Summiya Arain profile
سجن میمن موریو
سمعیہ آرائیں
ایک ایسا انسان جس کی زندگی ایک خواب ہو وہ غربت میں جیئے تو کیسے جیئے؟ ایسا انسان جسے کوئی بھی کام دے دیا جائے اس کے لیے وہ کسی نعمت سے کم نہیں، وہ کرلے گا۔ انہوں نے بھی اپنی زندگی کا آغازایک چھوٹی اور عام سی نوکری سے ہی کیا تھا۔ یہ کہانی ایک گاؤں کوٹ مرزا کالو میں رہنے والے ایک شخص نیک محمد موریوعرف سجن موریو کی ہے۔ جن کا تعلق لوور کلاس بیک گراؤنڈ سے تھا۔ 1998 محمد موریو کی وفات کے بعد ان کے پاس کچھ نہ رہا، نہ رہنے کے لیے گھرنہکوئی زمین،نہ کوئی آمدنی کا ذریعہ کیونکہ سجن موریو کے والد کی وفات کے بعد ان کے چچا نے ان کی زمینوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ والد کی وفات کے بعد گھر والوں کی ذمہ داری کا سارا بوجھ سجن موریو کے کاندھوں پرآ گیا تھا۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ لاڑکانہ ریلوے اسٹیشن کوارٹر میں رہنے لگے۔ وہاں سے انہوں نے اپنی مشکل زندگی کا آغاز شروع کیا۔
سجن موریو نے امیر ایکسپریس میں ایک ٹیکنیشن کی حیثیت سے نوکری کرنی شروع کی۔ اس کے بعد سن 2000 میں نیشنل بینک کے گورنمنٹ امتحانات ہوئے جس میں سجن موریو 2001 میں جونیئر کلرککے طور پر سلیکٹ ہوئے۔ نوکری ملنے کے بعد انہوں نے سوچا کہ وہ اپنے بہنبھائیوں کو اعلی تعلیم دلوائیں گے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں اور اچھی نوکریاں کرسکیں۔ پھر 2006 میں سجن موریو کا پروموشن ہوا۔ پھر 2006 میں ہی سجن موریو نے اپنی پسند کی شادی کی۔ اب ان کی اپنی فیملی بھی تھی اور ساتھ ہی تین بھائی دو بہن اور ایک ماں بھی تھی۔ پھر 2008 میں ان کی زمینوں کے فیصلے ہوئے جس پران کے والد کی وفات کے بعد ان کے چچا نے نے قبضہ کر لیا تھا۔ وہ انہیں واپس مل گئی اورسجن موریو اپنے گاؤں کوٹ مرزا کالو کیوڈیرے بھی بن چکے تھے۔ 2009میں پھر ان کا پروموشن ہوا اور انہیں اسٹیشن منیجر کا عہدہ ملا اور انہوں نے اپنی کچھ زمینوں کو بیچ کر اپنا گھر بھی لے لیا تھا اور اپنے بھائیوں کو کاروبار بھی شروع کرا دیا تھا۔ گاڑیوں کا شوروم کھول کر دیا۔
2014 میں پھر سے ان کا پروموشن ہوا بینک مینجر کے طور پرڈوکری برانچ میں اوراس بیج 2011 سے 2014 کے درمیان وہ یونین کونسل ڈوکری برانچ کے ڈسٹرکٹ صدر بھی رہ چکے ہیں۔ زمینوں کا جو بھی ماہانہ خرچ آتا تھا وہ سجن موریو آدھا خود رکھتے ہیں اور آدھا ہاریوں کو دیتے ہیں جو کہ ان کی زمین سمبھالتے ہیں۔ ان کے گاؤں میں 60 سے 70 گھر ہیں جن کی مالی مدد سجن میمن کرتے ہیں۔انہیں زمینوں کا پیسہدیتے ہیں اور اناج کا بھی آدھا حصہ دیتے ہیں۔ گاؤں والوں کی بیماری کا خرچہ بھی اٹھاتے ہیں۔ گاؤں والوں کے بچوں کی شادی کا سارا خرچہ ہو یا پھر عید کا خرچہ یہ سب سجن میمن خود ادا کرتے ہیں۔دونوں عیدیں یہ گاڑی بھر کر گاؤں سامان پہنچاتے ہیں۔ جن میں عورتوں، آدمیوں اور بچوں کے لیے کپڑے اور جوتے ہوتے ہیں اور ساتھ بھی راشن بھی بھجواتے ہیں 2017 میں سجن موریو کا لاڑکانہ میں نیشنل بینک کی برانچ میں ٹرانسفر ہوا۔ اس کے علاوہ ان پر کرپشن کا کیس بھی ہوا تھا جو کہ جھوٹا ثابت ہوا۔ یہ کیس جنوری میں سامنے آیااورمئی تک ختم بھی ہو گیا کیونکہ ثابت نہ ہوسکا عدالت میں۔
سجن موریو ایک اینجیو جوکہ کے ایس ایس ڈبلیو اے سکھر سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نام سے چلا رہے ہیں۔ان کے گاؤں میں جو بھی نوجوان بیروزگار ہے وہ انہیں کام دلواتے ہیں سجن موریو بہت زیادہ سوشل ورکر ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے والے ہیں۔ جو لوگ بیمار ہوتے ہیں اپنا خرچہ نہیں اٹھاسکتے میڈیکل کا ان کا سارا خرچہ علاج وغیرہ سب وہی کرواتے ہیں۔ انکے اسپتال کا خرچ ہو یا پھر دواؤں کے اضافی خرچے وہ سب اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔ 2015میں ایک کینسر کا مریض تھا جس کا پورا علاج سجن میمن نے کروایا تھا۔ جو لوگ معاشی طور پر اپنا خرچہ نہیں اٹھا سکتے ان کا خرچہ بھی سجن موریو اٹھاتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے گاؤں میں ایک مفت اسکول بھی چلتا ہے جس کا خرچہ گاؤں والوں کے ساتھ ساتھ سجن موریو بھی ادا کرتے ہیں۔ اس اسکول میں ان کی اپنی بہناوردو سے تین گاؤں کے گورنمنٹ استاد مفت میں پڑھاتے ہیں۔ سجن موریوگاؤں میں دو بیوہ رہتی ہیں جن کی مالی مدد وہ خود کرتے ہیں اوران کے بچوں کی پڑھائی سے لے کر تمام خرچہ وہ خود اٹھاتے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک ان کی اپنے چچا جنہوں نے ان کی زمینوں پر قبضہ جمالیا تھا ان کی بیٹی ہے اور دوسری بیوہ عورت ان کے بڑے بھائی کی سالی ہیں۔
زندگی میں کچھ کرنے کے لئے انسان کے پاس پیسہ ہونا ضروری نہیں کبھی کبھی محنت اور ماں کی دعا پیسے سے بڑھ کر ثابت ہوتی ہے اور زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ اگر تم سچے دل سے محنت کر رہے ہو تو تمہیں دنیا کی ہر چیز مل سکتی ہے۔ سجن میمن کی معاشی صورتحال ایسی تھی کہ وہ اپنی زمینوں کے لیے کیس تک نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ لیکن انھوں نے حار نہ مائی اور اپنی محنت اور لگن سے سب کچھ حاصل کرلیا۔ آج ان کے پاس سب کچھ ہے جو کہ ان کی محنت کا نتیجہ ہے۔
Comments
Post a Comment