Sadia Shamim Feature

فیچر 
Sadia Shamim
2K17/MC/79
BS-PIII
سندھ کی مشہوردستکاری(چٹائیاں)

 سعدیہ شمیم 

پاکستان میں پائے جانے والی مختلف آرٹ اور دستکاریوں کی روایات کا تعلق تو قدیم دور سے ہے۔یہاں تک کچھ فن ایسے بھی ہیں جن کی تاریخ وادی سندھ کی قدیم تہذیب سے جاملتی ہے۔پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جومختلف ثقافتوں کی امین ہے اور یہ اسے ورثے میں ملی ہیں۔مثال کے طور پر شیشے یا کانچ کی چوڑیاں پاکستان کی رنگارنگ ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے یا پھر سندھ اور ملتان کی خاصیت نیلے رنگ کے مٹی سے تیار کردہ برتن ہو ں۔
جس منفرد ثقافت کی میں بات کررہا ہو وہ ہے سرکنڈوں سے بنی مصنوعات دلکش دستکاریاں جو حیدرآباد شہر کی پہچان ہے۔
پہلے صرف سرکنڈوں سے بنی چھتیں اور دھوپ سے بچاؤ کے لئے کھڑکیوں اور دروازوں کی چٹائیاں بنانا ایک عام سی بات تھی لیکن یہ کام کرنے والوں نے وقت کے ساتھ اپنے کام میں جدت پیدا کی ہے،اب وہ لوگ روایتی مصنوعات کے علاوہ سرکنڈوں سے تیار کردہ رنگارنگ فریم،تصاویر اور آئینے بھی تیار کر رہے ہیں جن کی مقبولیت دیہی علاقوں سے زیادہ شہروں میں تیزی سے ہوئی ہے۔
حیدرآباد شہر کے لوگ ہاتھ سے بنی ان تصاویر یا رنگ برنگے فریموں اور آئینوں کو اپنے ڈرائنگ رومز کی زینت بناتے ہیں۔اس سادہ اور خوبصورت فن کے کئی شاہکار نمونے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان اور ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے روڈ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔سندھ کے معروف جوگی قبیلے کے لوگ اس روڈ کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سرکنڈوں سے مختلف قسم کی مصنوعات بناتے بھی ہیں اوروہیں فروخت بھی کرتے ہیں،اس کام میں ان کے ساتھ ان کے بچے اور خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔
مجھے ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں انٹرنشپ کرنے کا موقع ملا تو میں ایک روز ان لوگوں کو فٹ پاتھ پر بیٹھے کام کرتے ہوئے دیکھتی اور حیرت کرتی کے ہنر بھی کیا بہترین چیز ہے محض سرکنڈوں اور ہاتھ کی مدد سے دلکش چیزیں بناتے ہیں،حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہو امجھے کیوں کہ ان کے ساتھ کام کروانے والوں میں ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل تھے جن کی عمر اسکولوں میں جاکر تعلیم حاصل کرنے کی ہے وہ روڈ پر اپنا گھر چلانے میں اپنے والدین کا ساتھ دے رہے ہیں۔
کام کرنے والے ایک جوگی شیوداس سے گفتگو کرنے کا موقع ملا تو اس نے بتایا کہ وہ یہ کام اپنے دادا پر دادا کے زمانے سے کرتے آرہے ہیں،وہ  اور اس کا خاندان یہاں قیام پاکستان سے قبل سے مقیم ہے۔اس وقت اس کے قبیلے کے تقریبا50کے قریب خاندان یہاں آباد ہیں۔ان میں سے نصف فیصد کے پاس رہنے کے لئے جھونپڑیاں اور ایک کمرے کے گھر ہیں جبکہ باقی خاندان ریڈیو پاکستان کی دیوار کے ساتھ ہی رہتے ہیں،وہ دن میں یہاں کام کرتے ہیں اور رات میں وہیں سوتے ہیں۔
وہ اپنی تیار کردہ مصنوعات بھی وہیں پر فروخت کرتے ہیں۔وہ سرکنڈوں سے عام چٹائیاں بھی بناتے ہیں تع کھڑکیوں اور دروازوں کے کور بھی تیار کرتے ہیں۔
یہ لوگ سرکنڈے صوبہ سندھ کے شہر سانگھڑ سے لاتے ہیں اس کے علاوہ رنگ برنگے فریم اور مختلف تصاویر بھی تیار کرتے ہیں جن پر مخمل اور ریشم کا کام کیا جاتا ہے۔
یہ مخمل اور ریشم پنجاب کے شہر قصور سے منگوایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ وہ گھروں میں زیراستعمال آئینوں کو ڈیکوریٹ کرکے فروخت کرتے ہیں۔ان کو مخمل یا ریشمی کپڑے کا بارڈر دیا جاتا ہے اور انھیں مزید خوبصورت بنانے کے لئے ا ن پر کشیدہ کاری کی جاتی ہے جس میں موتی اور دیگر آرائشی اشیاء استعمال کی جاتی ہیں۔اس طرح کے سامان ان لوگوں کو حیدرآباد کی مارکیٹ سے با آسانی مل جاتا ہے۔
شیوداس کا کہنا تھا کہ شہری لوگ اس قسم کے آئینے اور فریم بڑے شوق سے خرید کر لے جاتے ہیں اورانہیں اپنے ڈرائنگ رومز میں سجاتے ہیں،بعض شہری لوگ شوقیہ طور پر اپنے گھروں کی کھڑکیوں اور دروازوں پر ان کی بنائی ہوئی چٹائیاں بھی لگاتے ہیں۔چٹایاں بھی مختلف اقسام کی بنائی جاتی ہیں جن میں سادہ چٹائیاں بھی ہوتی ہیں تو رنگین کشیدہ کاری کی ہوئی چٹائیاں بھی شامل ہیں۔
چٹائیوں کی زیادہ فروخت ٹھٹہ،بدین اور حیدرآباد کے آس پاس کے علاقوں میں ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ شیوداس نے مزید بتایا کہ اس نے اپنے کسی بچے کو تعلیم نہیں دلوائی اور نہ وہ خود پڑھا لکھا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ اس کام میں ان لوگوں کو اتنے زیادہ پیسے تو نہیں ملتے لیکن ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور ہنر بھی نہیں ہے۔اتنا کمالیتے ہیں کہ بس گزارہ ہوجاتا ہے۔ایک بڑی چٹائی کے ایک ہزار سے 1500مل جاتے ہیں جبکہ چھوٹی اشیاء 500روپے میں فروخت ہوجاتی ہیں۔
ان لوگوں کو دیوالی اور اپنے دیگر خاص دنوں میں بھی کام کرنا پڑتا ہے،برساتوں اور زیادہ گرمی اور سردی کے دوران ان کا کا م متاثر ہوتا ہے کیونکہ وہ کھلے آسمان کے تلے کام کرتے ہیں ایسے حالات میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article