syed hamza hussain article urdu
Article carries 5Ws+1H
Do not use English words unnecessarily.
Be specific.
Check notes, what was ur approved outline?
Ur arguments have no evidence, hence point is not proved.
No home work and research is carried for info gathering.
Referred back.
see detailed comments on blog link
تعلیم ایک کاروبار
سید حمزہ حسین ( (2K17/MC/98
تعلیم جو کہ ہر انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اور موجودہ دور میں تعلیم کے بغیر گذارہ نہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کو ایک کاروبار بنادیا ہے۔ جو تعلیم دینا گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے اب وہ والدین بچوں کو پیسے سے دلوارہے ہیں پاکستانی آئین کے آرٹیکل (25-A) کے مطابق پاکستانی گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ۵ ۔۱۶ سال کے بچے کو فری اوربنیادی تعلیم دے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑھتا ہے کہ گورنمنٹ بچوں کو معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ پرائیویٹ اسکولز کی طرف رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم اب ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگیا ہے۔
اگر ہم گورنمنٹ کے تعلیمی معیار کی بات کریں تواُس میں بہت سارے ٹیچرز اُنگھوٹا چھاپ ہیں اور اُن ٹیچرز کو خود کچھ نہیں آتا تو وہ بچوں کو کیا پڑھائیں گے۔
This is sweeping statement. Give proof, evidence thru
some report. There are so many, evening Sindh education department has also
reports about standard of education and ghost teacher
Proof???? or concrete example. Comapre with other Third world country
اِس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ اسکول کی عمارتیں بھی خستہ حالی کا
شکار ہیں۔طالبِ علموں کے بیٹھنے کے لیے کلاس میں کُرسیوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پنکھے کام نہیں کرتے۔پینے کو صاف اور ٹھنڈا مہیانہیں ہوتا۔
Without proof all is hearsay, does not carry any weight
مذکورہ بالا تمام باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے والدین اپنے بچوں کو گورنمنٹ اُسکولوں میں بھیجنے کو تیار نہیں کیونکہ ہر والدین کی خواہش ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی اور معیاری تعلیم دلوائیں۔یہی وجہ ہے کہ والدین نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولز میں داخلے دلوانے شروع کردیئے ہیں۔اور اِس وجہ سے تعلیم ایک کاروبار کی شکل اِختیار کر گیا ہے اور اَب اسکولوں میں تعلیم دی نہیں بلکہ بیچی جاتی ہے۔ کیونکہ جن بچوں کے والدین کے پاس فیس ادائیگی کے پیسے نہیں ہوتے اُن بچوں کو اسکول سے نکال دیا جاتا ہے۔اِس کے علاوہ پرائیویٹ اسکول ماہانہ ہزاروں روپے فیس کے علاوہ طرح طرح کی سرگرمیوں کے نام پر فیس بٹورتے ہیں مثلاً اِسپورٹس ڈے،اینول ڈے وغیرہ جوکہ غریب والدین کی اِستطاعت سے باہر ہے۔گورنمنٹ بھی تماشائی بنی خاموش بیٹھی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج کے اس مہنگائی کے دور میں غریب کا بچہ پڑھ نہیں سکتا اور تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے غریب اور غریب ہوتا جارہا ہے۔
اَب اگر ہم پرائیویٹ اسکولوں کے نصاب اور اساتذہ کی بات کریں تو پرائیویٹ اسکول والے جتنی فیس لے رہے ہیں اُس لحاط سے نصاب تو قدرِ بہتر ہے لیکن پڑھانے والے اساتذہ اُس معیار کے نہیں کیونکہ بہت سے پرائیویٹ اسکولوں میں انٹر پاس اساتذہ پڑھا رہے ہیں اس وجہ سے بچوں کوتعلیمی نصاب پڑھنے میں بھی مسئلہ ہوتا ہے۔پرائیویٹ اسکولوں میں سب سے بڑا مسئلہ زُبان کا ہے۔ٹیچرز کو کہا جاتا ہے کہ آپ بچوں کو صرف انگریزی میں پڑھائیں اور انگریزی میں ہی بچوں سے بات کریں چاہے بچوں کو کچھ سمجھ آئے یا نہیں۔اِس کے برعکس اُردو اور سندھی کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوانوں کو نہ تو اُردولکھناآتی ہے نہ پڑھنے اور نہ ہی سندھی۔ اِن سب کی ذمہ دارپرائیویٹ اسکول والے ہیں۔زُبان کی وجہ سے آج کا طالبِ علم نصاب کو سمجھنے کے بجائے رٹنے کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ ساری باتیں ایک طرف اَب اس بات پر نظر ثانی کرتے ہیں کہ والدین ہزاروں روپے فیس اسکولوں میں بھرتے ہیں لیکن اُس کے باوجود شام میں بچوں کو ضرورٹیوشن سینٹر بھیجنا پڑھتا ہے جو فیس بٹورنے کا ایک اور بہترین
What type of dramas? Example,
ذریعہ ہے۔آج کل ٹیوشن سینٹرز میں نئی نئی طرح کے ڈرامے رچائے جا رہے ہیں۔ جیسے کہ یونیورسٹی میں داخلہ سے پہلے اُس کی تیاری کا رُجحان بہت بڑھ گیا ہےجس کا رجحان آج سے تقریباً۱۰ سال پہلے نہ تھا اور اس تیاری کی فیس بھی ہزاروں میں ہے۔ جو اَساتذہ طالبِ علموں کو صبح اسکول یا کالجوں میں صحیح سے نہیں پڑھاتے وہ ہی شام میں اتنی دلچسپی سے پڑھاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طالبِ علم ٹیوشن کی طرف رُخ کریں اور اُن کو فیس بٹورنے کا موقعہ مل سکے۔آج کے طالبِ علم کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کامیابی کے بجائے مارکس کے پیچھے بھاگتا ہے۔
Comments
Post a Comment