Water shortage in Badin -Article Ahsan Nizamani
Referred back.
Pls add real obstacle and different point of views to understand the situation. Its too superficial.
There was uproar in assembly and growers staged protest in unique manners
بدین میں پانی کی بڑھتی ہوئی خستہ حالی
احسن نظامانی (رول نمبر7)بی ایس پارٹ III
مورخہ24-08-2019
پانی جو کہ ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے بھی ایک انتہائی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا وجود تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پانی نہ صرف انسان بلکہ ہر ذی روح کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔لیکن بد قسمتی سے پاکستان کے ایسے بیشتر علاقے ہیں جہاں لوگ اس قدرتی نعمت سے محروم ہیں۔ انہی میں سے ایک جگہ ضلع بدین ہے جہاں پانی کی بڑھتی ہوئی خستہ حالی کے سبب لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پھلیلی کنال جہاں پانی کا قدرتی گزر ہے اور بدین کے ضلع کو آباد کرنے کے لیے اہم کنال بھی ہے اس وقت اس ہم کنال کو ٹنڈو محمد خان کے قریب ایک جگہ تیس میل پر رکاوٹ دے دی گئی ہے اس کے علاوہ امام واہ ہیڈ پر 6.5فٹ کی رکاوٹ دی گئی ہے۔جبکہ علی پور کے مقام پر 4.5فٹ کی رکاوٹ دی گئی ہے۔
ایک طرف میٹھا پانی جو کہ دریا کے ذریعے سمندر میں جاتا ہے وہ بھی سمندر کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے اور دوسرا پھلیلی کنال جو پانی کے ذریعے سمندر کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ دریا کی نچلی سطح پر پانی نہ بہنے کی وجہ سے دریا کا ڈیلٹا تباہ ہوسکتا ہے۔ یہ صرف بات ہی نہیں بلکہ حقیقت بھی بالکل یہی ہے۔ بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی ہے بلکہ دریا کی نچلی سطح پر پانی کی عدم فراہمی کے سبب ڈیلٹا تبا ہ ہوگا ہی مگر سمندر بدین اور ٹھٹھہ کو بھی نگل لے گا۔ پھر پھلیلی کنال کے پانی کا رخ موڑنے کی وجہ سے ڈیلٹا کی تباہی بھی بڑی ہوگی۔
بدین ضلع کی گیارہ لاکھ سے بھی زیادہ آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے صرف یہی نہی بلکہ لاکھوں جانور بھی موت سے قریب ہورہے ہیں اور سمندر ضلع بدین کو تیزی سے نگل رہا ہے۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سیڈا کے چیئرمین عبدالباسط نے کہا ہے کہ اس عمل سے پانی کا بہاؤ تیز ہوگا اور بہتری آئے گی جبکہ پانی کی اس کمی کی وجہ سے زمیندار بہت زیادہ پریشان ہیں کیونکہ ان کی فصلوں کو پانی نہیں مل رہا ہے۔ فصلیں تباہ ہورہی ہیں اور زمین بھی بجر ہوتی جارہی ہے۔ کروڑوں روپے کا مالی نقصان اور پانی کی کمی کے باعث نہ صرف زمین کو نقصان ہورہا ہے بلکہ جانور بھی مر رہے ہیں اور لوگوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس ساری صورتحال نے لوگوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
جب بات حد سے زیادہ بڑھ گئی تو وہاں کے مکینوں نے پورے ضلع میں احتجاج کرنا شروع کردیا اور ضلع کے ہر شہر میں احتجاج کیا گیا جبکہ اس احتجاج کی سربراہی خدا ڈنو شاہ اور ان کے ہمراہیوں نے کی۔ یہ احتجاج اتنا طول پکڑ گیا کہ صرف ضلع بدین تک ہی نہ رہا بلکہ حیدر آباد اور اسلام آباد میں بھی احتجاج کیے گئے۔ لیکن سیڈا کے چیئرمین کے سر پر جوں بھی نہ رینگی اور مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکالا گیا۔
اس احتجاج کے بعد سیڈا کے چیئرمین نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ رکاوٹیں درست ہیں یانہیں لیکن بہرحال ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ضلع بچاؤ کمیٹی نے بھی اس معاملے کے خلاف کورٹ میں کیس کیا ہوا ہے مگر اس کا بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکاہے۔
سیڈا کے چیئرمین کو جلد از جلد کوئی مثبت لائحہ عمل اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ضلع بدین کے مکینوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے فوری پیش رفت اختیار کرنی چاہیے۔ اگر یہ رکاوٹیں بدین کے لیے ایک خوش آئند باب ہے تو ایسا طریقہ کار اپنانا چاہیے کہ علاقہ مکین متاثر نہ ہوں اور اگر یہ ضلع بدین کے لیے نقصان دہ ہے تو فوری اسے ہٹا دینا چاہیے تاکہ عوام کو کوئی مشکلات پیش نہ آئیں۔
Comments
Post a Comment