Naval Shah Article To be checked

To be checked
              سیدہ نوال جاوید (آرٹیکل) :   2k17/Mc/74,BS PIII
                فالز سیلنگ کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس سے پیداہونے والے مسائل

گھروں کی آرائش وزیبائش ہر انسان کی فطری خواہش ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں دریافت ہونے والی قدیم تہذیبوں کے آثار میں بھی گھروں کی آرائش کا سازوسامان دریافت ہوا ہے۔قدیم دور کی تعمیرات  اور تزئین و آرائش کے لئے بنائے جانے والے نقشونگار میں بھی پتھر اور جپسم  کا استعمال بکثرت  دکھائی دیتا  ہے۔اٹھارویں صدی میں فرانسیسی کیمسٹ لویزر نے جپسم پر تحقیق کا آغاز کیا اور اس نے پہلی بار گھر کی اندرونی چھتوں کو گرمی اور سردی کے اثرات سے بچانے کے لیے جپسم کی بنی پلیٹوں کا استعمال کیا کیونکہ اس کام کا آغاز   فرانس کے شہر پیرس سے ہوا  اس لئے جپسم کی اس ٹھوس شکل کو پلاسٹر آف  پیرس کا نام دیا گیا ۔
 اب وہ دور نہیں جب گھر کے اندرونی حصوں کی چھتوں کی تعمیر اور تزئین و آرائش کے لیے بنائے جانے والے نقش ونگار میں پتھر اور جپسم کا استعمال کافی سمجھا جاتا تھا آج کل ہمارے ہاں پلاسٹر آف پیرس کی بنی فالز سیلنگ کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے  اور گھروں اور  دکانوں میں اس کا استعمال  جا بجا دیکھا جا سکتا ہے  ماہرین کے مطابق فالزسیلنگ لگوانے سے چھتیں نا صرف خوبصورت نظر آتی ہیں بلکہ  اس سے نقصان پہنچانے والے موسمی اثرات  سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
فالزسیلنگ کسی بھی کمرے کی چھت اور اس جگہ کو ایک منفرد انداز عطا کرتی ہیں یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ فن تعمیر کی انفرادیت اور جدت کا اندازہ کمرہ کی چھتوں اور درودیوار کے جدید اسٹائل کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے فالز سیلنگ کی کئی اقسام ہیں جن میں  فینسی،پرنٹڈ اور فائیلنگ شامل ہیں۔فالزسیلنگ میں استعمال ہونے والے مٹیریل کی مختلف اقسام ہیں  جس کی قیمت بیس  روپے  فی فٹ کے حساب سے ۰۰۲ روپے فی فٹ تک ہے
 اس پیشے سے منسلک مزدوروں کی ماہانہ آمدنی پندرہ سے بیس ہزار تک ہوتی ہے۔سیلنگ کے لیے مزدوری کی مد میں آ ٹھ روپے فٹ سے لے کر بیس روپے فٹ تک وصول کرتے ہیں  جبکہ اس میں میٹیریل کا معاو ضہ شامل نہیں ہے۔ اس کام کی ڈیمانڈ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ یہ کام سال کے بارہ میینے چلتا رہتاہے اور انہیں اس دوران کبھی بھی فراغت نہیں ملتی اس کاروبار کے مالکان ماہانہ ۰۶ سے۰۷ ہزار روپے خالص منافع کما لیتے ہیں  یہ ہی وجہ ہے کہ اس کاروبار میں نئے لوگ بھی آرہے ہیں اوراس کاروبار کو جدت دینے میں بھی مصروف ہیں۔ او ر  اب  فالز سیلنگ کا کام  ملک کے چند تیزی سے پھیلنے والے  کاروبار میں شامل ہو چکا ہے۔
فالز سیلنگ کا  میٹیریل کوٹ ادو کی فیکٹریوں میں تیار کیا جاتا ہے۔یہ فیکٹریاں خام  پلاسٹر آف پیرس  بوریوں میں بھر کر ؎ ہرشہر میں اپنے ڈیلرز کے زریعے  فروخت کرتی ہیں اس کاروبار کے  میٹیریل میں  پلاسٹر ٓاف پیرس  پلاسٹک کے دھاگے  جو کے  چھت بنانے والی پلیٹوں میں استعمال ہوتے ہیں  اس کے علاوہ پلیٹیں  بنانے والے فائبر کے سانچے اور اسٹیل وائرز شامل ہوتی ہیں۔
جس رفتار سے کام پھیلتا جارہا ہے اسی رفتار سے فالزسیلنگ کے پیشے سے وابستہ مزدوروں کی صحت کے لیے مسائل اور دشواریاں بھی بڑھاتا جا رہا ہے کم علمی اورلاپرواہی کی وجہ سے احتیاطی تدابیر پہ عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔اسی وجہ سے اس کام سے منسلک مزدوروں میں سانس اور پھپھڑوں کے امراض عام ہیں  ایک سروے کے مطابق ۰۷ سے ۰۸ فیصد اس کام سے وابستہ لوگ سانس کی بیماریوں کا شکار ہے۔فالز سیلنگ کا غبار اندر کھینچنے سے آنکھوں اور ناک کی الرجی  ہو سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ گردوں کے مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور ایسی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو حفاظتی کٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے توان امراض سے بچا جا سکتا ہے اور انسانی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article