی خصوصیات سے متعلق اور جنگلات کی دیکھ بھال وغیرہ شامل ہیں۔
زراعت کے شعبہ میں ہارٹی کلچر کا شعبہ آج کل بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں آرائشی پھولوں، پودوں، درختوں، تمام سبزیوں، پھلوں اور لینڈ اسکیپ انجینئرنگ کے لیے علیحدہ علیحدہ اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے۔
اسی طرح (crop physiology)کراپ فزیالوجی، یہ بھی ایک جدید تعلیم ہے۔ اس میں پودوں کو مختلف حصوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کون سا کریکٹر کس کروموسوم پر عمل کرتا ہے۔
ایگریکلچر انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجیکے شعبہ میں انجینئرنگ کی بنیادی تعلیم، جدید ترین زرعی آلات کی دیکھ بھال اور ان کے استعمال کے متعلق تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ آب پاشی کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کے متعلق بھی بنیادی تعلیم دی جاتی ہے۔
بالکل اسی طرح فوڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سبزیوں اور پھلوں کو محفوظ کرنے، پھلوں کی مصنوعات، ڈیری پروڈکٹس کو محفوظ اور خوراک کے متعلق دیگر امور پر تعلیم دی جاتی ہے۔
زراعت کے ان تمام پیشہ وارانہ تعلیم کے لیے داخلے بنیادی اہلیت پری میڈیکل میں بارہویں جماعت کی کامیابی کے ساتھ تکمیل ہیں۔ پاکستان میں زراعت کے متعلق شعبوں میں تعلیم و تربیت کے لیے یونیورسٹیاں قائم ہیں جن میں:
(۱) سندھ زرعی یونیورسٹی (ٹنڈو جام)
(۲) زرعی یونیورسٹی (فیصل آباد)
(۳) سرحد یونیورسٹی (پشاور)
(۴) بارانی زرعی کالج (راولپنڈی)
(۵) گومل یونیورسٹی (ڈیرہ اسماعیل خان)
(۶) یونیورسٹی کالج برائے زراعت (راولا کوٹ، آزاد کشمیر)
(۷) زرعی کالج (کوئٹہ)
(۸) کالج آف ویٹرنری سائنس (لاہور)
(۹) فاریسٹ انسٹی ٹیوٹ (پشاور)
(۰۱) زرعی کالج (ملتان) سرِ فہرست ہیں۔
Comments
Post a Comment