waleed bin khalid urdu feature

فیچر
ولید بن خالد
2K17/MC/105
BS-PIII
                  ہم کہاں دنیا کہاں
ویسے تو انسانی فطرت اس قدر بے مثال رہی ہے کہ جب بھی اس کی حدود کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو یہ چار قدم بڑھ کر ہر اندازے کو پھیکا کردیتی ہے اور جب بات انسانوں کی دنیا میں موجودگی اور مقام کی ہو تو لاکھوں کروڑوں انسانوں کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔
کہنے کو تو کافی مشہورہے کہ کلام سے زیادہ اعمال بھاری ہوتے ہیں مگر حقیقت میں ہم لوگ کلام کی طاقت کا سہارا لیکر اپنے فرائض کا بھی وزن دھو دیتے ہیں۔
اپنی اوقات سے زیادہ سوچنا یا کرنا ہماری تہذیب کا اتناتلخ حصہ بن چکا ہے کہ ہماری عقلیں اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ ہم کچھ نیا،کچھ بڑا،کچھ خاص سوچ سکیں۔
ہاں لیکن بیٹھ کر فقط باتیں کرنے اور اپنی ناکامیوں کا بوجھ دوسروں  کے کاندھوں پر ڈالنے کا ہنرتو جیسے ہماری نسوں میں اُترا ہوا ہے۔
جب ہمارے آپ ہی اتنا کاہل ہے تو حکومت کی نا اہلی کے لئے تو الفاظ کا ذخیرہ بھی تنگ پڑ جاتا ہے کیونکہ ''جیسی عوام ویسے حکمران''۔
دنیا ہم سے کیسے اتنی آگے نکل گئی؟
ہم کیوں اتنا پیچھے رہ گئے؟
کس کی غلطیوں کا نتیجہ ہم پر عذاب بن کر آئی ہے؟
ایسے کئی سارے سوال ہیں جو ہماری زبانوں پر جاری ہیں پر جو سوال دراصل ہمیں خود سے پوچھنے چاہیے ان سے شاید ہزار میں سے ایک زندہ ضمیر ہی آشنا ہوگا۔
ہم نے آج تک دنیا کے لئے کیا کیا ہے؟
کیا ہم دنیا کی فلاح کا سہارا بننے کے لئے محنت کش ہوسکتے ہیں؟
دوسروں کو تلقین کی جانے والی باتوں پر پہلا عمل ہمارا کیوں نہیں ہے؟
یہ وہ سوال ہیں جو کسی بھی بے عقل،نہ سمجھ اور بزدل شخص کا حصہ بن ہی نہیں پاتے۔
ہم اگر دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنا موازنہ کریں تو چاہے وہ تعلیم کو شعبہ ہو یا پھر ٹیکنالوجی کا دنیا ہم سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔
پاکستان کو بنے 70سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران تعلیم کے لئے کئی پالیسیاں بنیں اور مرتب کی گئی مگر ہمارا تعلیم کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ہم سے بعد آنے والے کئی ممالک تعلیمی لحاظ سے ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔انہوں نے جامع اور ایک متوازن نظام تعلیم اپنا کر تعلیمی میدان میں ترقیاں حاصل کیں اور ہمیں پیچھے چھوڑا۔
ہیومن ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے دنیا میں 136نمبر پر ہے۔پاکستان میں 58%لوگ پڑھنا اور لکھنا جانتے ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 67لاکھ بچے اسکول جانے کی عمر میں اسکول ہی نہیں جا پاتے۔یو این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پرائمری سطح کی تعلیم میں دنیا سے 50 سے زائد سال اور سیکنڈری سطح کی تعلیم میں 60سے زائد سال دنیا سے پیچھے ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم ایک اہم کردار ادا کرتی ہے جب ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار یہ ہوگا تو ہم دنیا کے ساتھ مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں۔س
جہاں تک رہی دنیا کے آگے بڑھنے اور شہرت کے قلعے فتح کر نے کی بات تو ان کی قوم فقط الفاظ کی طاقت پر نہیں چل رہی وہ یہ مانتے ہیں کہ ہر ایک انسان قابل ہے اور اپنی قوم کے لئے فخر کا باعث بننے کی قابلیت رکھتاہے۔
اپنی اوقات سے بڑھ کر سوچنا اور اُسے حاصل کرنے کی خواہشات کو زندہ رکھتے ہوئے بھر پور جذبے اور ہمت کا اظہار کرنا اس کے لئے محنت کرنا اور اس کو حاصل کرکے ہی دم لینا ان کی فطرت اور تربیت کا حصہ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ان کی بنائی گئی دنیا کامیاب،پُر اصرار اور قابل ِ رشک ہے اور ترقی کی دوڑ میں اول درجے پر بے فخر ٹکی ہوئی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ کسی کہ رحم وکرم،معجزے یا پھر بھیک کے انتطار میں دن پورے کرنے کے بجائے محنت،مشقت،قابلیت اور سمجھ داری کا مظاہرہ کریں اور ان ہی راہوں کی طرف گامزن ہوں کیونکہ یہ وہ عناصر ہیں جو کبھی ضائع نہیں ہوتے اور ان کا پھل قابل ِعزت و فخر ہوتا ہے۔
آج ہم اس ہمت سے کام لینگے تو انشاء اللہ آنے والے کل میں نئی نسل اپنی فطرت اور تربیت میں یہی مثبت سوچ لے کر ہمیں اس دنیا کے برابر لے جا کھڑا کر دے گی جس کا ہم آج صرف تصور ہی کرسکتے ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article