Summiya جیمس آباد سے کوٹ غلام محمد بننے تک
Seem ok
جیمس آباد سے کوٹ غلام محمد بننے تک
سمعیہ اارائیں
کوٹ غلام محمد برگڑی کو پہلے جیمس آباد کے نام سے جانا جاتا تھا۔کیونکہ حیدرآباد کی جنگ میانی میں خدمات کے لئے اس کا نام کیپٹن جیمزآو ٹرم کے نام رکھا گیا تھا۔ برطانوی حکمرانی کے دوران اس شہر کا نام جیمس آبادرکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے اسے سامارو کہا جاتا تھا۔جمسک آباد کا تعلقہ ممبئی پریزیڈنسی کا حہّا تھا اس تعلقہ میں 184 دیہات میں جن میں سے جیمس آباد ہیڈکوارٹر تھا۔جس میں زمین کی آمدنی اوسیز کی مقدار 370000 تھی۔جمسی آباد کا نام حکومت سندھ نے غلام محمد خان برگڑی کے بعد اس سرکاری سطح پر استعلقہ کا نام کوٹ غلام محمدبھرگڑی رکھ دیا ہے۔ غلام محمد خانبھرگڑی پاکستان کے علمبردار آزادی میں شامل تھے۔اور بانی پاکستان محمد علی جناح کے قریبی دوست تھے۔
کوٹ غلام محمد بھرگڑی ضلع میرپورخاص کا ایک اہم اور سب سے بڑا تعلقہ ہے۔اور یہ میرپورخاص سے 30 میل دوری پر ہے۔کوٹغلام محمد شہر میں ایک گورنمنٹ بوائز ہائیر سکینڈری اسکول ایک گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول ہیاور نجی سیکٹر میں غزالی ویژن ہائر سیکنڈری اسکول ہیں اس کے علاوہ کافی مقدار میں پرائیوٹ اسکول بھی موجوہیں کوٹ غلام محمد میں ہیڈکوارٹر ہسپتال بہت سی ڈسپنسریوں اور بنیادی صحت یونٹ پورے قصبے کے علاقوں کی صحت کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ کوٹ غلام محمد کیکل آبادی ایک لاکھ اناسی ہزار آٹھ ہے۔کوٹ غلام محمد بھرگڑی ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ جہاں مختلف کمیونٹیز رہائش پذیر ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی زبانیں بولتے ہیں اور ہر ایک شخص آپس میں ایک دوسرے کو بہت عزت دیتیہیں۔کوٹ غلام محمد کی اکثریت آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جن کو روزگار کے مواقع کے وسائل کی کمی ہے۔ لہذا زراعت اور دیگر موسمی فصوشں کے ساتھ منسلک ہے۔ یہاں معاشی طور پر عام لوگوں کی حثیت غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔کوٹ غلام محمد ڈگری بحیثیت بنیادی طور پر زراعت مویشیوں اورزرعی کاروبار یازرعی صنعتوں پر مبنی ہے۔کپاس،گندم، گنے،آم، کیلا،ڈنڈی،مرچ اور ٹماٹر جیسی فصلیں زرعی مصنوعات ہے اہم صنعتیں زراعت پر مبنی ہی۔ قصبے میں شوگرمل،روئی کی فیکٹریاں ہیں۔ تررپارکر شوگر مل لمیٹڈ کوٹ غلام محمد بھرگڑی قیای میں واقع ہے۔
قصبے میں معروف زرعی فارم ہیں کھچلو کھیتوں کوآموں کے بادشاہ کے نام سے جانا جاتا ہے کھچلو فارم کے آم بہت مشہور ہیں اور پہلے نمبر پہ ہیں۔کھچلو کے بعد خیر محمد خان بھرگڑی کے آم کے فارم کوٹ غلام محمد بھرگڑی کے ایک اور کا شکار جس نے مختلف قسم کی نشونما کی ہے جس سے ایسا پھل ملے گا جو پھل اور فصل کی کٹائی کے موسم کو بڑھا دے گا۔ کوٹ غلام محمد کی مشہور سوغات میں سے آم ایک مشہور سوغات ہے۔ کوٹ غلام محمد بھرگڑی کی ایک اور سوغات چیکو اور آم کا جوس ہے جو کہ(ٹو -ان -ون) کے نام سے مشہور ہے۔ لوگ دور دورسے یہاں پینے آتے ہیں اس جوس کی آزاد جوس کے نام سے کوٹ غلام محمد بھرگڑی میں بہت مشہوردوکان ہے کوٹ غلام محمد بھرگڑی میں حال ہی میں سوئی سدرنگیس کمپنی کے ذریعہ رہاشیقدرتی گیس کے ساتھ نصب کیا گیا ہے۔ کوٹ غلام محمدبھرگڑی کے لوگوں کو سوئی گیس کیسہولیت کی وجہ سے بہت آرام ہے۔ کوٹ غلام محمد میں الیکٹرک پاور ہاؤس اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی تقسیم کار کمپنی حیسکو حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی بجلی فراہم کرتی ہے۔کوٹ غلام محمد بھرگڑی پاکستان ریلوے کی اپنی ریلوے اسٹیشن پروپرٹی بھی ہے اور پاکستان ٹیلیمواصلات کمپنی لمیٹڈ لینڈ لائن فونز اور وائرلیس فون بھی مہیا کرتی ہے (موبلنک، ٹیلی نور، یوفون،زونگ، وارد پاکستان) سیلولر نیٹ ورک آپریٹرز بھی موجود ہیں۔
کوٹ غلام محمد بھرگڑی کے علاقے کیپہلے صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے مرحوم میر خدابخش اور پھر اس بعد مرحوم میراللہ دات تالپور آئے اور اب کوٹ غلام محمد بگڑی کے صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں رئیس نوراحمد خانبھرگڑی اور اس سے پہلے جمیل احمد خان بھرگڑی تھے اور قومی اسمبلی کے ممبر میر منورعلی تالپور ہیں۔کوٹ غلام محمد کے لوکل بورڈ کے چیئرمین مرحوم رئیس خیر محمد خان بھرگڑی تھے اور کوٹ غلام محمد بھرگڑی کے سابق تعلقہ ناظم رئیس عارف خان بھرگڑی ہیں۔ کوٹ غلام محمد بھرگڑی کی کورٹ میں 1969 میں پہلا قادیانیوں کا کیس داخل ہوا تھا جس میں جج نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔
یہ واقعہ یحیی خان کے دور حکومت کے دوران 1969 کا کنری میں ایک قادیانی زمیندار (جس نے اپنے عقائد پوشیدہ رکھے ہوئیتھے)کیپاس مسلمان ہاری تھا جس پر زمیندار کا کافی قرض تھا۔ اُس ہاری کیایک خُوش شکل نوجوان بیٹی تھی زمیندار کی نیت خراب ہوئی اس نے ہاری سے اپنے قرضے کی فوری واپسی کا تقاضہ کیا نہ دینے کی صُورت میں اُسکی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا لاچار ماں باپ نے رشتہ دے دیا ہاری صحیح العقیدہ مُسلمان تھا کُچھ دنوں بعد اُسکے سامنے ایسے معاملات آئے کہ اُسے زمیندار کے عقائد پر شُبہ ہوا اُس نے زمیندار سے ان معملات پر کُھل کر بات کی تو اُسے کنفرم ہوگیا کہ زمیندار ختم المُرسلیں رحمت اللعالمینؐکو آخری نبیؐ نہیں مانتا اسے بڑی تشویش ہوئی اُس ہاری کا سُسرال تعلقہ کُوٹ غلام محمد (اُس وقت شہر کا نام جیمس آباد تھا) کے ایک گاؤں مہر مُحمد بُوٹا میں رہائش پذیر تھے۔ ہاری نے اُن کو حقیقت بتائی اُس ہاری کے سالوں نے جیمس آباد کی سول کوٹ (جج بنام غالباً مُحمد رفیق گورایہ مُلتانی جو کہ بعد میں شریعی عدالت کے بھی جج بنے) میں اس شادی کے خلاف کیس دائر کر دیا۔ اس کیس کی ہیرنگ کے دوران کافی بڑے لوگ جو قادیانی تھے اس کیس میں انوال ہوئے ایم ایم احمد قادیانی اُس وقت پاکستان نیوی میں ایڈمرل تھے قادیانیوں کی جانب سے بڑے پائے کے وکیل کھڑے کئیے گئے اس وقت جیمس آباد کے شہریوں نے مُکمل ہاری کی فیملی کو سپورٹ کیا۔ بل آخر کیس کا فیصلہ جج مُحمد رفیق گورایہ صاحب نے سُنا دیا کہ زمیندار کے مذہبی عقیدے کے مُطابق مُسلمان نہیں اور لڑکی مُسلمان ہے تُو یہ شادی نہیں ہو سکتی اُس پہلی بار جیمس آباد شھر میں قادیانی لوگوں کی اعلحیٰدہ شناخت ہوئی۔
وزیراعظم ذُوالفقار علی بُھٹو کے دُور میں جب اسیمبلی میں قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی یہ قرارداد پیش کی گئی تُو اُس دُوران ہمارے شہر کوٹ غلام مُحمد (جیمس آباد) میں ایک دن سیکیورٹی فورسز کی کافی بڑی تعداد بکتر بند گاڑی کے ساتھ سول کورٹ جیمس آباد پہنچی زمیندار اور ہاری والے اس کیس کا تمام ریکارڈ یہاں سے اٹھا کر اسلام آباد شفٹ کیا گیا جس پَل سے جِس نے ختم نبوتؐ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانا وُہ شخص اُس پَل سے ہی بدترین کافر قرار دے دیا گیا۔کوٹ غلام محمد بھرگڑی بہت ہی خوبصورت شہر ہے۔ یہاں کے روڈ بھی بہت صاف ستھرے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگ چاہے پنجابی ہو، سندھی یا پھر قائمخانی کسی بھی زبان کے لوگ ہوں آپس میں بہت مل جل کر رہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment