sadia yonuas feature urdu published
نام سعدیہ یونس
رول نمبر 2K17-MC-137
رول نمبر 2K17-MC-137
بیوٹی پارلرز میں ہونے والا سفید جادو یاپھر ایک فن
حسن والوں کیا ضرورت سنورنے کی
وہ تو سادگی میں بھی کمال کی ادا رکھتے ہیں
وہ تو سادگی میں بھی کمال کی ادا رکھتے ہیں
جس طرح خوبصورتی خدا کی دی ہوئی ایک حسین نعمت ہے اسی طرح خدائے تعالی نے خواتین کو بھی خوبصورت و حسین بنایاہے اسی طرح خدائے تعالی نے خواتین میں سے انکے جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ خوبصورت بنایا ہے۔کسی کے گھنے لمبے بال اسکی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہیں تو کسی کی رنگین آنکھیں کسی کا سانولا رنگ یا پھر کسی کا گورا رنگ اسکی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور چارچاند لگاتا ہے۔بہت سی خواتین خدا کی اس دی ہوئی خوبصورتی سے محروم ہوتی ہیں تو بہت سی خواتین اپنی اسی خوبصورتی نہ خوش ہوتی ہیں جو کہ اپنی اس خوبصورتی میں اور زیادہ اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔پھر وہ خواتین بیوٹی پالرز کا رخ کر لیتی ہیں جہاں وہ اپنے حسن کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت و حسین کروا لیتی ہیں۔
وہ جو جس کے حسن کے ہر طرف چرچے تھے
اصل میں وہ فائزہ بیوٹی کریم کے چرچے تھے
بیوٹی پارلر ایک ایسی جگہ ہے جہاں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر جاکے سانولے رنگت کی خواتین ااپنا رنگ گورا کروا کرآجاتی ہیں۔کچھ خواتین اپنے لمبے گھنے بالوں پر اسٹائلش ہیرکٹ کروا کر اپنی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔کوئی اپنے ناخن وغیرہ اسٹائلش کروا کر ان پر نیل آرٹ کروا کر اور کوئی خواتین اپنے بالوں میں رنگ برنگے ہیر کلر کروا کر اپنی خوبصورتی میں اور نکہار میں اضافہ کروا لیتی ہیں۔اور اسے اپنی خوبصورتی کا حصہ بنا لیتی ہیں اور کچھ خواتین تو جن کے پیروں اور ہاتھوں کی رنگت سانولی یا پھر کالی ہوتی ہے تو وہ خواتین ہر ماہ بیوٹی پارلرجا کر مینی کیور پیڈی کیور نامی ٹریٹمنٹ کروا کراپنے پیروں اور ہاتھوں کی رنگت کی خوبصورتی میں اضافہ کر لیتی ہیں۔بہت سی خواتین اپنے چہرے کی کالی رنگت کو لیکر اور بہت سی خواتین تواپنے چہرے کی داغ دھبے،کیل مھاسے لیکر بہت پریشان ہوتی ہیں اور بیوٹی پارلرجا کر کہتی ہیں کے ہمیں کوئی کریم یا پھر ایسا کوئی ٹریٹمنٹ ہمیں بتائیں جس سے ہماری چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجائے۔پہلے کی خواتین بیوٹی پارلر جاکر کہا کرتی تھیں کہ ہمیں اچھا سا میک اپ کر دیں مگر آج کل کی خواتین تو کہتی ہیں کہ ہمیں میک اپ کے ساتھ ساتھ اسی وقت گورا بھی کردو۔اب چاہے بیوٹی پارلر والے ان کے چہرے پر چونا ہی کیوں نہ لگا دیں۔
بیوٹی پارلر میں اپنے آپ کو سنوارنے میں عمر کی کوئی حد نہیں ہے جوان تو جوان بڑی عمر کی خواتین بھی اپنے بناؤ سنگہا رکے شوق کو پورا کرتی ہیں اور مختلف قسم کے ٹریٹمنٹ کروا رہی ہیں۔مہنگائی کے باوجود دوسرے شہروں کی طرح حیدآباد میں بھی خواتین کا رجحان بیوٹی پالرز کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔بڑے تو بڑے بچیاں بھی بیوٹی پالرزکی جانب رجحان لیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔حیدرآبادمیں بڑے پیمانے پر موجودبیوٹی پالرزکی بیوٹیشن ڈپلومہ،سرٹیفیکٹ کورس وغیرہ حاصل کرکے اپنے بیوٹی پالرزچلا رہی ہیں۔اور بہت سی بیوٹیشن حیدرآبادکے اوست علاقوں میں بغیر کسی ڈپلومہ،سرٹیفیکٹ کورس وغیرہ اپنا بیوٹی پارلر چلا رہی ہیں۔جن پر خواتین کا ان پر اندھا اعتماد ہے۔جس میں انکا غیر معیاری کاسمیٹکس استعمال ہوتا ہے اور خواتین کی اسکن متاثرہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
خواتین کو چاہیے کہ وہ ان بیوٹی پارلر پر جانے سے اجتناب کریں۔ایک رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں ۵۰۰ سے ذائد بیوٹی پارلر کام کر رہے ہیں حکومتی طور پر تقریبن ۵۰ بیوٹی پارلرمعیاری طور پر کام کر رہے ہیں۔خواتین کو چاہیے کہ کسی حکومتی طور پر منظور شدہ بیوٹی پارلرسے ٹریٹمنٹ کروائیں۔حیدرآبادکے مشہور علینہ بیوٹی پارلرکی معیاناز بیوٹیشن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جوخواتین ٹریٹمنٹ کروانے آتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ایک ہی دفعہ کے فیشل کرکے ہمیں گورا کردو۔اور ہمیں میک اپ کرکے ہمارا چہرہ اتنا اچھا کردیں کے ہمیں کوئی پہچان نہ سکے۔اور ہم انکا چہرہ ایسا کر دیتے ہیں۔کہ کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا۔ہمارا یہی ایک فن ہے جو کہ جادو کہلاتا ہے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیوٹی پارلر میں ہونے والا کام ایک سفید جادو کی مانند رکھتا ہے اور ہمارا فن بھی کہلاتا ہے۔
وہ جو جس کے حسن کے ہر طرف چرچے تھے
اصل میں وہ فائزہ بیوٹی کریم کے چرچے تھے
بیوٹی پارلر ایک ایسی جگہ ہے جہاں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر جاکے سانولے رنگت کی خواتین ااپنا رنگ گورا کروا کرآجاتی ہیں۔کچھ خواتین اپنے لمبے گھنے بالوں پر اسٹائلش ہیرکٹ کروا کر اپنی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔کوئی اپنے ناخن وغیرہ اسٹائلش کروا کر ان پر نیل آرٹ کروا کر اور کوئی خواتین اپنے بالوں میں رنگ برنگے ہیر کلر کروا کر اپنی خوبصورتی میں اور نکہار میں اضافہ کروا لیتی ہیں۔اور اسے اپنی خوبصورتی کا حصہ بنا لیتی ہیں اور کچھ خواتین تو جن کے پیروں اور ہاتھوں کی رنگت سانولی یا پھر کالی ہوتی ہے تو وہ خواتین ہر ماہ بیوٹی پارلرجا کر مینی کیور پیڈی کیور نامی ٹریٹمنٹ کروا کراپنے پیروں اور ہاتھوں کی رنگت کی خوبصورتی میں اضافہ کر لیتی ہیں۔بہت سی خواتین اپنے چہرے کی کالی رنگت کو لیکر اور بہت سی خواتین تواپنے چہرے کی داغ دھبے،کیل مھاسے لیکر بہت پریشان ہوتی ہیں اور بیوٹی پارلرجا کر کہتی ہیں کے ہمیں کوئی کریم یا پھر ایسا کوئی ٹریٹمنٹ ہمیں بتائیں جس سے ہماری چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجائے۔پہلے کی خواتین بیوٹی پارلر جاکر کہا کرتی تھیں کہ ہمیں اچھا سا میک اپ کر دیں مگر آج کل کی خواتین تو کہتی ہیں کہ ہمیں میک اپ کے ساتھ ساتھ اسی وقت گورا بھی کردو۔اب چاہے بیوٹی پارلر والے ان کے چہرے پر چونا ہی کیوں نہ لگا دیں۔
بیوٹی پارلر میں اپنے آپ کو سنوارنے میں عمر کی کوئی حد نہیں ہے جوان تو جوان بڑی عمر کی خواتین بھی اپنے بناؤ سنگہا رکے شوق کو پورا کرتی ہیں اور مختلف قسم کے ٹریٹمنٹ کروا رہی ہیں۔مہنگائی کے باوجود دوسرے شہروں کی طرح حیدآباد میں بھی خواتین کا رجحان بیوٹی پالرز کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔بڑے تو بڑے بچیاں بھی بیوٹی پالرزکی جانب رجحان لیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔حیدرآبادمیں بڑے پیمانے پر موجودبیوٹی پالرزکی بیوٹیشن ڈپلومہ،سرٹیفیکٹ کورس وغیرہ حاصل کرکے اپنے بیوٹی پالرزچلا رہی ہیں۔اور بہت سی بیوٹیشن حیدرآبادکے اوست علاقوں میں بغیر کسی ڈپلومہ،سرٹیفیکٹ کورس وغیرہ اپنا بیوٹی پارلر چلا رہی ہیں۔جن پر خواتین کا ان پر اندھا اعتماد ہے۔جس میں انکا غیر معیاری کاسمیٹکس استعمال ہوتا ہے اور خواتین کی اسکن متاثرہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
خواتین کو چاہیے کہ وہ ان بیوٹی پارلر پر جانے سے اجتناب کریں۔ایک رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں ۵۰۰ سے ذائد بیوٹی پارلر کام کر رہے ہیں حکومتی طور پر تقریبن ۵۰ بیوٹی پارلرمعیاری طور پر کام کر رہے ہیں۔خواتین کو چاہیے کہ کسی حکومتی طور پر منظور شدہ بیوٹی پارلرسے ٹریٹمنٹ کروائیں۔حیدرآبادکے مشہور علینہ بیوٹی پارلرکی معیاناز بیوٹیشن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جوخواتین ٹریٹمنٹ کروانے آتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ایک ہی دفعہ کے فیشل کرکے ہمیں گورا کردو۔اور ہمیں میک اپ کرکے ہمارا چہرہ اتنا اچھا کردیں کے ہمیں کوئی پہچان نہ سکے۔اور ہم انکا چہرہ ایسا کر دیتے ہیں۔کہ کوئی انھیں پہچان نہیں سکتا۔ہمارا یہی ایک فن ہے جو کہ جادو کہلاتا ہے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیوٹی پارلر میں ہونے والا کام ایک سفید جادو کی مانند رکھتا ہے اور ہمارا فن بھی کہلاتا ہے۔
Comments
Post a Comment