Sadia Nawaz Feature سندھ میوزیم
Will be checked
pls write ur name in Urdu also
mention category of writing, its feature or article, ?
Observe deadline
Its file late
سندھ میوزیم
صوبہ سندھ جسے وادی مہران بہی کہا جاتا ہے ویسے تو سندھ کی تہذیب و ثقافت سندھ کے شہر سے جھلکتی ہے مگر صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں واقع سندھ میوزیم ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھے ہوئے ہے سندھ میوزیم کا قیام ۱۹۷۱ میں پیش آیا - سندھ میوزیم رانی باغ داکٹر داؤد پوتا لئبریری کے قریب واقع ہے ۱۹ اپریل ۱۹۹۳ میں اسکا باقائدہ افتتاح اس دور کے وزیر اعلٰی سندھ“سید مظفر حسین شاھ“ کے ہاتھوں ہوا -
میوزئم میں قدیم تہذیبوں کے نوادرات اور آثار قدیمہ سے حاصل کردہ تاریخی اشیاء رکھی گئی ہیں میوزئم میں سندھ کی تاریخ رہن سہن کے انداز اور سندھ کے مختلف پیشوں کے طریقہ کار کو مجسموں کی مدد سے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے-
سندھ میوزیم کے مقامی، اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے ہھی بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں کو سندھ کی ثقافت سے روشناس کرتا ہے میوزیم ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ تاریخِ ثقافت سے دلچسبی رکھنے والوں کو معلومات فراہم کرتا ہے میوزیم میں رکھی گئی مختلت شعبہ زندگی سے متعلق تاریخی اشیاء کی معلومات کی فہرست طویل ہے دسپلے گیلریز اور اوپن ائیر سیکشن سندھ میوزیم کے دو حصے ہیں میوزیم کے داخلی گیٹ کو قلعہ نما دیزائن میں تعمیر کیا گیا ہے یہ دروزاہ دو بڑے گیٹز پر مشتمل ہے داخل ہونے کے بعد ممتاز مرزا اؤدیٹوریم سے تھورے فاصلے پر سندھ میوزیم کا داخلی دروازہ ہے جس کے دائیں جانب سندھی گھر کی ثقافت کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے لگتا ہے کسی حقیقی گھر میں داخل ہوگئے ہوں جس میں گھریلو اشیاء بڑے سلیقے سے سجائی گئی ہے سامنے کی دیوار میں باورچی کھانے کا روایتی انداز کا بنا دروازہ اندر چولہے پر ہنڈیا چڑہی ہوئی ہے دروازے کے دونوں جانب خوبصورت اوطاق جس میں برتن سجے ہوئے ہیں انکے سامنے سندھی لباس میں ملبوس خاتون چکی پیس رہی ہے ایک جانب جھولے پر بیٹھی سندھی بھرت کے کام والا لباس پہنے خاتون کا مجسمہ ایسا لگتا ہے جسے ابھی اٹھ کر کھڑا ہو جائیگا اس گھر کے تمام کرداروں کو سندھی طرزِ رہائش کے مطابق زندگے بسر کرتے رکھا گیا ہے اور انکے رنگ برنگے لباس جو کشیرہ کاری کے نفیس کام سے مزین ہے اس گھر کے سامنے والی راہداری میں مختلف اسٹائلز ہیں جن میں سندھی مردجہ پیشوں کی عکاسی کی گئی ہے - یہ تمام مجسمے حقیقت سے اتنا قریب ہیں لگتا ہی نہی کہ مجسمے ہوں اصل لوگ ایک طرف کمہار کو کام کرتے اسٹائلز میں رکھا گیا ہے سندھ کی شناخت روایتی اجرک کے اسٹائل کا تو جواب ہی نہی اس میں اجرک کی تیاری کے مراحل اور اسکی فروخت کرنے والے دوکاندار کو بھی مجسمے کی صورت میں دکھایا گیا ہے ساتھ ہی اگلے اسٹائل پر لوہار میاں بیوی روایتی طریقے سے لوہے کو سرخ کر کے مختلف اشیاء بناتے دکھایا گیا ہے آگے چرخے کے ساتھ بیٹھا شخص اپنے کام میں مصروف دکھایا گیا ہے اسکے ساتھ ہی بھٹی پر کھانا پکانے کی عکاسی کی گئی ہے اس سے اگلے اسٹال پر ایک مجسمے کو سندھ کی روایتی چارپائی کے پائے بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے ایک اسٹال پر جولائا کھڈی پر کام کر رہا ہے ساتھ ہی خاتون لکڑی کے دستے مو مصالحہ کوٹ رہی ہے ساتھ میں ایک خاتون روایتی انداز میں دودھ سے مکھن تیار کر رہی ہے اخر میں کونے میں گاؤں کا باورچی کھانا دکھایا گیا ہے جس میں ایک مجسمے کو روٹی بناتے دکھایا گیا ہے ان تمام مجسموں کو سندھ کے روایتی لباس پہنائے گئے ہیں خواتین کے لباس میں سندھے بھرت کا کام نجایت خوبصورت انداز میں دکھایا گیا ہے ان تمام اسٹالز پر بنائے گئے مجسمے روایتی کام سرانجام دیتے نظر اتے ہیں ماحول کو اصل انداز میں دھالتے ہوئے انہیں بنانے والے فنکار قابل تعریف ہیں اسٹالز پر مختلف کام کرنے کا ماحول اس قدر دکھائی دیتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مجسمے ابھی اٹھ کر چلنا شروع کر دیں سندھ میوزیم کا ہر ایک مجسمہ اپنی ایک الگ کہانی اور منظر کشی کرتا نظر اتا ہے میوزیم میں سندھ کی ثقافت ہی نہی بلکہ مختلف ادوار اور تہذیبوں کی عجائبات کی بھی عکاسی کی گئی ہے ان تمام تر مناظر کو حقیقت سے اتنا فریب تر بنانے کا سہرا سندھ میوزیم کے ڈاریکٹر، مصور،مجسمہ ساز، آڑٹسٹ ظفر علی کاظمی کے سر ہے انکی ہر تخلیق سندھی دھرتی کے ذرے ذرے کی عکاسی ہے انکی خدمات کی بنا پر سندھ میوزیم میں ایک آڑٹ گیلری کر انکے نام سے منسوب کیا گیا ہے جو گذرتے وقت کے ساتھ انکی خدمات کو یاد دلاتا رہیگا-
ٓSADIA NAWAZ
2k17/MC/80
Comments
Post a Comment