Waleed Bin Khalid -profile Urdu

revised
پروفائل
ولید بن خالد2K17/MC/105
BS-PIII
                  با ہمت خاتون      منیبہ مزاری
صحت ہے تو زندگی ہے یہ محاورہ تو ہم نے کئی بار سنا ہو گا مگر سوچا نہیں کہ کیا واقعی زندگی صحت مند ہونے سے ملتی ہے؟
یہ مانا جاتا ہے کہ زندگی محض ان کے لئے ہی گل کھلاتی ہے جو اپنی تمام تر جسمانی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔جینا شاید اسی کا ہی نام ہو مگر ہمیشہ یہ صحیح نہیں ہوتا،دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جسمانی صلاحیتوں سے تو محروم ہیں مگر پھر بھی انکی چمک سے پوری دنیا روشن ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت جسے دنیا آئرن لیڈی آف پاکستان کے لقب سے جانتی ہیں،جی ہاں یہاں منیبہ مزاری کا ذکر ہورہا ہے جس نے یہ ثابت کردیا کہ آپ چل نہیں سکتے تو مایوس نہ ہو بلکہ دنیا کو اُڑ کے دکھاؤ مگر کبھی بھی ہار نہیں مانو کیونکہ صحت سے زندگی نہیں زندگی سے زندگی ہے۔
منیبہ مزاری جو کہ ایک مشہور پاکستانی اداکارہ،موٹیویشنل اسپیکر،ماڈل،ٹیلی ویژن میزبان، رنگ ساز ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے خواتین کی سفیر بھی ہیں۔
منیبہ مزاری شروع سے اپنی جسمانی صلاحتیوں سے محروم نہیں تھی بلکہ انھوں نے اپنی زندگی کے 21سال ایک عام لڑکی کی طرح ہی گزارے تھے۔ان کا تعلق بلوچ خاندان سے ہے،انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے اپنے گھر والوں کی رضامندی سے 18سال کی عمر میں شادی کرلی اور خوشی سے اپنی زندگی گزارنے لگیں،مگر کہتے ہیں نہ زندگی بدلتے دیر نہیں لگتی اسی طرح ان کی پرواز بھی کسی اور رُخ ہی تھی۔
شادی کے 2سال بعد وہ انتہائی خطرناک ٹریفک حادثے کا شکار ہو گئیں، جس کی وجہ سے انکی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ بازو،کندھے اور پسلیوں میں فریکچر آئے اور جگر بھی متاثر ہو ا۔تقریبا2 سال تک انکا علاج چلتا رہا۔بقول انکے یہ 2سال میں صرف اس بیماری سے نہیں لڑی بلکہ دنیانے بھی مجھے اپنانے سے انکار کردیا تھا جس میں میرے شوہر اور میرے والد بھی شامل تھے مگر کہتے ہیں نہ خدا اگر مشکلات دیتاہے تو ہمت بھی وہی خدا دیتا ہے میں بھی بلکل ہمت ہار چکی تھی دو سال بعد جب ویل چیر کے ساتھ جڑ گئی اور چلنے سے معزور ہو گئی تب میری پرواز کا آغاز ہوا میرا جسم تو اس ویل چیر پہ قید ہوگیا تھا مگر میری روح میرے خیال آزاد تھے۔زندگی میں جب کوئی ہیرو موجود نہ ہو تو انسان کو بذاتِ خود ہیرو بن جانا چاہیئے میں نے بھی ایسا ہی کیااور اپنی تمام مشکلیں اور پریشانیاں بھلا کرایک ہیرو کی شکل میں نکل کر دنیا کے سامنے پیش ہوئی۔اور اس ویل چیر کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اسے اپنی طاقت بنا لیااور پاکستان کی پہلی ویل چیر ماڈل بنی۔دو سال کی اس موت زندگی کی جنگ نے مجھ میں نہایت مثبت اثرات مرتب کیے تھے اور یہی وجہ ہے کہ آج میری شخصیت سے لوگ اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ اپنے لیے مشعلِ راہ سمجھتے ہیں۔
منیبہ مزاری بھی ہیلن کیلر اور اسٹیفن ہاکنز کی طرح دنیا کی ان عظیم شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی معزوری کو اپنی طاقت بنا لیا اور دنیا میں ترقی اور شہرت کی نئی راہوں کو روشن کیا۔اور یہ ثابت کر دیا کہ جسم کیوں نہ کسی موحتاجگی کا شکار ہو انسا ن کو اپنے خیالات کی پرواز کو کبھی قید نہیں کرنا چاہیئے اور اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناتے ہوئے دنیا کے سامنے زندگی کا ایک نیا ر  خ پیش کر نا چاہیئے اور اس بات کا اقتباس منیبہ کچھ اس طرح کرتیں ہیں کہ                  دنیا اپکو تب ہی پہچانے گی جب آپ خود کو قبول کرینگے۔
برائے مہربانی درست فارمیٹ میں بھیجا کریں۔  اگر دوبارہ بھیج رہے ہیں تو  
سبجیکٹ لائن درست لکھیں، تاکہ اس کو چیک کیا جاسکے۔
  390 
لفاظ ہیں، جبکہ 600 الفاظ چاہئیں
 املا ”انھوں“  یا  ”انہوں“  کیا صحیح ہے؟
 رپورٹنگ بیسڈ نہیں۔  کیا یہ خاتون حیدرآباد کی ہیں؟ کیا آپ ان سے ملے ہو؟ اتنا جانتے ہو کہ ان پر پروفائل لکھو
پروفائل
ولید بن خالد2K17/MC/105
BS-PIII
                  با ہمت خاتون      منیبہ مزاری
صحت ہے تو زندگی ہے یہ محاورہ تو ہم نے کئی بار سنا ہو گا مگر سوچا نہیں کہ کیا واقعی زندگی صحت مند ہونے سے ملتی ہے؟
یہ مانا جاتا ہے کہ زندگی محض ان کے لئے ہی گل کھلاتی ہے جو اپنی تمام تر جسمانی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔جینا شاید اسی کا ہی نام ہو مگر ہمیشہ یہ صحیح نہیں ہوتا،دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جسمانی صلاحیتوں سے تو محروم ہیں مگر پھر بھی انکی چمک سے پوری دنیا روشن ہے۔ایسی ہی ایک شخصیت جسے دنیا آئرن لیڈی آف پاکستان کے لقب سے جانتی ہیں،جی ہاں یہاں منیبہ مزاری کا ذکر ہورہا ہے جس نے یہ ثابت کردیا کہ آپ چل نہیں سکتے تو مایوس نہ ہو بلکہ دنیا کو اُڑ کے دکھاؤ مگر کبھی بھی ہار نہیں مانو کیونکہ صحت سے زندگی نہیں زندگی سے زندگی ہے۔
منیبہ مزاری جو کہ ایک مشہور پاکستانی اداکارہ،موٹیویشنل اسپیکر،ماڈل،ٹیلی ویژن میزبان ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے خواتین کی سفیر بھی ہیں۔
منیبہ مزاری شروع سے اپنی جسمانی صلاحتیوں سے محروم  (جسمانی طور معذور؟)  نہیں تھی بلکہ انھوں ا نے اپنی زندگی کے 21سال ایک عام لڑکی کی طرح ہی گزارے تھے۔ان کا تعلق بلوچ خاندان سے ہے،انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کر کے اپنے گھر والوں کی رضامندی سے 18سال کی عمر میں شادی کرلی اور خوشی سے اپنی زندگی گزارنے لگیں،مگر کہتے ہیں نہ زندگی بدلتے دیر نہیں لگتی اسی طرح ان کی پرواز بھی کسی اور رُخ ہی تھی۔
شادی کے 2سال بعد وہ انتہائی خطرناک ٹریفک حادثے کا شکار ہو گئیں، جس کی وجہ سے انکی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ بازو،کندھے اور پسلیوں میں فریکچر آئے اور جگر بھی متاثر ہو ا۔تقریبا2 سال تک انکا علاج چلتا رہا۔بقول انکے یہ 2سال صرف اس بیماری سے نہیں لڑی بلکہ دنیانے بھی مجھے اپنانے سے انکار کردیا تھا جس میں میرے شوہر اور میرے والد بھی شامل تھے مگر کہتے ہیں نہ خدا اگر مشکلات دیتاہے تو ہمت بھی وہی خدا دیتا ہے،منیبہ مزاری کہتی ہیں کہ  میں سب کو یہی کہتی ہوں کہ کبھی ہمت نہ ہارہے،زندگی میں کتنی ہی مشکلیں پریشانیاں کیوں نہ آجائے انسان کو اسکا ڈٹ کر مقابلہ کرناچاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article