Sadia Nawaz Article حیدرآبا د شہر کتنا بدل گیا؟
To be checked
File late, two times in wrong format
Pls always send in proper format, otherwise it will not be checked and u will miss guidance
This may also cause no entry of ur piece
File late, two times in wrong format
Pls always send in proper format, otherwise it will not be checked and u will miss guidance
This may also cause no entry of ur piece
حیدرآبا د شہر کتنا بدل گیا؟
۲۱۰۲ سے ۹۱۰۲ تک
سعدیہ نواز بی ایس پارٹ تھری
SYEDA SABA 2k17/MC/148
ویسے تو ہر جکہ اپنی نئی اور نت پہچان لئے ہوئے ہے اور مختلف شہرائیں اپنی ہی رونق سے جگمگا رہی ہیں وہی تبدیلی ایک بڑا اور اہم حصہ ہے شہر گلی کونچیں علاقے اور بیشتر جگاہیں بہت سی تبدیلی اور نئے انداز سے مشترکہ ہو گئی ہیں اگر اسی انداز میں ہمارا اپنا شہر حیدرآباد کا نقشہ دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں بے شمار تبدیلیاں نظر آتی ہیں اگر بات پہلے کاروباری مراکز کی بات کی جائے تو بے حساب چیزیں ہیں یہاں کے رنگ میں لوگوں کی محنت اور نئے خیالات سے تبدیلی کے ساتھ ساتھ ترقی کا بھی ضامن ہے اگر نقشہ کچھ اس طرح سے کھینچا جائے کہ حیدرآباد میں ۲۰۱۲ سے ۲۰۱۹ میں کہاں اور کس طرح کی تبدیلیاں ائیں تو یہ کہنا غلط نہی کہ بہت ساری چیزیں جن میں جگاہیں، تعلیمی مراکز، سرکاری ادارے، کھانے پینے کی بنتی ہوئی عمارتیں اور کھانے بنانے کے مختلف انداز، بازار کی رونقیں، بیوٹی پارلر اور ناجانے چائے کی منفرد ہوٹل اور کاروباری مراکز وغیرہ میں آنے والی تبدیلیاں قابلِ غور ہیں -
جہاں ۲۰۱۲ میں ٹریفک، کاروبار اور بہت سی چیزیں موجود تھی مگر تبدیلی کا سبب وہاں آیا جب ان سب میں رجحان بڑھنا شروع ہوا اور لوگوں کی توجہ کا منتظر ہوئی تعلیمی اداروں کی تبدیلیاں کچھ اس طرح سے دیکھی جاتی ہے کہ اسکول، کالج کی بوسیدہ عمارتیں نئے نئے انداز میں دوبارہ سے تعمیر کی گئی ٹہوشن سینٹر کی تعمیر نو جو تبدیلی اور لوگوں کی توجہ کا با عث ہیں -
جہاں طلبہ کی اچھی اور معیاری تعلیم کیلئے کئی اداروں کا اغاز کیا گیا جسی میں لوگوں کو آسانی فراہم ہوئی چھوٹے بڑے علاقوں میں تعلیمی مراکز کُھلنے سے دور دراز سے آنے والے طلبہ و طالبات کی مشکلات ختم ہوئی علاقائی اطوار سے معیاری تعلیم مُہیا کرنے کے قابلِ یقین ادارے موجود ہیں اور آسانی بخش ہیں جو موجود زمانے میں ایک بڑی تبدیلی ہے پھر جہاں بات کھانے پینے کو اعتبار سے کی جائے تو حیدرآباد لطیف آباد میں کھانوں کی نئی چیزیں اور مشروبات کا بڑھتا ہوا رجحان لوگوں کی توجہ سمیٹھے ہوئے ہیں جس میں آٹو بھان روڈ کی مشھور جگائیں جہاں پہلے چند ہی کھانے پینے کے مراکز تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ اج ایک مکمل فوڈز اسٹریٹ بن چکی ہے جہاں منفرد انداز کے کھانے قابل تعریف ہیں یہی لذیذ کھانے لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ ہیں
پھر خریداری کی دوکانوں میں بے شمار اور مختلف چیزیں شامل ہیں کپڑے، جیولری، جوتے، پچوں کے ائٹم جس میں کھِلونے، برتن اور بہت سی تبدیلیاں جس میں سہولت اور ضرورت دونوں معجود ہیں -
پھر جہاں ٹریفک کی صورتحال دیکھی جائے تو بڑی بڑی گاریاں جہاں لوگوں کا وقت باآسانی بچاتی ہیں وہیں تعلیمی اداروں میں اسکول،کالج اور یونیورسٹی کیلئے رکشہ، وین اور بسس طلبہ و طالبات کو سہولت مُہیا کرنے کا کام سرانجام دے رہی ہیں مگر ٹریفک کا بڑھتا ہوا مسئلہ روز ٹریفک حادثات کا باعث اور لوگوں کیلئے جانی خطرہ کے باعث ہے فراٹے مارتی ہوئی گاڑیوں سے نکلنے والی آلودگی بڑھتی ہوئی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں
ان باتوں کو لبِِ ِ لباب یہ ہے کہ ۲۰۱۲ سے ۲۰۱۹ تک ہونے والی تبدیلیاں جہاں تک لوگوں کو سہولت فراہم کر رہی ہیں وہیں لوگوں کی محتاجگی کا باعث بن رہی ہیں جو ترقی اور کامیابی کا ضامن تو ہے لیکن لوگوں کیلئے کسی حد تک نقصان کا سبب بھی ہیں ان چند سالوں میں تبدیلی کارامد
رہنے کے ساتھ بہترین کاوش رہی اور اس دور میں روز کی تبدیلیاں لوگوں میں ایک انفرادی محنت اور پہچان نظر آتی ہے
Comments
Post a Comment