HIfza profile Urdu
ہیڈنگ اور نام کو بریکیٹ نہیں دی جاتی،
املا چیک کریں کیا یہ صحیح ہیں؟: سمبھالنے، زمہ داری، مثالے، رونَ، چنہ۔ بہنے، باروی، یہ چند ہیں،
آپ ایک مرتبہ پھر اس کی پروف ریڈنگ کر لیں۔ ہر سطر میں کم از کم دو تین املا کی غلطیاں ہیں۔
غیر ضروری طور پر انگلش نہ لکھیں، ان کا اردو ترجمہ کرلیں یا اردو رسم الخط میں لکھیں
رپورٹنگ بیسڈ نہیں
نام: حفضہ راجپوت رول نمبر: 42
کلاس: BS Part-III
پروفائل
”زویا شیخ“
ہمارے معاشرے میں عورت کو صرف گھر کے کاموں اور بچے سمبھالنے کی زمہ داری کے لیے لایا جاتا ہے۔ اب سب میں کچھ خواتین معاشرے کے اس قانون کو تو کر اپنی محنت اور لگن سے اپنا الگ نام اور پہچان بناتی ہیں، دنیا میں ایسے بہت مثالے موجود ہیں جو نہ معاشرے کی اور نہ ہی رشتہ داروں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتے ہیں اور اپنا نام رون کرتی ہین ان میں چنہ مثال ہمارے درمیان بھی موجود ہے ”زویا شیخ“
زویا شیخ اتنی کم عمر میں اتنا نام اور شہرت حاصل کرنے والی نوجوان 24اگست 1991میں ضلع سانگھڑ کے ایک گاؤ ں شہداد پور میں پیدا ہوئی اور وہیں سے اپنی تعلیم حاصل کی یہ 6بہنے اور ایک چھوٹا بھائی ہیں اور زویا شیخ سب سے بڑی بہن اور اپنے گھر کا واحد سر پرست ہیں کیونکہ ان کے ماں باپ اس دنیا سے چل سے 2010میں والدہ اور 2011میں والد اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے اس وقت یہ باروی جماعت میں تھیں اس حادثے کے بعد جیسے ان کی زندگی روک سی گئی تھی کچھ دن تو انہیں ایسا لگا کے جیسے سب ختم ہوچکا ہے لیکن انہوں نے ہمت سے کام لیا کیوں کے انہین اپنے ماں اور باپ کا خواب پورا کرنا تھا اور اپنے بہن بھائیوں کو قابل انسان بنانا تھا۔ ان کے بہن بھائی اب انکی ذمہ داری تھے نہ صرف انکی پڑھائی انکا خیال دہن سب ان پر تھا باپ اور ماں دونوں بن کر اپنے بہن بھائیوں کی پرورش کرنی تھی پر انہیں کسی قسم کا سہارا نہیں تھا اور ہم اس بات سے واقف ہی ہے کہ جب کوئی لڑکی اپنی فیملی کی مدد کرنے گھر سے بھر نکلتی ہے اور نوکری کرتی ہے تو معاشرے والے اپنے خود کے گھر والے طرح طرح کی باتیں بنتاتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں نوکری کرنے والی عورتوں کو ویسی ہی بہت کچھ بولا جاتا ہے لیکن ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا کے یا تو بہن بھائیوں کی پڑھائی چھوروہ دین اور رشتہ داروں پر انصار کریں یا لوگوں کی باتوں کی فکر کیئے بغیر اپنی نوکری بر قرار رکھیں انہوں نے دن رات محنت کی بہت مشکلوں کا سامنا کیا پر امتحان کو صبر تحمل سے برداشت کیا اور انہیں اپنے صبر کا پھل بھی ملا آج انکی ایک بہن MBAکر چکی ہے اور بینک میں نوکری کر رہی ہیں 1بہن مہران سے Passoutہو کر ماسٹر کرنے کیلئے کراچی گئی ہیں۔ ایک بہن LUMSمیں لیکچر ہے Grade-17کی ایک بہن LUMSمیں MBBSمیں ہے اور ایک بہن LLBکررہی ہے اور چھوٹا بھائی BBAمیں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ سفر ان کے لیے بہت مشکل تھا لیکن آج وہ اپنے مان باپ کی تر بیت پر فکر کرتی ہیں ہیں اور اب رشتہ دار بھی انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ اس سفر تک انہیں اور نئی بات سننے کو ملتی تی اپنے خلاف لیکن انہوں نے ہر مشکل کا سامان بہادری سے کیا، زویا شیخ جو کے Expert of Mobilization Trainner، Social Artistاور Motiviational Speakerبھی ہیں 10سے زیادہ NGOمیں کام کرچکی ہیں ایک ایک شہر میں رہ کر کامبھی کیا ہے 1800سے زیادہ نوجوانوں کو اسکول میں داخلہ کروایا ہے (Tando Muhammad Khan, Mitthi) میں اور 2000سے زیادہ نوجوانوں کے ساتھ کامبھی کیا ہے 2016سے لے کر اب تک بہت Awardsلے چکی ہیں زویا شیخ کی جد و جہد اور کامیابی ہمارے معاشیر کی لڑکیوں کے لیے روشن مثال ہے زویا شیخ ہمیشہ لڑکیوں کو ایک ہی بات کہتی ہیں کے علم حاصل کرو بھلے کسی بھی شعبے میں محنت کرو آگے بڑھنے کی کوشش کرو تم لوگ ہی ملک کی تر قی کے محل ہو۔
Comments
Post a Comment