waleed bin khalid article urdu

To be taken for Shaoor
آرٹیکل (Revised)
ولید بن خالد
2K17/MC/105
BS-PIII
                                                                                 جدید دنیا پرنا نصاب
دور جدید جہاں انسان چاند تو کیا مریخ پہ قدم رکھ چکا ہے، ہزاروں میل کا فاصلہ چند منٹوں میں طے کر لیتا ہے،بادلوں کو چیر دینے والی  عمارات میں رہتاہے،آسمان سے باتیں کرتا اور سمندر کی گہرائیوں میں غوتے کھاتا دکھائی دیتا ہے مگر انسان کایہ غار سے عمارت کا سفر کسی جادو کی مرہونِ منت نہیں بلکہ انسان علم کی شمع سے اپنی راہیں روشن کر کہ اس جدید دور تک پہننچا ہے۔
جیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیا اور جدت کی طرف آتا گیا ساتھ ہی ساتھ علم بھی ترقی کرتا اور ہر نئی ایجاد اور دریافت کے ساتھ کئی نئے مضامین کو اپنے اندر شامل کرتا گیا جس کا مطالعہ دورِ جدید کو سمجھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ہمارے ملک میں علم کی اہمیت کو تو فروغ دیا جاتا ہے مگر ہمارے نصاب کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے ہم تعلیم حاصل کرنے کو تو فروغ دیتے ہیں مگر تعلیم میں جدت پیدا کرنے کی کوئی بات نہیں کرتاآج اس جدید دور میں بھی ہم وہی سب پڑھ رہے ہیں جو ہمارے ماں باپ نے اپنے بچپن میں پڑھا تھا۔یہ بات اردو،انگریزی،اسلامیات اور مطالعہ پاکستان جیسے اسباق کی حد تک تو منظور ہے مگر سائنسی اور تکنیکی مضامین جیسے کمپیوٹر،حیاتیات،کیمسٹری اور طبیعات جیسے کئی مضامین موجود ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر نئی نئی دریافت اور ایجادات وقوع پزیر ہورہی ہیں اس کے باوجود ہم اب تک الیکٹرون،پروٹان،نیوٹران،مینڈک کی ساخت اور نیوٹن کے قانون کا مطالعہ کر رہے ہیں مگر بد قسمتی یہاں ہے کہ یہ تعلیم بھی ہمیں سیکنڈری لیول میں دی جاتی ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک جن میں چین،انڈیا،بنگلادیش شامل ہیں وہاں کے نصاب میں یہ تعلیم پرائمری لیول کے طالبعلموں کو دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ ترقی کی دوڑ میں ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔
ہمارے ملک میں نصاب جدت یا تبدیلی نہ ہونے کی وجہ ملک میں رائج نصاب کی مختلف اقسام ہیں جس میں سب سے زیادہ شرح مغربی طرز کے نصاب کی ہے جو ملک کے سب سے زیادہ اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اس نصاب میں زیادہ تر تعلیم انگریزی زبان میں دی جاتی ہے ہر اسکول میں مختلف پبلیشر سے شائع ہونے والی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جن کا معیار ان میں موجود تعلیمی مواد سے زیادہ اسکول مالکان کی پسند نا پسند پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ وہ تعلیمی نصاب موجود ہے جو مختلف سرکاری اور نجی اسکولوں میں رائج ہے جو کہ صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈ شائع کرتا ہے ہر صوبے کا اپناالگ تعلیمی بورڈ ہے جس کا الگ نصاب ہوتا ہے اور تمام صوبوں کے نصاب میں ایک واضح فرق موجود ہے۔ اسکے بعد وفاق کے ززیرِنگرانی چلنے والے اسکول آتے ہیں جن میں ایک الگ مگر تمام وفاقی اسکولوں میں یکساں نصاب پڑھایا جاتا ہے اس ہی طرح فوج کی زیرِ نگرانی اسکول (اے پی ایس) جس کی شاخیں پورے ملک میں موجود ہیں وہاں بھی یکساں مگر دوسرے اسکولوں سے الگ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا تعلیمی نصاب کیمبریج سسٹم کی صورت میں موجود ہے اس سسٹم کے تحت اے لیولز کے امتحانات کی تیاری کروائی جاتی ہے۔
 اس طرزِ تعلیم میں تمام کتب غیر ملکی اور غیر سرکاری نصاب پر مبنی ہے۔اس سسٹم میں اسلامیات،اسلامی تاریخ،اردو اور مطالعہ پاکستان بعض اداروں میں صرف برائے نام ہے اور بعض میں سرے سے ہی نہیں ہے۔اور اس سب اقسام کے ساتھ نصاب کی ایک شکل وہ بھی ہے جو ہمارے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے جس میں حدیث،فقہ پڑھائی جاتی ہیں اس نصاب میں دنیاوی تعلیم کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ان تمام نصاب کی باہمی تفریق ہی ہمارے ملک کی تعلیم میں جدت پیدا ہونے سے روکتی ہیں۔
مگر اب بھی وقت نہیں گزرا ہمیں آئندہ آنے والی نسلو ں کے لیئے اپنا نظامِ تعلیم بہتر بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیئے ہمارے اداروں کو مضبوط ہونا ہوگا اور نصاب میں تبدیلی اور جدت پیدا کرنے کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان،ڈاکٹر نوید آئی سید، ڈاکٹر علی موئن نوازش، ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر عمر صیف جیسے قابل علماء اور سائنسدانوں کی رائے لینی ہوگی جو دورِ جدید کے تقاضوں پہ گہری نظر رکھتے ہوں اور بہتر طر یقے سے اسے سمجھتے ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article