Naval Shah Feature To be checked
To be checked
سیدہ نوال جاوید(فیچر) 2K17/MC/74 BS PIII
نوجوانوں میں بڑھتا ہوا کانٹیکٹ لینز کا ا ستعمال اور اس کے م ضر اثرات
صاف اورشفاف بصارت قدرت کا انمول عطیہ ہے۔اس بصارت میں دور یا نزدیک کی کمزوری کو انسان نے عینک کی مدد سے دور کرنے کی کوشش تو کی ہے لیکن یہ عینک کئی معاملات میں پیچیدگی کا باعث بھی بنتی ہے خاص طور پہ غوطہ خوری یا تیراکی کے عمل میں بصارت کی کمزوری ایک بڑی رکاوٹ تصور کی جاتی ہے تاہم عینک کو بھی ایک بڑی نعمت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن دوسری جانب انسانی ذہن اس پر اکتفا نہیں کئے ہوئے ہیں اس لئے بصارت کو بہتر کرنے کے سلسلے میں کنٹیکٹ لینز کا استعمال عام ہے۔لیزر شعاعوں کے علاج کامہنگا پن اور کسی حد تک اس طریقہ علاج کے خطرات کے باعث لوگ کنٹیکٹ لینز کو ترجیح دیتے ہیں۔کنٹیکٹ لینز کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ایک سخت یا ہارڈ اور دوسری سوفٹ یا نرم۔اب خاص طور پہ ہارڈ لینز کی اصطلاح متروک ہو چکی ہے۔اب تمام کنٹیکٹ لینز ایک خاص قسم کے پلاسٹک میٹیریل سے تیار کئے جاتے ہیں جو انتہائی سوفٹ ہوتے ہیں۔ ایک ماہر معالج آنکھ کی ہیت کا بھرپور مطالعہ کرکے ہی طے کرتا ہے کہ کس قسم کا کنٹیکٹ لینز انسانی آنکھ کو درکار ہے۔اس میں خاص طور پہ آنکھ کے قرنیہ کی پیمائش یا ساخت اہم ہوتی ہے۔
ماہرین چشم کا کہنا ہے کہ کنٹیکٹ لینز کے استعمال سے انسانی بصارت کے کئی مسائل حل ہوگئے ہیں۔یہ درست ہے کہ کنٹیکٹ لینز کمزور بینائی کو بہتر کرنے کا نظر نہ آنے والاایک عمدہ طریقہ ہے لیکن بعض اوقات ذرا سی بے احتیاطی سے کچھ مسائل بھی پیداہوجاتے ہیں۔کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خوبصورت نظر آنے کے لئے رنگین کنٹیکٹ لینز کا استعمال کرتے ہیں جس کی قیمت السر،بصارت کی کمی یا بینائی سے مکمل محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ معیاری کانٹیکٹ لینز استعمال کرنے والے بھی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے مختلف سنگین مسائل سے دوچار ہو سکتے ہیں۔جو لوگ عینک سے بچنے کے لئے فیشن کے طور پر کنٹیکٹ لینز کا استعمال کرتے ہیں تو جراثیم لینز کی وجہ سے آنکھ میں داخل ہو کر خطرناک انفیکشن کر سکتے ہیں۔پاکستان میں غیر معیاری آرائشی لینسز کے استعمال اور بد احتیاطی کی وجہ سے متعدد لوگوں کی بینائی متاثرہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں قوت خرید کے لحاظ سے کا سمیٹک یا آرائشی لینز کی قیمتں مختلف ہیں جس میں لینز کا ایک جوڑاتین سو روپے سے لیکرتین ہزار تک دستیاب ہے یہ لینز امریکہ،برطانیہ،چین اور جنوبی کوریا میں بنتے ہیں۔تاہم پاکستان آتے آتے اکثر ان کی پیکنگ خراب ہو جاتی ہے جس کا اثرلینز کے معیار پر پڑتا ہے مارکیٹ میں مختلف اقسام کے کنٹیکٹ لینز دستیاب ہیں ان میں روزانہ،ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر تبدیل کئے جانے والے لینز شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق روزانہ تبدیل کئے جانے والے لینز مناسب ہیں انہیں دن بھر استعمال کر کے رات کے وقت پھینک دیا جاتا ہے چونکہ انہیں کسی کیس میں رکھ کر اگلے دن کے لئے محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے ان میں بیکٹیریا کا خطرہ نہیں ہوتا روزانہ کی بنیاد پر لینز تبدیل کرنے والوں کی آنکھوں میں انفیکشن کا خطرہ بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔اگر آنکھ میں چبھن محسوس ہو یا کنٹیکٹ لینز آنکھوں میں لگانے سے قوت برداشت ختم ہوجائے تو سمجھ لیں کہ آپ کی آنکھ نے کنٹیکٹ لینز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ایسی صورت میں لینز کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔
انسانوں کے اندر قوت بینائی میں پیدا شدہ کمزوری کو دور کرنے کی خواہش قدرتی طور پہ پائی جاتی ہے۔انسانی ذہن نے ایسی مختلف النوع اشیاء دریافت کر لی ہیں جن سے بصارت کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ بینائی کو تقویت دی جاسکتی ہے۔چونکہ آنکھیں روح کا دریچہ ہوتی ہیں۔امور چہرے کی خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔لہذا لینز لگانے کی صورت میں اپنی آنکھوں کی مناسب نگہداشت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
Comments
Post a Comment