Sadia Shamim Profile
پروفائل
سعدیہ شمیم
2k17-mc-79
مقبول اپنے کام سے بھی مقبول ہے
ہمارے ہاں کسی بھی معذور کو بے چارہ نہیں بلکہ ناکارہ سمجھنے لگتے ہیں۔اگر کوئی کسی حادثے یا بیماری کا شکار ہو کر معذورہوجائے تو معاشرے کے افراد یہ نہیں سوچتے کہ اس معذور کا دل،اس کا ذہن پہلے کی طرح کام کررہے ہوتے ہیں،اسکا ایک عضو معذور ہوتا ہے اس کے جذبات و احساسات معذور نہیں ہوتے،اس کی سوچیں ناکارہ نہیں ہوتی،اس کی خواہشات اس کی تمنائیں،اسکے ارمان مبتلائے عذر نہیں ہوتے۔بدقسمتی سے ان مجبوروں کو احساس دلایا جاتا ہے کہ تم ہم جیسے ’خودکار،خود انحصاراور خود مختار‘ قسم کے انسان نہیں بلکہ اس کرہ ارض پر بوجھ ہو۔
لیکن ہم انسان کسی حال میں خوش نہیں،اللہ کی ہزار نعمتوں کے باوجود بھی ناشکرا ہے،وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو معذوری کے باوجودبھی خوش ہیں اور عزت سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ایسا ہی ایک باہمت شخص جو اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے اور روٹی کے لیے برسوں اپنے پُرانے کام کو جاری رکھا ہوا ہے یہ کوئی نوجوان شخص نہیں جیسے معذوری میں ایسے کام کرتے دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی بلکہ ایک ۶۵ سال کے مقبول نامی شخص کی بات کر رہی ہوں۔جنہیں میں بچپن سے دیکھ رہی ہوں اسی پرانی خستہ حالی گاڑی میں علاقے مکین کو سبزی پہنچاتے ہیں جس میں آلو کے بھاری بورے سے لیے کرہر قسم کی سبزی ٹھیلے اور دوکاندار کو پہنچاتے ہے۔
اتفاق کی بات تھی میں گھر کی طرف آرہی تو میں نے انکی گاڑی دیکھی پھر انہیں دیکھا تو میرا دل چاہا کہ چاچا سے بات کی جائے جب میں ان سے بات کرنے کے لیے گئی انکی گاڑی کے پاس پہنچی تو حیران ہوگئی کہ چاچا اب معذور ہوگئے ہے انکے سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی ہی نہیں ہے جب میں نے انکی معذوری کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ۱۰ برس قبل جب اس گاڑی سے میرے گھر کا خرچہ پورا نہیں ہوتا تھا تو میں نے اس گاڑی کو ایک جگہ کھڑا کر دیا اور ایک فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیا گھر آنے کے بعد کسی کا سامان پہنچانا ہوتا تھا وہ کرتا ورنہ فیکٹری کی مزدوری سے میں اپنے گھر کا خرچہ پورا کرتا تھا۔۔۔لیکن بدقسمتی سے ایک روز میرا ہاتھ مشین میں آگیا اور میں معذوری کا شکار ہوگیا۔معذوری کے بعد فیکٹری والے نے تو نہیں رکھا البتہ میں نے اپنا پُرانا کام شروع کردیا،اپنی گاڑی کی صفائی کی اور روزی کمانے نکل گیا۔کیوں کہ ٓاج کا دور ایسا آگیا کہ میرے اولاد نے بھی سہارا نہیں دیا،اور پھر میری بیٹی بھی اپنے گھر کی نہیں ہوئی تو میرا کام نہ کرنا گھر میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔اسلیے میں نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں سمجھا،بھیک نہیں مانگی نہ ہی گھر بیٹھ گیا بلکہ ہمت کا مظاہرہ کیا اور باعزت وروزگار کمارہا ہوں اِس کے ساتھ ساتھ اپنی ایک بچی کو تعلیم بھی دلوارہا ہوں اور گھر کی کفالت بھی کر رہا ہوں۔۔۔۔۔میں اتنا ہی کہوں گا کہ
انسان کو اپنی معذوری کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بنانا چاہیے بلکہ اُس معذوری کو طا قت بنا کر زندگی گزارنی چاہیے۔
Comments
Post a Comment