Summiaya Arain Article


رانی باغ کی تباہی کا سبب

حیدرآبادٹاؤن قاسم آباد انتظامیہ کی عدم توجہ کے نتیجے میں چند سال قبل کروڑوں روپے کی مالیت سے تعمیر کیا جانے والا رانی باغ بدحالی کا شکار ہو گیا ہے۔ سابق ضلعی حکومت نے تقریباً پانچ کروڑ روپے خرچ کرکے رانی باغ کی تزئین و آرائش کی تھی۔ اسیل علاوہ چڑیا گھرکوبھی تعمیر کرکیاس کی تزئین و آرائش کی گئی تھی جس میں لاکھوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی جانور اور پرندے رکھے گئے  تھے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رانی باغ اور چڑیا گھر کوتحصیل قاسم آباد کے حوالے کر دیا گیا اور تحصیل قاسم آباد کی انتظامیہ نے چڑیا گھر کو مزید خوبصورت بنانے کے بجائے اسے تباہ کر دیا۔
رانی باغ کے مختلف پارکوں میں جگہ جگہ جھولے لگے ہوئے ہیں جن سے تفریح کے لیے آنے والے بچے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تو فن لینڈ یعنی رانی باغکی انتظامیہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام جھولوں کے کرایوں میں اضافہ کردیا۔رانی باغ میں برسوں سے کوئی نیا جانور موجود نہیں، جس کے باعث زیادہ تر پنجرے خالی پڑے ہیں یا پھر ان میں عام اقسام  کے پرندے اور جانور ہیں۔میونسپل کمیٹی قاسم آباد کے حکام کی مسلسل عدم توجہ اور لاپرواہی کے باعث رانی باغ تباہی سے دوچار ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس پر بھی رانی باغکے اندر داخل ہونے، چڑیا گھر جانے اور پارکنگ کے علاوہ فنلینڈ یعنی رانی باغ کا ٹکٹ الگ الگ لینا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر ایک فرد کا سو روپے کا ٹکٹ ہوتا ہے۔ جبکہ فنلینڈ یعنی رانی باغ کے جھولوں کا ٹکٹ الگ ہے اس سلسلے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ رانی باغ پر توجہ دی جائے تاکہ شہریوں کو بہتر تفریح میسر آسکے۔
رانی باغ گھاس سے محروم ہو رہا ہے تو انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر بغیر منصوبہ بندی کے مزید کیبن اور دکانیں قائم کرکے انہین الاٹ کرنے کی وجہ سے باغ کا حسن کم پڑتا جارہا ہے۔ 2006 میں ہونے والی موسلادھار برسات کے بعد اجڑنے والے رانی باغ کی 2008 میں اس وقت ضلعی حکومت نے 15 کروڑ روپے کی لاگت سے ازسر نو تعزین و آرائش کی تھی اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے 22 نومبر 2008 کو اس کا افتتاح کیا تھا۔ افتتاح کے وقت رانی باغ کے تمام حصوں میں گھاس موجود تھی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کیاریوں میں خوبصورت پودے لگے تھے اور ان پر کھلنے والے پھولوں کی وجہ سے رانی باغ ایک دلکش منظر پیش کرتا تھا اورابرانی باغ میں نہ کھیلتے ہوئے پھول ہیں اور نہ ہی اگتی ہوئی گھاس جس کی وجہ سے رانی باغ میں بہت بے رونقی ہوگئی ہے کیونکہ اب وہاں کی جو انتظامیہ ہیوہ بالکل اچھی نہیں ہے۔ وہاں آنے والیفنڈز کہاں جاتے ہیں کسی کو اس کی خبر نہیں۔ 
اس وقت تعلقہ قاسم آباد کے اصرار پر رانی باغ اور چڑیا گھر کا سارا نظام بلدیہ قاسم آباد کے حوالے کر دیا تھا۔ جبکہ رانی باغ اور چڑیا گھر کی تعریف سن کر سندھ بھر سے لوگوں کی بڑی تعداد ہر روز رانی باغ اور چڑیا گھر دیکھنے کے لئے آتی تھی۔ جس کے نتیجے میں ٹکٹوں کی فروخت کے ذریعے بلدیہ قاسم آباد کی مالی امداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گیا تھا۔ لیکن بلدیہ قاسم آباد نے اپنی تمام تر توجہ مال بنانے پر ہی مرکوز رکھیں۔ ان سب کے علاوہ رانی باغ کی سکیورٹی کا انتظام بھی بالکل اچھا نہیں ہے۔ وہاں طرح طرح کے لوگ آتے ہیں جو کہ وہاں کا ماحول خراب کرتے ہیں رانی باغ جہاں لوگ جانا بہت پسند کرتے تھے وہاں لوگ اب اس کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتے۔ رانی باغ کے جھولوں میں بھی اب پہلے والا مزا نہیں ہے ان جھولوں کی رفتار بھی بہت کم ہو چکی ہے۔ رانی باغ کی تباہی کا سبب انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Aleena Jokhio article

قاسم آباد ۾ گندگي جا ڍير

Basit Ali Rind Article